🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

180. من كان يكره كتاب العلم
جو علم لکھنے کو مکروہ سمجھتا ہو
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26969 ترقیم الشثری: -- 28132
٢٨١٣٢ - حدثنا ابو اسامة عن شعبة عن جابر عن عبد الله بن يسار قال: سمعت عليا يخطب يقول: اعزم على (١) من كان عنده كتاب إلا رجع فمحاه، فإنما ⦗٤٥٧⦘ هكذا الناس حيث يتبعون احاديث علمائهم وتركوا كتاب ربهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (كل).
(٢) ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي.

حضرت عبد اللہ بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ نے ارشاد فرمایا: پختہ ارادہ کرلے ہر وہ شخص جس کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتاب ہو کہ وہ لوٹ کر اسے مٹا دے گا۔ اس لیے کہ پہلے لوگ ہلاک ہوئے اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے علماء کی باتوں کو تو تلاش کیا اور اپنے رب کی کتاب کو چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28132، ترقيم محمد عوامة 26969)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26970 ترقیم الشثری: -- 28133
٢٨١٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن كهمس عن ابي نضرة قال: قلنا لابي سعيد الخدري: لو (اكتبتنا) (١) الحديث؟ فقال: لا نكتبكم، خذوا عنا كما اخذنا عن نبينا ﷺ (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (اكتبت).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) صحيح.

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو سعیدخدری کی خدمت میں عرض کیا: اگر آپ اجازت دیں تو ہم حدیث لکھ لیا کریں۔ آپ نے فرمایا؛ ہم تمہیں نہیں لکھوائیں گے، تم ہم سے حدیث حاصل کرو، جیسے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث حاصل کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28133، ترقيم محمد عوامة 26970)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26971 ترقیم الشثری: -- 28134
٢٨١٣٤ - حدثنا مروان بن معاوية عن ابي مالك الاشجعي عن سليمان بن الاسود المحاربي قال: كان ابن مسعود يكره كتاب العلم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ سليمان هو أبو الشعثاء والمشهور في اسمه سليم بن أسود.
حضرت سلیمان بن اسود محاربی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود علم کے لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28134، ترقيم محمد عوامة 26971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26972 ترقیم الشثری: -- 28135
٢٨١٣٥ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان عمر يكتب إلى عماله: لا (تخلدن) (١) علي كتابا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (تجلدن).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اپنے گورنروں کو خط لکھتے تھے کہ ہمیشہ مجھے خط نہ لکھتے رہاکرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28135، ترقيم محمد عوامة 26972)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26973 ترقیم الشثری: -- 28136
٢٨١٣٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال لي عبيدة: لا (تخلدن) (١) علي كتابا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (تجلدن).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے مجھے ارشاد فرمایا: کہ تم ہمیشہ مجھے خط مت لکھا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28136، ترقيم محمد عوامة 26973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26974 ترقیم الشثری: -- 28137
٢٨١٣٧ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى عن ابي بردة قال: كتبت عن ابي كتابا كبيرا فقال: ائتني بكتبك، فاتيته بها فغسلها (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ طلحه بن يحيى صدوق.
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے بہت بڑی کتاب لکھی۔ انہوں نے فرمایا: اپنی کتابیں میرے پاس لاؤ۔ میں ان کے پاس لے آیا تو انہوں نے ان کو دھو دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28137، ترقيم محمد عوامة 26974)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26975 ترقیم الشثری: -- 28138
٢٨١٣٨ - حدثنا وكيع عن الحكم بن عطية عن ابن سيرين قال: إنما ضلت بنو إسرائيل بكتب ورثوها عن آبائهم.
حضرت حکم بن عطیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا: کہ بنو اسرائیل ان کتابوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28138، ترقيم محمد عوامة 26975)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26976 ترقیم الشثری: -- 28139
٢٨١٣٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي ان مروان دعا زيد بن ثابت وقوما يكتبون، وهو لا يدري فاعلموه فقال: اتدرون لعل كل (شيء) (١) حدثتكم ليس كما حدثتكم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حديث).
(٢) صحيح.

امام شعبی فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت کو بلایا اس حال میں کہ لوگ لکھ رہے تھے اور آپ نہیں جانتے تھے۔ پس لوگوں نے آپ کو بتلایا تو آپ نے فرمایا: شاید کہ وہ حدیثیں جو میں نے تمہیں بیان کیں وہ ایسی نہ ہوں جیسے میں نے تمہیں بیان کی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28139]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28139، ترقيم محمد عوامة 26976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26977 ترقیم الشثری: -- 28140
٢٨١٤٠ - حدثنا (ابو) (١) معاوية عن الاعمش عن جامع بن شداد عن الاسور بن هلال قال: اتي عبد الله بصحيفة فيها حديث، فدعا بماء فمحاها ثم غسلها ثم امر بها فاحرقت، ثم قال: اذكر بالله (رجلا) (٢) يعلمها عند احد إلا اعلمني به، والله لو اعلم انها (بدير هند) (٣) (لابتلغت) (٤) إليها، بهذا هلك اهل الكتاب قبلكم حتى نبذوا كتاب الله وراء ظهورهم كانهم لا يعلمون (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ط]: (بن).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (تريد هند)، وفي [هـ]: (بدار هند).
(٤) في [جـ]: (لانتعلت).
(٥) صحيح.

حضرت اسود بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک صحیفہ لایا گیا جس میں لکھی ہوئی تحریر تھی۔ انہوں نے پانی منگوا کر اسے صاف کیا اور پھر جلانے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کے باے میں تمہیں علم ہو کہ اس کے پاس حدیث لکھی ہوئی ہے تو مجھے ضرور بتاؤ۔ خدا کی قسم! اگر مجھے پتہ چلے کہ دیرہند میں کوئی لکھی ہوئی حدیث ہے کہ میں پیدل جا کر اس کو مٹاؤں گا پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28140]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28140، ترقيم محمد عوامة 26977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 26978 ترقیم الشثری: -- 28141
٢٨١٤١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن كهمس عن عبد الله بن مسلم عن ابيه قال: كل الكتاب اكره.
حضرت عبد اللہ بن مسلم فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت مسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر طرح کے لکھنے کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یوں فرمایا: جس کتابت میں اللہ کا ذکر لکھا جائے اس کو بھی۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معتمر سے پوچھا: مہر کو بھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28141]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28141، ترقيم محمد عوامة 26978)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں