🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

143. في الرجل يمدح الرجل
اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی کی تعریف کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26784 ترقیم الشثری: -- 27943
٢٧٩٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حبيب بن ابي ثابت عن مجاهد عن ابي معمر عن المقداد بن (الاسود) (١) قال: امرنا رسول الله ﷺ ان (نحثو) (٢) في وجوه المداحين التراب (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ث]: (عمرو).
(٢) في [جـ، م]: (نحثي).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٣٠٠٢)، وأحمد (٢٣٨٢٨).

حضرت مقداد بن اسود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27943، ترقيم محمد عوامة 26784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26785 ترقیم الشثری: -- 27944
٢٧٩٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم عن همام بن الحارث ان رجلا جعل يمدح عثمان، فعمد المقداد فجثا على ركبتيه، قال: وكان رجلا ضخما، قال: فجعل يحثو في وجهه الحصى فقال له عثمان: ما شانك؟ (قال) (١) : قال رسول الله ﷺ:"إذا رايتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ت]: (فقال).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٣٠٠٢)، وأحمد (٢٣٨٣٠).

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ھمام بن حارث نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص حضرت عثمان کی تعریف کر رہا تھا، تو حضرت مقداد سہارا لے کر اپنے گھٹنوں کے بل دو زانوں ہو کر بیٹھے، وہ ایک فربہ آدمی تھے۔ پس آپ نے تعریف کرنے والے کے منہ کی طرف کنکریاں پھینکنا شروع کردیں۔ اس پر حضرت عثمان نے ان سے پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27944]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27944، ترقيم محمد عوامة 26785)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26786 ترقیم الشثری: -- 27945
٢٧٩٤٥ - [ (١) حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد بن) (٢) إبراهيم عن (معبد) (٣) ⦗٤٠٤⦘ الجهني عن معاوية قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إياكم والتمادح فإنه الذبح" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) من هنا يبدأ سقط في نسخة [ب] وينتهي إلى حديث رقم [٢٧٩٥٣].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ط، م]: (سعيد).
(٤) حسن؛ معبد صدوق، أخرجه أحمد (١٦٨٤٦)، وابن ماجه (٣٧٤٣)، والطحاوي في شرح المشكل (١٦٨٧)، وابن قانع في معجم الصحابة ٣/ ٧٢، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (١٣٥)، والطبراني ١٩/ (٨١٥)، والبيهقي في الشعب (١٠٣٠٧).

حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگ ایک دوسرے کی تعریف کرنے سے بچو اس لیے کہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27945]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27945، ترقيم محمد عوامة 26786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26787 ترقیم الشثری: -- 27946
٢٧٩٤٦ - حدثنا ابو الاحوص عن عمران بن مسلم عن إبراهيم التيمي عن ابيه قال: كنا قعودا عند عمر بن الخطاب، فدخل عليه رجل فسلم عليه، فاثنى عليه رجل من القوم في وجهه، فقال (١) عمر: عقرت الرجل عقرك الله، تثني عليه في وجهه في دينه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، م]: زيادة (له).
(٢) صحيح.

حضرت ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص داخل ہوا، اس نے آپ کو سلام کہا، پھر لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس کے منہ پر اس کی تعریف کی۔ اس پر حضرت عمر نے اس شخص سے کہا: تو نے اس آدمی کو ہلاک کردیا، اللہ تجھے ہلاک کرے، تو اس کے سامنے اس کے دین کی تعریف کر رہا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27946]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27946، ترقيم محمد عوامة 26787)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26788 ترقیم الشثری: -- 27947
٢٧٩٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبيد الله بن عمر عن زيد بن اسلم عن ابيه اسلم قال: سمعت عمر يقول: (المديح) (١) (الذبح) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، هـ]: (المدح).
(٢) في [أ، ط]: (المديح).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١١٧).

حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تعریف کرنا ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27947، ترقيم محمد عوامة 26788)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26789 ترقیم الشثری: -- 27948
٢٧٩٤٨ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن ابي إسحاق عن ابي الاحوص قال: قال عبد الله: إذا طلب احدكم الحاجة فليطلبها طلبا يسيرا، ولا ياتي الرجل فيثني عليه في وجهه، فيقطع ظهره (فلا) (١) يمنعه شيئا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (ولا).
(٢) صحيح؛ أخرجه السهمي في تاريخ جرجان (ص ٦٣)، والبيهقي في الشعب (٢١٠)، والبخاري في الأدب (٧٧٩).

حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ضرورت کی درخواست کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ ہلکی سی درخواست کرے۔ ایسا نہ کرے کہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے اور اس کے چہرے پر تو اس کی تعریف کرے اور اس کی پیٹھ پیچھے اسے نظر انداز کرے، اس لیے کہ وہ آدمی اس سے کوئی چیز بھی نہیں روک سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27948، ترقيم محمد عوامة 26789)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26790 ترقیم الشثری: -- 27949
٢٧٩٤٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن خالد الحذاء عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابيه قال: مدح رجل (رجلا) (١) عند رسول الله ﷺ فقال له النبي ﷺ:" (ويحك) (٢) قطعت عنق صاحبك مرارا"، ثم قال:"إن كان (احدكم) (٣) مادحا اخاه لا محالة فليقل (له) (٤) : (احسبه) (٥) ولا ازكي على الله احدا" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [ث].
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) سقط من: [ث].
(٥) في [أ، م]: (حسب).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٦١)، ومسلم (٣٠٠٠).

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت ابو بکرہ نے ارشاد فرمایا: کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کسی شخص کی تعریف کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تعریف کرنے والے کو کئی مرتبہ کہا کہ ہلاکت ہو تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں کوئی اپنے بھائی کی تعریف کرتا، تو کوئی حرج نہیں اس کو چاہیے کہ وہ یوں کہے: میرا خیال ہے اور میں اللہ کے مقابلہ میں کسی کو پاک و صاف نہیں بتاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27949، ترقيم محمد عوامة 26790)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26791 ترقیم الشثری: -- 27950
٢٧٩٥٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عاصم قال: قلت (لغنيم) (١) : ايكره للرجل ان يمدح اخاه وهو شاهد؟ قال: نعم، فقلت: وإن كان غائبا؟ قال: كان يقال: لا تمدح اخاك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو ابن قيس المازني، وفي [أ]: (لعبيم)، وفي [ث، هـ]: القاسم).
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت غنیم سے پوچھا: کیا آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کی موجودگی میں اس کی تعریف بیان کرے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! میں نے پوچھا: اگر وہ شخص موجود نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا کہ یوں کہا جاتا تھا کہ تم اپنے بھائی کی مدح مت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27950، ترقيم محمد عوامة 26791)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26792 ترقیم الشثری: -- 27951
٢٧٩٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود عمر بن سعد عن سفيان عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: لا ازكي (بعد النبي ﷺ) (١) احدا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (على اللَّه).
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث.

حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو پاک و صاف نہیں گردانتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27951، ترقيم محمد عوامة 26792)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26793 ترقیم الشثری: -- 27952
٢٧٩٥٢ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن الحكم عن عطاء بن ابي رباح ان رجلا كان يمدح رجلا عند ابن عمر، فجعل ابن عمر (يحثو) (١) التراب نحو وجهه باصابعه وقال: قال رسول الله ﷺ:"إذا رايتم ⦗٤٠٦⦘ (المادحين) (٢) فاحثوا في افواههم التراب" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يحثي).
(٢) في [ث، م]: (المداحين).
(٣) منقطع؛ عطاء لا يروي عن ابن عمر، أخرجه أحمد (٥٦٨٤)، وابن حبان (٥٧٧٠)، والبخاري في الأدب المفرد (٣٤٠)، والطبراني (١٣٥٨٩)، وعبد بن حميد (٨١٢)، والبيهقي في شعب الإيمان (٤٨٦٧)، والخطيب ١١/ ١٠٧، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ١٢٧، والعقيلي ٣/ ٤٥١، وابن عدي في الكامل ٧/ ٢٥٤٥.

حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کسی آدمی کی تعریف بیان کر رہا تھا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلیوں کے ذریعہ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنا شروع کردی، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 27952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27952، ترقيم محمد عوامة 26793)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں