🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. في الأخذ على الرقية من رخص (فيه)
دم پر کچھ (عوض) لینے میں اجازت دینے والوں کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24052 ترقیم الشثری: -- 25132
٢٥١٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن زكريا عن عامر قال: حدثني خارجة بن الصلت (ان عمه) (١) اتى النبي ﷺ، فلما رجع مر على اعرابي مجنون موثق في الحديد، فقال بعضهم: اعندك شيء تداويه به؟ فإن صاحبكم قد (جاء) (٢) بخير، فرقيته بام القرآن ثلاثة ايام، كل يوم مرتين، فبرا، فاعطوني مائة شاة، فلما قدمت اتيت النبي ﷺ فاخبرته فقال:"اقلت غير هذا؟" قلت: لا، قال:"كلها بسم الله، فلعمري لئن (اكل) (٣) برقية باطل، لقد ⦗١٦٢⦘ اكلت برقية حق" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أنه)، وفي [ز]: (أن عن).
(٢) في [جـ]: (جاءكم).
(٣) في [هـ]: (أكلت).
(٤) حسن؛ خارجة بن الصلت صدوق، أخرجه أحمد (٢١٨٣٥)، وأبو داود (٣٨٩٦)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٣٢)، وابن حبان (٦١١١)، والحاكم ١/ ٥٥٩، والطبراني ١٧/ ٥٠٩، والطحاوي ٤/ ١٢٦، وابن الأثير ٦/ ٣٦٧، والمزي ٨/ ١٤، وابن السني (٦٣٠)، والطيالسي (١٣٦٣)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩١.

حضرت خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر جب وہ واپس ہوئے تو ان کا گزر ایک ایسے دیہاتی پر ہوا جس کو بیڑیوں میں جکڑا ہو اتھا کچھ لوگوں نے (ان کے چچا سے) کہا۔ کیا تمہارے پا س کوئی ایسی چیز ہے۔ جس کے ذریعے تم اس کا علاج کرسکو؟ کیونکہ تمہارا ساتھی (مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیر کی بات لے کر آیا ہے۔ پس میں نے اس دیہاتی کو تین مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کردو دن مسلسل دم کیا تو وہ صحت یا ب ہوگیا۔ اس پر ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں عطیہ میں دیں۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”کیا تم نے اس کے علاوہ کچھ پڑھا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا: ”ان بکریوں کو کھاؤ، بسم اللہ کرو۔ میری عمر کی قسم! جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ کھایا (سو کھایا) لیکن تم یقینا برحق تعویذ کے ذریعہ کھاؤ گے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25132، ترقيم محمد عوامة 24052)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24053 ترقیم الشثری: -- 25133
٢٥١٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن جعفر بن (١) إياس عن ابي نضرة عن ابي سعيد قال: بعثنا النبي ﷺ (٢) ثلاثين راكبا في سرية، (قال) (٣) : فنزلنا بقوم فسالناهم (القرى) (٤) ، فلم يقرونا، (قال) (٥) : فلدغ سيدهم، قال: فاتونا، فقالوا: افيكم احد (يرقي) (٦) من العقرب؟ قال: قلت: نعم (انا) (٧) ، ولكن لا ارقيه حتى (تعطونا) (٨) غنما، (قال) (٩) : فقالوا: (إنا) (١٠) (نعطيكم) (١١) ثلاثين شاة، قال: فقبلنا، قال: فقرات (١٢) (فاتحة) (١٣) ⦗١٦٣⦘ (الكتاب) (١٤) سبع مرات، قال: فبرا (١٥) ، فقلنا لا تعجلوا حتى تاتوا رسول الله ﷺ قال: فلما قدمنا عليه، قال: فذكرت له الذي صنعت قال:"او ما علمت انها رقية، اقسموا الغنم، واضربوا لي معكم بسهم" (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [جـ]: ﵇.
(٣) في [ز]: (فقال).
(٤) في [ط]: (القرآن).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [جـ]: (يرق).
(٧) ساقطة في: [ط].
(٨) في [ح]: (يعطونا).
(٩) سقط من: [جـ].
(١٠) في [جـ، ز]: (فإنا).
(١١) في [جـ]: (نطعمكم).
(١٢) في [هـ]: زيادة (عليه).
(١٣) في [ط، هـ]: (الفاتحة).
(١٤) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١٥) في [هـ]: زيادة (وقبضت الغنم فعرض في أنفسنا منها شيء).
(١٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٧٦)، ومسلم (٢٢٠١).

حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک سریہ میں بھیجا۔ فرماتے ہیں: پس ہم کچھ لوگوں کے پاس اترے اور ہم نے ان سے مہمان نوازی کا کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ کہتے ہیں (اسی دوران) ن کے سردار کو ڈسا گیا۔ چناچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو بچھو کو دم کرسکتا ہو؟ ابو سعید کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں۔ لیکن اسکو تب تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں بکریاں نہ دو۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ ہم آپ لوگوں کو تیس بکریاں دیں گے۔ کہتے ہیں۔ (اس سے) وہ صحت یاب ہوگیا تو ہم نے (آپس میں) کہا۔ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کیا تھا اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو جانتا تھا کہ یہ دم (بھی) ہے؟ بکریاں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25133، ترقيم محمد عوامة 24053)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24054 ترقیم الشثری: -- 25134
٢٥١٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس بن ابي حازم قال: اتى رسول الله ﷺ (رجل) (١) فقال: إني رقيت فلانا وكان به جنون، فاعطيت قطيعا من غنم، وإنما رقيته بالقرآن، فقال: رسول الله ﷺ:"من اخذ برقية باطل فقد اخذت برقية حق" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (رجلًا).
(٢) مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي.

حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے فلاں شخص کو دم کیا تھا اور اس آدمی کو جنون تھا۔ مجھے (عوض میں) بکریوں کا ایک ریوڑد یا گیا ہے۔ جبکہ میں نے صرف قرآن مجید کے ذریعہ سے دم کیا تھا۔ تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ لیا (تو وہ جانے) لیکن یقینا تو نے تو برحق تعویذ دم پر لیا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25134، ترقيم محمد عوامة 24054)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24055 ترقیم الشثری: -- 25135
٢٥١٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: اخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة، قال: خرجت مع رسول الله ﷺ (في سفر) (١) حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامراة جالسة، (و) (٢) معها صبي لها، فقالت: يا رسول (الله) (٣) (إن) (٤) ابني هذا به بلاء، واصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا ادري كم مرة؟ فقال:" (ناولينيه) (٥) "، فرفعته إليه، فجعله بينه وبين ⦗١٦٤⦘ واسطة (الرحل) (٦) ، ثم (فغرفاه) (٧) ثم نفث فيه ثلاثا:"بسم الله انا عبد الله (اخسا) (٨) عدو الله"، ثم ناولها إياه، ثم قال: القينا في الرجعة في هذا المكان فاخبرينا ما فعل؟ قال: فذهبنا ثم رجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه (ثلاث) (٩) ، فقال:"ما فعل صبيك؟" (فقالت) (١٠) : والذي بعثك بالحق (١١) (ما احسسنا) (١٢) منه بشيء حتى (١٣) هذه الساعة، فاجترز هذه الغنم، قال: انزل فخذ منها واحدة ورد البقية (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز]، وفي [جـ]: (في سفره).
(٢) سقطت (الواو) من: [أ، هـ].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [أ، جـ، ح، ز].
(٥) في [أ، ط]: (ناولينه)، وكذلك في: [جـ].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (الرجل).
(٧) في [ط]: (نغرفان)، وفي [ط]: (نغرفاه).
(٨) في [ط، ح، هـ]: (أخس).
(٩) في [أ، ح، ز، ط]: (ثلاثة).
(١٠) في [ز]: (قالت).
(١١) سقط من: [ح] (ما).
(١٢) في [جـ]: (أحسسنا).
(١٣) زائدة من: [هـ].
(١٤) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عبد العزيز، أخرجه أحمد (١٧٥٤٨)، وعبد بن حميد (٤٠٥)، ووكيع في الزهد (٥٠٨)، وهناد في الزهد (١٣٣٨)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٢١.

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں گیا یہاں تک کہ جب ہم راستہ کے درمیان ہی میں تھے تو ہمارا گزر ایک ایسی عورت پر ہو اجو بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے ہمراہ اس کا ایک بچہ تھا۔ اس عورت نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا یہ بچہ ہے اور اس کو کوئی بلاء ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی تکلیف ہے۔ نامعلوم دن میں کتنی مرتبہ اس کو وہ بلاء تنگ کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ بچہ مجھے پکڑاؤ۔“ چناچہ عورت نے وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کو اپنے اور سواری کے کجاوہ کے درمیان بٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ یہ الفاظ کہہ کر پھونکے: ”اللہ کے نام سے، میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا دفع ہوجا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑا دیا اور فرمایا: ”ہمارے اس جگہ واپسی پر تم ہمیں ملو اور بتاؤ کیا ہوا؟“ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم وہاں سے چل پڑے پھر ہم جب لوٹے تو ہم نے اس عورت کو اسی جگہ پایا اور اس کے ساتھ تین بکریاں بھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے بچہ کا کیا بنا؟“ اس عورت نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ ہم نے ابھی تک اس بچہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی ہے۔ پس آپ یہ بکریاں لے لیں اور ذبح کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اُترو! اور ان میں سے ایک بکری لے لو اور باقی بکریاں واپس کردو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25135، ترقيم محمد عوامة 24055)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24056 ترقیم الشثری: -- 25136
٢٥١٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: لا رقية إلا (مما) (٢) اخذ سليمان (منه) (٣) الميثاق (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ، ط]: (ما).
(٣) في [هـ]: (عليه).
(٤) مجهول؛ لجهالة عمارة بن عبد، وأخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (٢٤٧٨).

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کے سوا جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے میثاق لیا تھا کسی سے دم، تعویذ جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25136، ترقيم محمد عوامة 24056)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں