مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
69. في الصور في البيت
گھر میں تصویروں کا بیان
ترقیم عوامۃ: 25711 ترقیم الشثری: -- 26836
٢٦٨٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عبد الرحمن بن يزيد عن مكحول قال: كان في ترس النبي ﷺ كبش مصور فشق ذلك (عليه) (١) ، فاصبح وقد ذهب الله به (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقطة في: [ح].
(٢) مرسل؛ مكحول تابعي.
حضرت مکحول سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ڈھال میں ایک مصور مینڈھا تھا۔ پس یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو مٹا دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26836]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26836، ترقيم محمد عوامة 25711)
ترقیم عوامۃ: 25712 ترقیم الشثری: -- 26837
٢٦٨٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة عن ابن ابي ذئب عن الحارث عن كريب مولى ابن عباس (عن اسامة) (١) قال: دخلت على رسول الله ﷺ الكآبة فقلت: ما لك يا رسول الله! قال:"إن جبريل وعدني ان ياتيني، فلم ياتني منذ ثلاث"، (فجاز) (٢) كلب، قال اسامة: فوضعت يدي على راسي وصحت، فجعل النبي فيقول:"ما لك يا اسامة؟"، قلت (جاز) (٣) كلب، (فامره) (٤) النبي ﷺ بقتله فقتل، فاتاه جبريل (فهش) (٥) إليه، فقال رسول الله ﷺ:"مالك ابطات ⦗٨٦⦘ وقد كنت إذا وعدتني لم تخلفني؟"، فقال:"إنا لا ندخل بيتا فيه (كلب ولا تصاوير) (٦) " (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ح، ز، ط]: (فأجاز).
(٣) في [جـ]: (أجاز).
(٤) في [جـ، ز]: (فأمر).
(٥) في [ط]: (فنهش).
(٦) في [ح]: (صورة).
(٧) حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٢١٧٧٢)، والبزار (٢٥٩٠)، والطيالسي (٦٢٧)، والطبراني (٣٨٧)، والطحاوي ٤/ ٢٨٣، والضياء (١٣٤٧).
حضرت اسامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اندر آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پریشانی کے اثرات دیکھے۔ میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت جبرائیل نے تین دن سے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے پاس آئیں گے لیکن وہ میرے پاس نہیں آئے۔“ اس دوران کتا گزرا۔ حضرت اسامہ کہتے ہیں۔ میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور چیخ ماری۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہنا شروع کیا۔ ”اے اسامہ! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ میں نے کہا۔ کتا گزرا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم فرمایا۔ اور اس کو قتل کردیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف لپکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا تھا۔ تم نے دیر کردی جبکہ تم جب میرے ساتھ وعدہ کرتے ہو تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے؟“ حضرت جبرائیل نے کہا۔ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26837]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26837، ترقيم محمد عوامة 25712)
ترقیم عوامۃ: 25713 ترقیم الشثری: -- 26838
٢٦٨٣٨ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن ابن إسحاق عن ابي جعفر ان النبي ﷺ كان لا يدخل بيتا فيه (صورة) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (صورة).
(٢) مرسل؛ أبو جعفر تابعي.
حضرت ابوجعفر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے جس میں تصویر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب اللباس/حدیث: 26838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26838، ترقيم محمد عوامة 25713)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 26839
٢٦٨٣٩ - (وإن عليا كان لا يدخل بيتا فيه صورة) (١) ] (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ز، هـ].
(٢) سقط الخبران من: [ط].
(٣) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26839، ترقيم محمد عوامة ---)