مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
211. ما ذكر في الشح
ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
ترقیم عوامۃ: 27149 ترقیم الشثری: -- 28317
٢٨٣١٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر (عن حجاج) (١) عن سليمان بن سحيم عن طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله جواد يحب الجود ويحب معالي الاخلاق ويكره سفسافها" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) مرسل، طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز تابعي، أخرجه الشاشي (٢٠)، والبيهقي في الشعب (١٠٨٤٠)، وهناد في الزهد (٨٢٨)، وأبو الشيخ في الكرم (١١)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٧)، وبنحوه أخرجه الحاكم ١/ ٤٨، وعبد الرزاق (٢٠٥١٠)، والبيهقي ١٠/ ١٩١، والبخاري في التاريخ ٤/ ٣٤٧، وابن عساكر ٢٥/ ١٢٧.
حضرت طلحہ بن عبید اللہ بن کریز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ رب العزت فیاض ہیں اور فیاضی کو پسند کرتے ہیں اور بلند اخلاق کو پسند کرتے ہیں اور اخلاق کی گراوٹ کو ناپسند کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28317]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28317، ترقيم محمد عوامة 27149)
ترقیم عوامۃ: 27150 ترقیم الشثری: -- 28318
٢٨٣١٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير قال: كان للنبي ﷺ (من) (١) سعد بن عبادة جفنة تدور معه حيثما دار من نسائه وكان يقول في دعائه:"اللهم ارزقني مالا فإنه لا يصلح الفعال إلا المال" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مع).
(٢) منقطع؛ يحيى لا يروي عن سعد بن عبادة، أخرجه هناد في الزهد (٧٣٩)، وابن عساكر (٢٠/ ٢٥٥)، وابن الجوزي في المنتظم (٤/ ١٩٩)، وابن أبي الدنيا في اصلاح المال (٥٣).
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت سعد بن عبادہ کی طرف سے ایک پیالہ ملا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی گھومتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یوں فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے مال عطاء فرما: اس لیے کہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جاسکتا مگر مال سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28318]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28318، ترقيم محمد عوامة 27150)
ترقیم عوامۃ: 27151 ترقیم الشثری: -- 28319
٢٨٣١٩ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه ان سعد بن عبادة كان يدعو: اللهم هب لي حمدا وهب لي مجدا لا مجد إلا بفعال، ولا فعال إلا بمال، اللهم لا يصلحني القليل ولا اصلح عليه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الحاكم (٣/ ٢٥٣)، وابن سعد (٣/ ٦١٤)، وابن أبي الدنيا في اصلاح المال (٥٤)، والبيهقي في الشعب (١٢٥٨).
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ دعا فرمایا کرتے تھے: ترجمہ: اے اللہ! تو مجھے شکر کی توفیق عطا فرما اور عزت و بزرگی عطا فرما اور عزت و بزرگی حاصل نہیں ہوتی مگر کسی کارنامہ کی وجہ سے اور کارنامہ نہیں ہوتا مگر مال کے ذریعہ۔ اے اللہ! تھوڑا مال مجھے نفع نہیں پہنچا سکتا اور نہ میں اس پر مصالحت کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28319]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28319، ترقيم محمد عوامة 27151)
ترقیم عوامۃ: 27152 ترقیم الشثری: -- 28320
٢٨٣٢٠ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه قال: ادركت سعد بن عبادة وهو ينادي على اطمه: من احب شحما (و) (١) لحما فليات سعد بن عبادة، ثم ادركت ابنه بعد ذلك يدعو به، ولقد كنت امشي في طريق المدينة وانا شاب فمر علي عبد الله بن عمر (متطلعا) (٢) إلى ارضه بالعالية فقال: يا فتى (٣) انظر هل ترى على اطم سعد بن عبادة احدا ينادي؟ فنظرت فقلت: لا، فقال: صدقت (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أو).
(٢) في [هـ]: (منطلقًا).
(٣) في [هـ]: زيادة (تعال).
(٤) صحيح.
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن عبادہ کو پایا کہ وہ اپنے بلند مکان پر یوں ندا لگا رہے تھے: جو شخص چربی اور گوشت کو محبوب رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ سعد بن عبادہ کے پاس آجائے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر اس کے بعد میں نے ان کے بیٹے کو یہ ندا لگاتے ہوئے پایا۔ اور میں زمانۂ جوانی میں مدینہ کے راستہ میں چل رہا تھا کہ مجھ پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ہوا جو جنگل میں اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے جوان! ذرا دیکھو کہ کوئی سعد بن عبادہ کے بلند گھر میں ندا لگا رہا ہے؟ میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28320]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28320، ترقيم محمد عوامة 27152)
ترقیم عوامۃ: 27153 ترقیم الشثری: -- 28321
٢٨٣٢١ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه قال: كان قيس بن سعد بن عبادة ارتحل نحو المدينة ومعه اصحاب، فجعل ينحر كل يوم جزورا حتى ⦗٥١٢⦘ بلغ (صرار) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مرار)، وصرار: موطن قرب المدينة.
(٢) صحيح.
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تو آپ روزانہ اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ آپ مدینہ کے قریب حرار مقام تک پہنچ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28321، ترقيم محمد عوامة 27153)
ترقیم عوامۃ: 27154 ترقیم الشثری: -- 28322
٢٨٣٢٢ - حدثنا ابو اسامة عن جرير بن حازم عن (ابن سيرين) (١) قال: كان رسول الله ﷺ إذا امسى قسم ناسا من اهل الصفة بين اناس من اصحابه، فكان الرجل يذهب بالرجل، والرجل بالرجلين، والرجل بالثلاثة، حتى ذكر عشرة، قال: فكان سعد بن عبادة يرجع إلى اهله (كل ليلة) (٢) بثمانين (منهم) (٣) يعشيهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (إسرائيل).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [جـ، ز، م]: (منهم).
(٤) مرسل، ابن سيرين تابعي.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب شام ہوجاتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحابِ صفہ کو صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیتے۔ پھر ایک صحابی ایک کو لے جاتے اور ایک صحابی دو لوگوں کو لے جاتے اور ایک صحابی تین لوگوں کو لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دس کا ذکر کیا۔ اور فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ ہر رات کو ان میں سے آٹھ لوگوں کو لے کر لوٹتے اور ان کو رات کا کھانا کھلاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28322، ترقيم محمد عوامة 27154)
ترقیم عوامۃ: 27155 ترقیم الشثری: -- 28323
٢٨٣٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يعلى عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن (عبيد الله) (١) بن عبد الله عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ اجود من الريح المرسلة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عبد اللَّه).
(٢) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (٢٥٤٢)، وعبد بن حميد (٦٤٧)، وابن سعد (٢/ ١٩٥)، وأصله في البخاري (١٩٠٢)، ومسلم (٢٣٠٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28323، ترقيم محمد عوامة 27155)
ترقیم عوامۃ: 27156 ترقیم الشثری: -- 28324
٢٨٣٢٤ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : (حدثنا) (٢) يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (٣) إبراهيم بن سعد عن الزهوي عن عبيد الله عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ ⦗٥١٣⦘ اجود الناس بالخير، وكان اجود ما يكون حين يلقاه جبريل (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [ز]: (أخبرنا).
(٣) في [ز]: (أخبرنا).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٠٢)، ومسلم (٢٣٠٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں خیر کے اعتبار سے سب سے زیادہ فیاض تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب سے حضرت جبریل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28324، ترقيم محمد عوامة 27156)