🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. في المريض ما يرقى به وما يعوذ به؟
مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24034 ترقیم الشثری: -- 25114
٢٥١١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن (عبيد الله) (١) عن زياد بن ثويب عن ابي هريرة قال: دخل علي رسول الله ﷺ وانا اشتكي، فقال: (الا) (٢) ارقيك برقية علمنيها جبريل"بسم الله ارقيك، (والله) (٣) يشفيك، من كل (ارب) (٤) يوذيك، ومن شر النفاثاث في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ط]: (لا).
(٣) في [ز]: (وبسم اللَّه).
(٤) في [ط]: (رب).
(٥) مجهول؛ لجهالة زياد بن ثويب، أخرجه أحمد (٩٧٥٧)، وابن ماجه (٣٥٢٤)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٤١)، والحاكم ٢/ ٥٤١، والمزي ٩/ ٤٣٨، والطبراني في الدعاء (١٠٩٦).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ مجھے کوئی تکلیف تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں اس رقیہ کے ذریعہ دم نہ کروں جو مجھے جبرائیل نے سکھایا تھا، اللہ کے نام سے میں تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہں شفاء دے ہر اس مصیبت سے جو تمہیں اذیت دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25114، ترقيم محمد عوامة 24034)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24035 ترقیم الشثری: -- 25115
٢٥١١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد ربه (عن) (١) عمرة عن عائشة ان رسول الله ﷺ (كان) (٢) مما يقول للمريض (ببزاقه) (٣) بإصبعه:"بسم الله (بتربة) (٤) ارضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أن).
(٢) في [ز]: (سقطت).
(٣) في [ط]: (مرامه).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (تربة).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٤٦)، ومسلم (٢١٩٤).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کے لیئے (بطور دم) جو پڑھتے تھے اس میں یہ الفاظ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تھوک کو انگلی کے ساتھ لگا کر کہتے تھے۔: اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے بعض کی تھوک کے ساتھ مل کر ہمارے پروردگار کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفا دیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25115، ترقيم محمد عوامة 24035)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24036 ترقیم الشثری: -- 25116
٢٥١١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يعوذ بهذه الكلمات:"اذهب ⦗١٥٣⦘ (الباس) (١) رب الناس، واشف وانت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك (شفاء) (٢) لا (يغادر) (٣) سقما"، قالت: فلما ثقل رسول الله ﷺ (٤) في مرضه الذي مات فيه اخذت بيده فجعلت امسحها واقولها، قالت: فنزع يده من يدي وقال:"اللهم اغفر لي والحقني (بالرفيق) (٥) (الاعلى) (٦) " قالت: فكان (هذا) (٧) آخر (ما) (٨) سمعت من كلامه (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الناس).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ط]: (يغار).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ز]: (بالرفيع).
(٦) سقط من: [جـ، ز].
(٧) سقط من: [ز].
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٤٣)، ومسلم (٢١٩١).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ تعویذ (پناہ) دیا کرتے تھے۔ ’ ’ اے لوگوں کے پروردگار! تکلیف دور کر دے، اور شفاء عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے اور ایسی شفا دے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے مرض الموت میں حالت زیادہ بوجھل ہوگئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اس کو مسح کر کے یہ کلمات کہنے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا: اے اللہ! تو میری مغفرت فرما اور مجھے توُ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25116، ترقيم محمد عوامة 24036)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24037 ترقیم الشثری: -- 25117
٢٥١١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن علي (قال) (١) : اشتكيت فدخل علي النبي ﷺ (٢) وانا اقول: إن كان اجلي قد (حضر) (٣) (فارحني) (٤) ، وإن كان متاخرا فاشفني او عافني، وإن كان بلاء (فصبرني) (٥) قال: فقال النبي ﷺ (٦) :" (كيف قلت؟" ⦗١٥٤⦘ قال: فقلت) (٧) له، فمسحني بيده ثم قال:"اللهم اشفه او عافه" (قال) (٨) فما اشتكيت ذلك (الوجع) (٩) بعد (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، ط]: ﵇.
(٣) في [جـ]: (قرب).
(٤) في [ط]: (فارخي).
(٥) في [ط]: (فعرني).
(٦) في [ز]: ﵇.
(٧) في [جـ]: (كيف قال: قلت له، قال).
(٨) في [ز]: زيادة (قال).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٠٥٧)، والترمذي (٣٥٦٤)، وابن حبان (٦٩٤٠)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٥٧)، وأبو يعلى (٤٠٩)، والبزار (٧٠٩)، والطيالسي (١٤٣)، وعبد بن حميد (٧٣)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٦، والحاكم ٢/ ٦٢٠، وسيأتي ١٠/ ٣١٦ برقم [٣١٤٧٤].

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے کچھ شکایت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں (اس وقت) کہہ رہا تھا۔ اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو تُو مجھے راحت دے دے اور اگر میری موت کا وقت ابھی دیر سے ہے تو پھر تو مجھے شفا دے دے یا عافیت بخش دے اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر تو مجھے صبر کی توفیق دے دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تم کیا کہہ رہے ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی کہی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ پر پھیرا پھر فرمایا: ’ ’ اے اللہ! اس کو شفا دے دے۔ یا فرمایا، اس کو عافیت دے دے، پس اس کے بعد مجھے یہ تکلیف کبھی نہ ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25117، ترقيم محمد عوامة 24037)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24038 ترقیم الشثری: -- 25118
٢٥١١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج (عن المنهال) (١) (بن) (٢) عمرو (عن) (٣) عبد الله (بن) (٤) الحارث عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال:"من دخل على مريض لم تحضر وفاته فقال: اسال الله العظيم رب العرش العظيم ان يشفيك، سبع مرات (شفي) (٥) " (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقطة في: [ز].
(٢) في [جـ]: (أن)، وفي [ز]: (عن).
(٣) في [ز]: (بن).
(٤) في [ز]: (عن).
(٥) في [جـ، ز]: (شقي).
(٦) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢١٣٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٤٤)، والترمذي (٢٠٨٣)، وعبد بن حميد (٧١٨)، والطبراني في الدعاء (١١١٤)، وابن حبان (٢٩٧٥)، والحاكم ١/ ٣٤٣، والبخاري في الأدب المفرد (٥٣٦).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی ایسے مریض کے پاس حاضر ہو جس کی وفات کا وقت نہیں آیا اور یہ آدمی (جانے والا) سات مرتبہ یہ الفاظ کہے۔:: میں عظمت والے اللہ سے جو عرش عظیم کا مالک ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفاء عطا کرے۔ تو مریض کو شفاء مل جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25118، ترقيم محمد عوامة 24038)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24039 ترقیم الشثری: -- 25119
٢٥١١٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد الرحمن بن ثوبان قال: اخبرني (عمير) (١) بن هانئ قال: سمعت (جنادة) (٢) بن ابي امية يقول: ⦗١٥٥⦘ سمعت عبادة بن الصامت يحدث عن رسول الله ﷺ ان جبريل (رقاه) (٣) وهو يوعك فقال:"بسم الله ارقيك من كل داء يؤذيك من (كل) (٤) حاسد إذا حسد ومن كل عين، واسم الله يشفيك" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (عمر).
(٢) في [أ، ح، ط]: (حناد).
(٣) في [ط]: (رقا).
(٤) في [جـ]: (شر).
(٥) ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن ثوبان، أخرجه أحمد (٢٢٧٦٠)، وابن ماجه (٣٥٢٧)، وابن حبان (٩٥٣)، والحاكم ٤/ ٤١٢، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٠٤)، وعبد بن حميد (١٨٧)، والشاشي (١٢٢٠)، والبزار (٢٦٨٤)، والطبراني في الدعاء (١٠٨٩).

حضرت عبادہ بن صامت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنداً روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف زیادہ تھی، پس جبرائیل نے کہا: اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس بیماری سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر حاسد سے جب وہ حسد کرنے لگے اور ہر نظر سے، اور اللہ کا نام آپ کو شفا دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25119، ترقيم محمد عوامة 24039)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24040 ترقیم الشثری: -- 25120
٢٥١٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن الحارث عن علي قال: كان رسول الله ﷺ إذا دخل على مريض قال:" (اذهب) (١) (الباس) (٢) رب الناس، واشف (انت) (٣) الشافي، لا شفاء إلا (شفاؤك) (٤) " (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أهب).
(٢) في [ط]: (الناس).
(٣) في [ز]: زيادة (وأنت).
(٤) في [أ، هـ]: (أنت).
(٥) ضعيف؛ لضعف الحارث، أخرجه أحمد (٥٦٥)، وعبد بن حميد (٦٦)، والترمذي (٣٥٦٥)، والبزار (٨٤٧)، وسيأتي ١٠/ ٣١٣ برقم [٣١٤٦٦].

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تو فرماتے:: اے لوگوں کے پروردگار! تکلیف دور فرما دے اور شفا دے دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے بغیر کوئی شفا نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25120، ترقيم محمد عوامة 24040)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24041 ترقیم الشثری: -- 25121
٢٥١٢١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: حدثنا زكريا قال: حدثني سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرا لنا فاحترقت يدي، فانطلقت بي امي إلى رجل (١) جالس في الجبانة، فقالت (٢) : يا رسول الله، فقال: ⦗١٥٦⦘"لبيك وسعديك" ثم ادنتني منه فجعل ينفث ويتكلم بكلام لا ادري ما هو، فسالت امي (بعد ذلك) (٣) ما كان يقول؛ فقالت: كان يقول:"اذهب الباس رب الناس، واشف انت الشافي لا (شافي) (٤) إلا انت" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: زيادة (شيخ).
(٢) في [هـ]: زيادة (له).
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (شفاء).
(٥) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٥٢)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٦٣)، وابن حبان (٢٩٧٦)، والطيالسي (١١٩٤)، والحاكم ٤/ ٦٢، والطبراني ١٩ (٥٣٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٤.

حضرت محمد بن حاطب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک ہانڈی کو پکڑ لیا تھا اور میرا ہاتھ جل گیا تھا تو میری والدہ مجھے لے کر ایک آدمی کے پاس چلی گئی جو ایک ہموار زمین میں بیٹھا ہوا تھا، اور میری والدہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! انہوں نے جواب دیا: حاضر ہوں پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کیا، پس انہوں نے کچھ کلمات کہنا شروع کیے، مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کلمات کیا ہیں اور پھونک مارنا شروع کیا، پھر میں نے اس کے بعد اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے؟ تو والدہ نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ رہے تھے۔: اے لوگوں کے پروردگار! تکلیف کو دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25121، ترقيم محمد عوامة 24041)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24042 ترقیم الشثری: -- 25122
٢٥١٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا ابو شهاب عن (داود) (١) عن ابي نضرة عن ابي سعيد قال: اشتكى رسول الله ﷺ فرقاه جبريل فقال:"بسم الله ارقيك من كل شيء يؤذيك من كل حاسد وعين، والله يشفيك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (رواد).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٨٦)، وأحمد (١١٥٥٧).

حضرت ابو سعید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف ہوگئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جبرائیل نے دم کیا، پس انہوں نے کہا۔ اللہ کے نام سے میں آپ کو ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر حاسد سے اور نظر سے دم کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ ہی آپ کو شفا دیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25122، ترقيم محمد عوامة 24042)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24043 ترقیم الشثری: -- 25123
٢٥١٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يعلى عن سفيان عن منصور عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يعوذ الحسن والحسين يقول:"اعيذكما بكلمات الله التامة من كل (شيطان) (١) وهامة، ومن كل (عين) (٢) لامة"، ويقول:"هكذا كان إبراهيم يعوذ (ابنيه) (٣) : إسماعيل وإسحاق" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، ح، ط]: (شيطان).
(٣) في [جـ]: (بنيه).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٧١)، وأحمد (٢١١٢).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین کو ان کلمات کے ساتھ تعویذ دیتے تھے، فرماتے تھے:: میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر بری نظر سے پناہ میں دیتا ہوں اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم بھی اپنے دونوں بیٹوں، اسماعیل اور اسحاق، کو اسی طرح تعویذ (دم) دیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25123، ترقيم محمد عوامة 24043)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں