مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
179. من رخص في كتاب العلم
جس نے علم لکھنے کی رخصت دی
ترقیم عوامۃ: 26953 ترقیم الشثری: -- 28116
٢٨١١٦ - حدثنا حسين بن علي عن الربيع بن سعد قال: رايت جابرا يكتب عند ابن (سابط) (١) في الواح (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سابق).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في جامع بيان العلم (١/ ٧٢)، والخطيب في تقييد العلم (ص ١٥٩).
حضرت ربیع بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر کو دیکھا کہ وہ حضرت ابن سابط کے پاس تختیوں میں لکھ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28116، ترقيم محمد عوامة 26953)
ترقیم عوامۃ: 26954 ترقیم الشثری: -- 28117
٢٨١١٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن حرملة قال: كنت سيء الحفظ، فرخص لي سعيد بن المسيب في الكتاب.
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن حرملہ نے ارشاد فرمایا کہ میں کمزور حافظہ کا مالک تھا۔ تو حضرت سعید بن مسیب نے مجھے لکھنے کی رخصت دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28117، ترقيم محمد عوامة 26954)
ترقیم عوامۃ: 26955 ترقیم الشثری: -- 28118
٢٨١١٨ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عبد الملك بن (١) سفيان عن عمه انه سمع عمر بن الخطاب يقول: قيدوا العلم بالكتاب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في [هـ]: (عبد اللَّه بن أبي)، وهذا هو اسمه ولكن الذي في النسخ هو بإسقاطها، وهكذا رواه ابن عبد البر من طريق المؤلف في جامع بيان العلم (١/ ٧٢).
(٢) صحيح؛ صرح ابن جريج بالتحديث كما في المحدث الفاصل، وأخرجه الدارمي (٤٩٧)، وابن عبد البر في الجامع (١/ ٧٢)، والحاكم (١/ ١٠٦)، والرامهرمزي (ص ٣٧٧)، والخطيب في تقييد العلم (ص ٨٨).
حضرت عبد الملک بن سفیان کے چچا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یوں فرماتے ہوئے سنا: علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28118، ترقيم محمد عوامة 26955)
ترقیم عوامۃ: 26956 ترقیم الشثری: -- 28119
٢٨١١٩ - [حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن يحيى ابن ابي كثير قال: قال ابن عباس: قيدوا العلم بالكتابة] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الأثر من: [أ، ح، ط، م، هـ].
(٢) ضعيف؛ رواية عكرمة عن يحيى ضعيفة لاضطرابها.
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28119، ترقيم محمد عوامة 26956)
ترقیم عوامۃ: 26957 ترقیم الشثری: -- 28120
٢٨١٢٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (عبيد الله) (١) بن الاخنس عن الوليد بن (عبد الله) (٢) عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عمرو قال: كنت اكتب كل شيء اسمعه من رسول الله ﷺ واريد حفظه، فنهتني قريش عن ذلك (قالوا) (٣) : تكتب كل شيء تسمعه من رسول الله ﷺ (٤) ورسول الله ﷺ يتكلم في (الرضى) (٥) والغضب، قال: فامسكت فذكرت ذلك للنبي ﷺ فاشار بيده إلى فيه فقال:"اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ط]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [ب، جـ، م]: (وقالوا)، وفي [ط]: (قال لا).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ط]: (الأرض).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥١٠)، وأبو داود (٣٦٤٦)، والدارمي ١/ ١٢٥، والحاكم ١/ ١٠٥، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ص ٨٩، والخطيب في تقييد العلم ص ٨٨.
حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنی ہوئی ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اور کہنے لگے، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر فرمودہ بات لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور کبھی غصہ کی حالت میں! آپ فرماتے ہیں: کہ میں لکھنے سے رک گیا اور میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: لکھ لیا کرو۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اس زبان سے صرف حق بات نکلتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28120، ترقيم محمد عوامة 26957)
ترقیم عوامۃ: 26958 ترقیم الشثری: -- 28121
٢٨١٢١ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن معن قال: (اخرج) (١) إلي عبد الرحمن ابن عبد الله كتابا وحلف لي انه خط ابيه بيده (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (خرج).
(٢) صحيح.
حضرت معن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عبد اللہ نے میرے سامنے ایک کتاب نکالی، اور قسم اٹھا کر فرمایا کہ یہ میرے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28121، ترقيم محمد عوامة 26958)
ترقیم عوامۃ: 26959 ترقیم الشثری: -- 28122
٢٨١٢٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: لا باس بكتاب الاطراف.
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا: کناروں پر لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28122، ترقيم محمد عوامة 26959)
ترقیم عوامۃ: 26960 ترقیم الشثری: -- 28123
٢٨١٢٣ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابي) (١) (كيران) (٢) قال: سمعت الضحاك يقول: إذا سمعت شيئا فاكتبه ولو في حائط] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (ابن)، وانظر: جامع بيان العلم ١/ ٧٢.
(٢) في [جـ]: (كثران)، وفي (س): (كثيران).
(٣) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت ابو کبران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کوئی بات سنو تو اسے لکھ لیا کرو اگرچہ دیوار پر ہی لکھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28123، ترقيم محمد عوامة 26960)
ترقیم عوامۃ: 26961 ترقیم الشثری: -- 28124
٢٨١٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسين بن عقيل قال: (املى) (١) علي الضحاك مناسك الحج.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أملا).
حضرت حسین بن عقیل فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے مجھے حج کے مناسک کی املاء کروائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28124، ترقيم محمد عوامة 26961)
ترقیم عوامۃ: 26962 ترقیم الشثری: -- 28125
٢٨١٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن ابي مجلز عن (بشير) (٢) بن نهيك قال: كنت اكتب ما اسمعه من ابي هريرة، فلما اردت ان افارقه اتيته بكتابي فقلت: هذا (ما) (٣) سمعته منك؟ قال: نعم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (جرير).
(٢) في [ط]: (بشر).
(٣) سقط من: [ب، جـ، ط، م].
(٤) صحيح.
حضرت بشیر بن نھیک فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ سے جو بھی حدیث سنتا تھا اسے لکھ لیا کرتا تھا۔ جب میں نے ان سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو میں اپنی لکھی ہوئی کا پی لایا اور میں نے عرض کیا: یہ وہ روایات ہیں جو میں نے آپ سے سنی ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں!۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28125، ترقيم محمد عوامة 26962)