مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
54. اليد أو الرجل تكسر ثم (تبرأ)
ہاتھ یا پائوں ٹوٹ کر ٹھیک ہو جائیں تو ان کی دیت
ترقیم عوامۃ: 27670 ترقیم الشثری: -- 28867
٢٨٨٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: إذا كسرت اليد او الرجل ثم برات ولم ينقص منها شيء ارشها مائة وثمانون درهما.
حضرت ابراہیم کا ارشاد ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جب ہاتھ یا پاؤں ٹوٹ کر دوبارہ ٹھیک ہوجائے اور اس میں کوئی نقص بھی پیدا نہ ہو تو اس میں ”١٨٠“ درہم دیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28867]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28867، ترقيم محمد عوامة 27670)
ترقیم عوامۃ: 27671 ترقیم الشثری: -- 28868
٢٨٨٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن القعقاع (بن) (١) يزيد عن إبراهيم: في اليد او الرجل إذا كسرت صلح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عن).
حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ ہاتھ پاؤں جب کٹ جائیں تو اس میں صلح ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28868]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28868، ترقيم محمد عوامة 27671)
ترقیم عوامۃ: 27672 ترقیم الشثری: -- 28869
٢٨٨٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن اشعث عن عبد الله بن ذكوان ان عمر قضى في الرجل كسرت ساقه فجبرت واستقامت فقضى فيها بعشرين ⦗٩٥⦘ دينارا، قال: قيل له إنها وهنت (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أن السبب في حكم عمر بهذا أنه قيل له: إن الرجل ضعفت بسبب الكسر.
(٢) منقطع؛ عبد اللَّه بن ذكوان لا يروي عن عمر، وأشعث ضعيف.
حضرت عبداللہ بن ذکوان سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ جس کی پنڈلی ٹوٹ گئی اور پھر جڑ کر صحیح ہوگئی تھی بیس دینار کا، عبداللہ بن ذکوان کا ارشاد ہے کہ ان سے کہا گیا یہ تو بہت ہلکی دیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28869]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28869، ترقيم محمد عوامة 27672)
ترقیم عوامۃ: 27673 ترقیم الشثری: -- 28870
٢٨٨٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع حدثنا سعيد بن عبد الرحمن (عن ابن سيرين) (١) عن شريح في رجل كسر يد رجل فجبرت، فقال: شريح على الكاسر اجر الجابر، اما يحمد الله حيث رد عليه يده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت شریح نے ایسے آدمی کے بارے میں کہ جس نے دوسرے کا ہاتھ توڑ دیا تھا پھر وہ صحیح ہوگیا فرمایا ہے کہ توڑنے والے پر صرف جوڑنے والے کی اجرت ہے، کیا وہ یعنی جس کا ہاتھ ٹوٹا تھا اس پر شکر ادا نہیں کرتا کہ اللہ نے اس کا ہاتھ ٹھیک کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28870]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28870، ترقيم محمد عوامة 27673)
ترقیم عوامۃ: 27674 ترقیم الشثری: -- 28871
٢٨٨٧١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن ابي بشر عن سعيد بن المسيب قال: في الاعضاء كلها حكومة.
حضرت سعیدبن مسیب کا ارشاد ہے کہ تمام اعضاء میں فیصلہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28871]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28871، ترقيم محمد عوامة 27674)
ترقیم عوامۃ: 27675 ترقیم الشثری: -- 28872
٢٨٨٧٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (ابن) (١) سالم عن الشعبي عن زيد بن ثابت: في الساق تكسر خمسون دينارا، وإذا (برات) (٢) على (عثم) (٣) ففيها خمسون دينارا وفي العثم ما فيه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (أبي).
(٢) في [ك]: (برت).
(٣) في [ط]: (عثيم).
(٤) ضعيف جدًا؛ محمد بن سالم متروك.
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ جب پنڈلی ٹوٹ جائے تو اس میں پچاس دینار ہیں اور جب وہ ٹیڑھی جڑ جائے تو اس میں پچاس دینار ہیں اور ٹیڑھے میں وہ دیت ہے جو ٹوٹنے میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28872]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28872، ترقيم محمد عوامة 27675)
ترقیم عوامۃ: 27676 ترقیم الشثری: -- 28873
٢٨٨٧٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد عن قتادة عن سليمان بن يسار قال: في الذراع والساق والعضد والفخذ إذا كسرت ثم جبرت قلوصان قلوصان.
حضرت سلیمان یسار فرماتے ہیں کہ کلائی، پنڈلی، بازو اور ران جب ٹوٹ جائیں اور جڑ جائیں تو اس میں دو، دو جوان اونٹنیاں دیت ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28873]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28873، ترقيم محمد عوامة 27676)
ترقیم عوامۃ: 27677 ترقیم الشثری: -- 28874
٢٨٨٧٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء ⦗٩٦⦘ (قلت) (١) له: كسر اليد او الرجل (او) (٢) (الترقوة) (٣) فجبرت (فاستوت) (٤) ، قال: في ذلك شيء، وما بلغني ما هو؟.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وقالت).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط].
(٣) في [ب، م]: (الرقوة)، وفي [ط]: (الرقرة).
(٤) في [ط]: (فاستوصل).
حضرت ابن جریج، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر ہاتھ یا پاؤں یا ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ کر پھر ٹیڑھی ہوجائے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کچھ تاوان ہے لیکن مجھ تک نہیں پہنچ سکی یہ بات کہ وہ کتنا یا کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28874]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28874، ترقيم محمد عوامة 27677)
ترقیم عوامۃ: 27678 ترقیم الشثری: -- 28875
٢٨٨٧٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود الطيالسي عن ابي حرة عن الحسن في رجل كسرت يده قال: يعوض من يده.
حضرت حسن سے اس شخص کے بارے میں کہ جس کا ہاتھ ٹوٹ گیا ہو مروی ہے کہ اس کو اس کے ہاتھ کا بدلہ دیا جائے گا حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ محمد نے فرمایا ہے کہ شریح نے فرمایا کہ اس کو معالج کی اجرت دی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28875]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28875، ترقيم محمد عوامة 27678)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 28876
٢٨٨٧٦ - قال: وقال محمد: قال شريح: يعطى اجر الطبيب.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28876، ترقيم محمد عوامة ---)