مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
27. من رخص في الرقية من العين
جو لوگ نظر کے دم کی اجازت دیتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 24057 ترقیم الشثری: -- 25137
٢٥١٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة الزرقي قال: قالت اسماء لرسول الله ﷺ: إن بني جعفر تسرع إليهم العين، فاسترقي لهم من العين؟ قال:"نعم، فلو (كان) (١) شيء سابق القدر لسبقته العين" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (كانت).
(٢) مرسل؛ عبيد تابعي، أخرجه أحمد (٢٧٤٧٠)، والترمذي (٢٠٥٩)، وابن ماجه (٣٥١٠)، والحميدي (٣٣٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣١٤٦)، والطبراني (٢٤/ [٣٧٩])، والبيهقي (٩/ ٣٤٨)، والبغوي (٣٢٤٣)، والنسائي في الكبرى (٧٥٣٧)، والطحاوي (٤/ ٣٢٧)، وابن عدي (٤/ ١٥٧٥).
حضرت عبید بن رفاعہ زرقی سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ تو کیا میں ان کو نظر کا دم، تعویذ کر وا لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت پاتی تو نظر ہی تقدپر پر سبقت پاتی۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25137، ترقيم محمد عوامة 24057)
ترقیم عوامۃ: 24058 ترقیم الشثری: -- 25138
٢٥١٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن نافع عن سليمان بن يسار ان عروة بن الزبير اخبره ان رسول الله ﷺ دخل بيت ام سلمة فإذا صبي في البيت يشتكي، فسالهم (عنه) (١) فقالوا: نظن ان به العين، فزعم ان رسول الله ﷺ قال:" (الا) (٢) (تسترقون) (٣) له من العين" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، ح، ط]: (لا)، وفي [هـ]: (أن).
(٣) في [أ، ح، ز]: (تسترقوا).
(٤) مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه مالك في الموطأ ٢/ ٩٤٠ (١٦٨١) بدون ذكر نافع مع ثبوت رواية يحيى عنه وثبوت روايته عن سليمان بن يسار، وقد ورد الخبر من حديث عروة عن أم سلمة أخرجه أبو يعلى (٦٨٧٩)، والطبراني ٢٣/ (٥٦٨)، وابن السني (٥٧١)، كما ورد من حديث عروة عن زينب عن أم سلمة، أخرجه البخاري (٥٧٣٩)، ومسلم (٢١٩٧).
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں ایک بچہ کو دیکھا جس کو تکلیف تھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر والوں سے اس کے بارے میں پوچھا؟ لوگوں نے بتایا کہ ہمارے خیال میں اس کو نظر لگ گئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو نظر کا دم کیوں نہیں کروایا؟“۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25138، ترقيم محمد عوامة 24058)
ترقیم عوامۃ: 24059 ترقیم الشثری: -- 25139
٢٥١٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن ⦗١٦٦⦘ عبد الله بن ابي نجيح عن عبد الله بن (بابيه) (١) مولى جبير بن مطعم قال: قالت اسماء بنت (عميس) (٢) : قلت: يا رسول الله إن العين (تسرع) (٣) إلى بني جعفر فاسترقي لهم؟ قال:"نعم فلو قلت لشيء: (يسبق) (٤) القدر (لقلت) (٥) : إن العين تسبقه" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (ثابتة)، وفي [هـ]: (ثابت).
(٢) في [ز]: (عميش).
(٣) في [ط]: (لتسرع).
(٤) في [جـ]: (ليسبق).
(٥) في [ط، هـ]: (قلت).
(٦) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه الطحاوي ٤/ ٣٢٧، والطبراني ٢٤/ (٣٧٧)، وانظر: مسند أبي حنيفة ص ١٨١، وما تقدم برقم [٢٥١٣٧].
حضرت جبیر بن مطعم کے آزاد کردہ غلام، عبد اللہ بن بابیہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس بتاتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اور اگر مں کہتا کہ کوئی چیز تقدیر پر بھی سبقت پاسکتی ہے تو میں کہتا کہ نظر، تقدیر پر سبقت پاسکتی ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25139]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25139، ترقيم محمد عوامة 24059)
ترقیم عوامۃ: 24060 ترقیم الشثری: -- 25140
٢٥١٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معاوية بن (هشام) (١) قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (٢) عن عبد الله بن عيسى عن امية بن هند عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن ابيه قال: (انطلقت) (٣) انا وسهل بن حنيف نلتمس الخمر (٤) ، فوجدنا خمرا (و) (٥) غديرا، وكان احدنا يستحي ان يغتسل واحد (يراه) (٦) ، فاستتر مني حتى إذا راى (ان) (٧) قد فعل نزع جبة عليه من كساء، ثم دخل الماء، فنظرت إليه فاعجبني ⦗١٦٧⦘ خلقه، (فاصبته) (٨) (منها) (٩) بعين، (فاخذته) (١٠) (قفقفة) (١١) وهو في الماء، فدعوته فلم (يجبني) (١٢) فانطلقت إلى النبي ﷺ فاخبرته الخبر، فقال: رسول الله ﷺ (١٣) :" (قوموا) (١٤) فاتاه"، فرفع (عن) (١٥) ساقه ثم ادخل إليه الماء، فلما اتاه ضرب صدره ثم قال:"اللهم اذهب حرها وبردها و (وصبها) (١٦) "، ثم قال:"قم"، فقام، فقال: رسول الله ﷺ:"إذا راى احدكم من نفسه او ماله او اخيه (١٧) فليدع بالبركة فإن العين حق" (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (همام).
(٢) في [هـ]: (زريق)، وفي [ز]: (رزين).
(٣) في [ط]: (انطلق).
(٤) أي: الأشجار الساترة ونحوها.
(٥) في [جـ، ز]: (أو).
(٦) في [ط]: (يرانا).
(٧) سقط من: [ط].
(٨) في [ز]: (فأصبتها).
(٩) في [ز]: (منه).
(١٠) سقط من: [أ، ح، ط].
(١١) في [أ، ح]: (فتطعمه)، وفي [ط]: (معطمه)، وفي [هـ]: (قعقعة).
(١٢) في [ط]: (يجبلي).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) في [ح]: (قوموه).
(١٥) في [ط]: (من).
(١٦) في [ط]: (وجهها).
(١٧) في [هـ]: زيادة (ما يعجبه).
(١٨) مجهول؛ لجهالة أمية بن هند، أخرجه أحمد (١٥٧٠٠)، والنسائي في الكبرى (٧٥١١)، وابن ماجه (٣٥٠٦)، وأبو يعلى (٧١٩٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٩٠١)، وابن السني (٢٠٦)، والحاكم ٤/ ٢١٥، والبخاري في التاريخ ٢/ ٩.
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور سہل بن حنیف چلے اور ہم کسی اوٹ کی تلاش میں تھے۔ چناچہ ہم نے کوئی اوٹ یا کنواں پایا اور ہم میں سے ہر ایک اس بات سے شرماتا تھا کہ وہ غسل کرے اور اسے کوئی دیکھے۔ چناچہ انہوں نے میرے آگے پردہ کیا یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ میں غسل کرچکا ہوں تو انہوں نے وہ چادر کا جبہ اتار دیا جو انہوں نے پہنا ہوا تھا۔ اور پھر وہ پانی میں داخل ہوگئے۔ پس میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے ان کی ساخت بہت خوبصورت لگی جس کی وجہ سے انہں امیری نظر لگ گئی۔ پس انہوں نے پانی میں ہی خوب کپکپانا شروع کیا۔ میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (سہل) کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پنڈلی مبارک سے (کپڑا) اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف پانی میں داخل ہوگئے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ پر مارا اور پھر فرمایا: ”اے اللہ! اس کی سردی، گرمی اور درد کو دور کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھ کھڑا ہو“ چناچہ وہ کھڑے ہوگئے، اس پر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے آپ یا اپنے مال یا اپنے بھائی سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کو بہت پیاری لگے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ نظر برحق ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25140]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25140، ترقيم محمد عوامة 24060)
ترقیم عوامۃ: 24061 ترقیم الشثری: -- 25141
٢٥١٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن ابي ذئب عن الزهري عن ابي امامة بن سهل (بن حنيف) (١) عن ابيه ان عامرا مر به وهو يغتسل ⦗١٦٨⦘ فقال: ما رايت كاليوم (قط) (٢) ولا جلد (مخباة) (٣) ، (فلبط) (٤) به حتى ما يعقل (لشدة) (٥) الوجع، فاخبر بذلك النبي ﷺ، (فدعاه النبي) (٦) ﷺ (٧) (فتغيظ) (٨) عليه، وقال:" (قتلته) (٩) (علا ما) (١٠) يقتل احدكم اخاه؟ الا بركت؟"، فامر النبي ﷺ (بذلك) (١١) فقال:"اغسلوه"، فاغتسل فخرج مع (الركب) (١٢) (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) زيادة في: [جـ، ز].
(٣) في [أ، ح، ط]: (محناه).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فليط).
(٥) في [ط]: (بشدة).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) سقط من: [ز، ط].
(٨) في [أ، ح]: (فتغيظه).
(٩) في [ط]: (قتيبة).
(١٠) في [جـ]: (على م)، وفي [أ، هـ]: (على م).
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) في [ط]: (الركبا).
(١٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٩٨٠)، والنسائي في الكبرى (٧٦١٨)، وابن ماجه (٣٥٠٩)، ومالك ٢/ ٩٣٩، والطحاوي في شرح المشكل (٢٨٩٥)، وعبد الرزاق (١٩٧٦٦)، وابن السني (٢٠٤)، والطبراني (٥٥٧٥)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ١٦٣، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٤٢، وابن حبان (٦١٠٦)، والحاكم ٣/ ٤١٠.
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر، سہل کے پاس سے گذرے جبکہ سہل غسل کر رہے تھے۔ حضرت عامر نے کہا۔ میں نے آج کے دن (دکھائی دینے والے شخص کی طرح کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس قدر سفید چمڑی دیکھی۔ پس (اتنے میں) حضرت سہل زمین پر گرگئے۔ یہاں تک کہ بوجہ شدت تکلیف کے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر کو بلایا اور ان پر غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا: ”تم نے اس کو قتل کردیا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرتا ہے؟ تم نے اس کے لئے دعائے برکت کیوں نہیں کی؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (عامر) کو حکم دیا اور فرمایا۔ ”اس کو غسل دو“ چناچہ انہوں نے غسل کیا اور قافلہ کے ہمراہ چلے گئے۔ حضرت زہری فرماتے ہیں۔ علم کی بات یہ ہے کہ غسل وہ شخص کرتا ہے جس نے نظر لگائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک پیالہ میں پانی لایا جائے اور پھر یہ اس پیالہ میں دھوئے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالے اور پھر اپنا بایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی دائیں کہنی پر پانی ڈالے اور دایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی بائیں کہنی پر پانی ڈالے پھر اپنا دایاں قدم دھوئے پھر اپنا دایاں ہاتھ دھوئے پھر اپنا بایاں قدم دھوئے۔ پھر دایاں ہاتھ ڈالے اور دونوں گھٹنے دھوئے۔ اور اس کے ازار کو پکڑ لے اور اس کے سر پر ایک ہی مرتبہ یہ پانی انڈیل دے۔ پیالے کو خالی ہونے تک انڈیلے رکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25141]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25141، ترقيم محمد عوامة 24061)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 25142
٢٥١٤٢ - وقال الزهري: (إن) (١) هذا من العلم، (تغسل) (٢) الذي عانه، قال: يؤتى بقدح (من) (٣) ماء فيدخل يده في القدح فيمضمض ويمجه في القدح، ⦗١٦٩⦘ ويغسل وجهه في القدح، ثم (يصب) (٤) بيده اليسرى على كفه اليمنى، ثم بيده اليمنى على كفه اليسرى، ويدخل يده (اليسرى) (٥) فيصب على مرفق يده اليمنى [وبيده اليمنى على مرفق يده اليسرى، ثم يغسل قدمه اليمنى ثم يغسل يده اليمنى] (٦) ، فيغسل (قدمه) (٧) اليسرى، ثم (يدخل) (٨) (يده) (٩) اليمنى فيغسل الركبتين، وياخذ (داخلة) (١٠) إزاره فيصب على راسه صبة واحدة، ولا (يدع) (١١) القدح حتى يفرغ.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز]: زيادة (إن).
(٢) في [هـ]: (يغسل له)، وفي [أ، ح، ط]: (غسل له).
(٣) في [أ، ح، ز]: زيادة (من).
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (يصيب).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٧) في [أ، هـ]: (يده).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقطت من: [جـ، ز].
(١٠) في [جـ، ز]: (يدخله)، في [هـ]: (داخل).
(١١) في [ز]: (يضع).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25142، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 24062 ترقیم الشثری: -- 25143
٢٥١٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (محمد بن) (١) عبد الله قال: حدثنا سفيان عن الاعمش عن إبراهيم (٢) عن عائشة انها كانت تامر (العاين) (٣) ان يتوضا (فيغسل) (٤) الذي اصابته العين (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (عن الأسود).
(٣) في [أ، جـ، ز]: (المعين)، وفي [ط]: (معين)، وفي [ح]: (العين).
(٤) في [جـ، ز]: (فيغتسل).
(٥) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عائشة.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نظر لگانے والے کو حکم دیتی تھیں کہ وہ وضو کرے اور پھر جس کو نظر لگی ہے اس کے بچے ہوئے پانی سے اسے غسل دیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25143]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25143، ترقيم محمد عوامة 24062)
ترقیم عوامۃ: 24063 ترقیم الشثری: -- 25144
٢٥١٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا احمد بن إسحاق قال: حدثنا وهيب عن ابن طاوس عن ابيه عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"العين حق، وإذا استغسل (١) (فليغتسل) " (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أحدكم).
(٢) في [ز]: (فلتغتسل).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٨٨)، والنسائي في الكبرى (٧٦٢٠)، والترمذي (٢٠٦٢)، وابن حبان (٦١٠٧).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر برحق ہے اور جب کسی کو نظر کی وجہ سے غسل کرنے کا کہا جائے تو اس کو غسل کرنا چاہیے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25144]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25144، ترقيم محمد عوامة 24063)