مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
65. العبد يجنى الجناية فيعتقه مولاه
اگر کوئی غلام جنایت کرے اور پھر اس کا آقا اسے آزاد کر دے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 27751 ترقیم الشثری: -- 28951
٢٨٩٥١ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال: إن جنى جناية فعلم بجنايته فاعتقه فهو ضامن لجنايته] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
حضرت ابراہیم کا ارشاد ہے کہ جب غلام نے کوئی جنایت کی پھر مالک کو اس کی جنایت کا علم ہوگیا اور اس نے اسے آزاد کردیا تو وہ اس جنایت کا ضامن ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28951، ترقيم محمد عوامة 27751)
ترقیم عوامۃ: 27752 ترقیم الشثری: -- 28952
٢٨٩٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر مثله.
حضرت عامر سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28952، ترقيم محمد عوامة 27752)
ترقیم عوامۃ: 27753 ترقیم الشثری: -- 28953
٢٨٩٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري في العبد يجر الجريرة فيعتقه سيده انه يجوز عتقه ويضمن سيده (ثمنه) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (مثله).
حضرت زہری سے مروی ہے کہ غلام جب کوئی گناہ کرے اور اس کا مالک اس کو آزاد کردے تو اس کا آزاد کرنا جائز ہوگا اور وہ اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28953، ترقيم محمد عوامة 27753)
ترقیم عوامۃ: 27754 ترقیم الشثری: -- 28954
٢٨٩٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد عن اشعث عن [محمد في العبد يجني الجناية قال: في رقبته، قلت: فإن اعتقه مولاه قال: عليه قيمته.
حضرت محمد سے غلام کے بارے میں مروی ہے کہ جب وہ جنایت کرے تو اس کی گردن پر ہوگا حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اگر اس کا مالک اس کو آزاد کردے تو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پھر اس پر اس کی قیمت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28954]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28954، ترقيم محمد عوامة 27754)
ترقیم عوامۃ: 27755 ترقیم الشثری: -- 28955
٢٨٩٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي عدي عن اشعث عن] (١) الحسن في عبد جنى جناية فعلم مولاه فاعتقه قال: يسعى العبد في جنايته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [ط، هـ].
حضرت حسن کا ارشاد مروی ہے غلام کے بارے میں کہ جب اس نے کوئی جنایت کی پھر اس کے آقا کو علم ہوگیا اور اس نے اسے آزاد کردیا، تو غلام اپنی جنایت کی ادائیگی میں خودکوشش کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28955]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28955، ترقيم محمد عوامة 27755)
ترقیم عوامۃ: 27756 ترقیم الشثری: -- 28956
٢٨٩٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن (عبد الوارث) (١) عن جرير بن حازم عن حماد سئل عن العبد يصيب الجناية قال: سيده بالخيار، إن شاء دفعه وإن شاء اسلمه، فإن اعتقه فعليه ثمن العبد، وليس على العبد شيء إذا اعتق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عبد الواحد).
حضرت حماد سے مروی ہے کہ ان سے اس غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے جنایت کا ارتکاب کیا ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا آقا مختار ہے اگر چاہے تو غلام دیدے اور اگر چاہے تو اس کو روک لے اور اگر اس نے اسے آزاد کردیا تو اس پر غلام کی قیمت لازم ہوگی اور غلام کو جب آزاد کردیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28956]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28956، ترقيم محمد عوامة 27756)
ترقیم عوامۃ: 27757 ترقیم الشثری: -- 28957
٢٨٩٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن طارق عن الشعبي في عبد قتل رجلا (حرا) (١) فبلغ مولاه فاعتقه، قال: عتقه جائز وعلى مولاه الدية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت شعبی کا ایسے غلام کے بارے میں ارشاد مروی ہے کہ جس نے آزاد آدمی کو قتل کردیا پھر اس کے آقا کو خبر ملی تو اس نے آزاد کردیا وہ فرماتے ہیں کہ اس کا آزاد کرنا جائز ہوگا اور اس کے آقا پر دیت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28957]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28957، ترقيم محمد عوامة 27757)
ترقیم عوامۃ: 27758 ترقیم الشثری: -- 28958
٢٨٩٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إن كان مولاه اعتقه وقد علم بالجناية فهو ضامن (للجناية) (١) وإن لم يكن علم (بالجناية) (٢) فعليه قيمة العبد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (من الجناية)، وفي [أ، ط، هـ]: (الجناية).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (الجناية).
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر اس کے آقا نے اس غلام کی جنایت کو جاننے کے بعد آزاد کیا تو وہ جنایت کا ضامن ہوگا اور اگر وہ آقا جنایت سے ناواقف تھا تو اس کے اوپر غلام کی قیمت لازم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 28958]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28958، ترقيم محمد عوامة 27758)