مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
177. من كان يستحب أن يسأل ويقول: سلوني
جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
ترقیم عوامۃ: 26941 ترقیم الشثری: -- 28104
٢٨١٠٤ - حدثنا غسان بن مضر عن سعيد بن يزيد عن عكرمة قال: ما لكم ⦗٤٥٠⦘ (لا تسالونا) (١) (افلستم) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (تسألوننا)، وفي [ط]: (تسئلونا).
(٢) في [ز]: (أفنسألكم).
حضرت سعید بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا: تمہیں کیا ہوا کہ تم سوال نہیں کرتے؟ کیا تم طالب علم نہیں ہو؟ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28104، ترقيم محمد عوامة 26941)
ترقیم عوامۃ: 26942 ترقیم الشثری: -- 28105
٢٨١٠٥ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: قال ابن عباس: ما سالني رجل عن مسالة إلا عرفت: فقيه هو او غير فقيه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ سعد بن إبراهيم لا يروي عن ابن عباس.
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: مجھ سے کسی بھی شخص نے سوال نہیں کیا مگر میں نے پہچان لیا کہ وہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28105]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28105، ترقيم محمد عوامة 26942)
ترقیم عوامۃ: 26943 ترقیم الشثری: -- 28106
٢٨١٠٦ - حدثنا (عمر) (١) بن (سعد) (٢) عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير قال: ما (٣) احد يسالني.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عمرو).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (سعيد).
(٣) في [هـ]: زيادة (يأتيني).
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا: کوئی مجھ سے پوچھنے والا نہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28106]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28106، ترقيم محمد عوامة 26943)
ترقیم عوامۃ: 26944 ترقیم الشثری: -- 28107
٢٨١٠٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: قال لنا عروة: ائتوني فتلقوا مني.
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضر ت عروہ نے ہمیں ارشاد فرمایا: میرے پاس آؤ اور مجھ سے علم حاصل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28107]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28107، ترقيم محمد عوامة 26944)
ترقیم عوامۃ: 26945 ترقیم الشثری: -- 28108
٢٨١٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري قال: كان عروة يتالف الناس على حديثه.
امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ لوگوں کو اپنی باتوں سے مانوس کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28108]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28108، ترقيم محمد عوامة 26945)
ترقیم عوامۃ: 26946 ترقیم الشثری: -- 28109
٢٨١٠٩ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن عبد الله بن السائب عن (زاذان) (١) قال: سالت ابن مسعود عن اشياء ما احد يسالني عنها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (زاذان).
(٢) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے حضرت ابن مسعود سے چند اشیاء کے بارے میں پوچھا کہ کسی نے مجھ سے ان کے متعلق سوال نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28109]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28109، ترقيم محمد عوامة 26946)
ترقیم عوامۃ: 26947 ترقیم الشثری: -- 28110
٢٨١١٠ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن خالد (بن عرعرة) (١) قال: اتيت الرحبة فإذا (انا) (٢) بنفر جلوس قريبا من ثلاثين او اربعين رجلا فقعدت معهم، ⦗٤٥١⦘ فخرج علينا علي، فما رايته (انكر) (٣) احدا من القوم غيري، فقال: الا رجل يسالني فينتفع وينتفع جلساؤه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: زيادة (بن عرعرة).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (أنكرته).
(٤) مجهول؛ لجهالة خالد بن عرعرة.
حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کشادہ میدان میں گیا تو میں نے وہاں تیس یا چالیس کے قریب آدمیوں کو بیٹھا ہوا پایا، تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے لوگوں میں سے کسی کو میرے سوا نہ پہچانا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھ سے سوال کر کے فائدہ اٹھائے اور اس کے ہمنشین بھی فائدہ اٹھائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28110، ترقيم محمد عوامة 26947)
ترقیم عوامۃ: 26948 ترقیم الشثری: -- 28111
٢٨١١١ - حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد (قال: نراه عن سعيد بن المسيب) (١) قال: لم يكن احد من اصحاب النبي ﷺ يقول: سلوني إلا علي بن ابي طالب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٢/ ٣٩٩، والخطيب في الفقيه والمتفقه ٢/ ٣٥٢، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ١/ ١١٤.
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے سوا کوئی بھی نہیں تھا، جو یوں کہتا ہو کہ مجھ سے سوال کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28111، ترقيم محمد عوامة 26948)