مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
132. من كره القصص وضرب فيه
جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
ترقیم عوامۃ: 26714 ترقیم الشثری: -- 27871
٢٧٨٧١ - حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا سفيان (عن) (٢) عبيد الله ⦗٣٨١⦘ عن نافع عن ابن عمر قال: لم يقص زمان ابي بكر ولا عمر إنما كان القصص (زمن) (٣) الفتنة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في: [م، هـ]، وزيد في باقي النسخ: (أبو).
(٢) في [أ، ح، ط]: (ابن).
(٣) في [جـ]: (زمان).
(٤) صحيح.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں قصہ گوئی نہیں کی جاتی تھی یہ تو فتنے کے زمانے میں شروع ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27871، ترقيم محمد عوامة 26714)
ترقیم عوامۃ: 26715 ترقیم الشثری: -- 27872
٢٧٨٧٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سعيد الجريري عن ابي عثمان قال: كتب (عامل) (١) (لعمر) (٢) بن الخطاب إليه ان هاهنا قوما يجتمعون فيدعون للمسلمين وللامير، (فكتب إليه عمر) (٣) (٤) اقبل واقبل بهم معك، فاقبل، وقال عمر للبواب: اعد لي سوطا، فلما دخلوا على عمر اقبل على اميرهم ضربا بالسوط، فقال: (يا) (٥) (امير المؤمنين) (٦) : إنا لسنا اولئك الذين (تعني) (٧) اولئك قوم ياتون من قبل المشرق (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: زيادة (أبو).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (عمر).
(٤) في [جـ]: زيادة (فقال).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمر).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (يعني).
(٨) صحيح.
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے کسی گورنر نے آپ کو خط لکھا کہ بیشک یہاں چند لوگ ہیں جو جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور امیر کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو خط کا جواب لکھا کہ آپ بھی آئیں اور اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی میرے پاس لائیں، پس وہ آگئے۔ حضرت عمر نے دربان سے کہا: میرے لیے کوڑا تیار کرو۔ پس جب وہ لوگ حضرت عمر پر داخل ہوئے تو آپ نے ان کے امیر کو ایک کوڑا مارا۔ اس پر اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! بیشک ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو مشرق کی جانب سے آئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27872، ترقيم محمد عوامة 26715)
ترقیم عوامۃ: 26716 ترقیم الشثری: -- 27873
٢٧٨٧٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن ابي حصين عن ابي عبد الرحمن ان عليا راى رجلا يقص، (قال) (١) : علمت الناسخ والمنسوخ؟ قال: لا، (قال) (٢) : هلكت واهلكت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (فقال).
(٢) سقط من: [أ، ح].
(٣) صحيح.
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو وعظ و نصیحت کر رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا کیا تجھے ناسخ اور منسوخ معلوم ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو خود بھی ہلاک ہوا اور تو نے دوسروں کو بھی ہلاک کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27873، ترقيم محمد عوامة 26716)
ترقیم عوامۃ: 26717 ترقیم الشثری: -- 27874
٢٧٨٧٤ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن ابي سنان عن عبد الله بن ابي الهذيل عن عبد الله بن خباب قال: رآني ابي وانا عند قاص، فلما (رجعت) (٢) اخذ (الهراوة) (٣) قال: قرن قد (طلع) (٤) : (آالعمالقة) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكررت في: [جـ].
(٢) في [أ، ح، هـ]: (رجع).
(٣) في [ط]: (الهرارة).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (طالع).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (العمالقة).
(٦) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن خباب فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے دیکھا کہ میں قصہ گو کے پاس ہوں۔ جب میں واپس لوٹا تو انہوں نے لاٹھی پکڑی اور فرمایا: یہ سینگ ہے جو عمالقہ کے ساتھ طلوع ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27874، ترقيم محمد عوامة 26717)
ترقیم عوامۃ: 26718 ترقیم الشثری: -- 27875
٢٧٨٧٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابيه قال: سمعت إبراهيم التيمي قال: إنما حملني على مجلسي هذا (اني) (١) رايت (كاني) (٢) اقسم ريحانا، (بين الناس) (٣) ، (فذكرت) (٤) ذلك لإبراهيم (النخعي) (٥) فقال: إن الريحان له منظر، وطعمه مر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) سقطت من: [جـ]، وفي [م]: (أني).
(٣) في [جـ، م]: زيادة (بين الناس).
(٤) في [جـ، م]: (فذكر).
(٥) في [جـ، م]: زيادة (النخعي).
حضرت ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ مجھے اس مجلس کے قائم کرنے پر اس بات نے ابھارا کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں لوگوں کے درمیان ریحان تقسیم کر رہا ہوں۔ پھر میں نے یہ خواب حضرت ابراہیم نخعی کے سامنے ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: بیشک ریحان ہوتا خوبصورت ہے مگر اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27875، ترقيم محمد عوامة 26718)
ترقیم عوامۃ: 26719 ترقیم الشثری: -- 27876
٢٧٨٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة قال: حدثني عقبة بن حريث قال: سمعت ابن عمر وجاء رجل قاص وجلس في مجلسه فقال ابن عمر: قم من مجلسنا، فابى ان يقوم، فارسل ابن عمر إلى صاحب (الشرط) (١) : اقم القاص، فبعث إليه فاقامه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الشرطة).
(٢) صحيح.
حضرت عقبہ بن حریث فرماتے ہیں کہ ایک قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہماری مجلس سے اٹھ جا۔ تو اس نے کھڑے ہونے سے انکار کردیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کو توال کی طرف پیغام بھیجا کہ اس قصہ گو کو اٹھاؤ۔ تو اس نے کسی کو بھیج کر اس کو اٹھوا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27876]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27876، ترقيم محمد عوامة 26719)
ترقیم عوامۃ: 26720 ترقیم الشثری: -- 27877
٢٧٨٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن عاصم عن ابي وائل عن علقمة قال: قيل له: (الا) (١) تقص علينا؟ قال: إني اكره ان آمركم بما لا افعل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (لا).
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ سے پوچھا گیا: کہ آپ ہمیں وعظ و نصیحت کیوں نہیں فرماتے؟ آپ نے فرمایا کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں اس بات کا حکم دوں جو میں خود نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27877، ترقيم محمد عوامة 26720)
ترقیم عوامۃ: 26721 ترقیم الشثری: -- 27878
٢٧٨٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن ابي سنان عن (ابن) (١) ابي الهذيل عن خباب قال: راى ابنه عند قاص، فلما رجع اتزر واخذ السوط وقال: امع العمالقة هذا قرن قد طلع (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه بن)، وسقط من: [أ، ح، ز].
(٢) حسن؛ شريك صدوق، وانظر: ما تقدم [١٢٧٨٧٤].
حضرت عبد اللہ بن ابی الھذیل فرماتے ہیں کہ حضرت ذباب نے اپنے بیٹے کو ایک قصہ گو کے پاس دیکھا جب وہ یہ گناہ کر کے لوٹا تو آپ نے کوڑا پکڑ ا اور فرمایا: کیا عمالقے کے ساتھ ہو؟! یہ شیطان کا سینگ بھی طلوع ہوگیا! [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27878، ترقيم محمد عوامة 26721)
ترقیم عوامۃ: 26722 ترقیم الشثری: -- 27879
٢٧٨٧٩ - حدثنا شريك عن إبراهيم عن مجاهد قال: دخل (قاص) (١) فجلس قريبا من ابن عمر فقال له: قم فابى ان يقوم، فارسل إلى صاحب الشرط، فارسل إليه شرطيا فقام (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قاصًا).
(٢) حسن؛ شريك صدوق.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کوئی قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھ گیا۔ آپ نے اس سے فرمایا: اٹھ جاؤ تو اس نے اٹھنے سے انکار کردیا۔ آپ نے کو توال کی طرف قاصد بھیجا۔ تو اس نے سپاہی کو بھیج کر اسے اٹھا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27879، ترقيم محمد عوامة 26722)
ترقیم عوامۃ: 26723 ترقیم الشثری: -- 27880
٢٧٨٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن ابن عون عن ابن سيرين قال: بلغ عمر ان رجلا يقص بالبصرة فكتب إليه: ﴿الر تلك آيات الكتاب المبين (١) إنا انزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون (٢) نحن نقص عليك احسن القصص﴾ (١) إلى آخر الآية، قال: فعرف الرجل فتركه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سورة يوسف، الآيات: [١ - ٣]، وفيها سقط في غير [هـ].
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی بصرہ میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتا ہے۔ پس آپ نے اس کو خط لکھا: الر، یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم سمجھ لو۔ ہم تم پر بہترین واقعات بیان کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں، کہ وہ شخص سمجھ گیا اور اس نے قصہ گوئی چھوڑ دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27880، ترقيم محمد عوامة 26723)