مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
129. العقل على من يكون؟
دیت کس پر لازم ہوگی؟
ترقیم عوامۃ: 28150 ترقیم الشثری: -- 29382
٢٩٣٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم عن (مقسم) (١) عن ابن عباس قال: كتب رسول الله ﷺ كتابا بين المهاجرين والانصار (٢) ان يعقلوا معاقلهم، وان يفدوا (عانيهم) (٣) بالمعروف والإصلاح (٤) بين المسلمين (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (المقسم).
(٢) في [جـ]: زيادة (و).
(٣) في [جـ، هـ]: (عاينهم).
(٤) في [ك]: زيادة (على الأنصار).
(٥) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٤٤٣)، وأبو يعلى (٢٨٤٨)، وابن حزم في المحلى (١١/ ٤٥).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک دستاویز لکھی: وہ ان کی زمانہ جاہلیت کی دیت ادا کریں گے اور ان کے قیدیوں کو چھڑائیں گے نیکی اور مسلمانوں کے درمیان اصلاح و درستگی کی نیت سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29382، ترقيم محمد عوامة 28150)
ترقیم عوامۃ: 28151 ترقیم الشثری: -- 29383
٢٩٣٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن ابي ليلى عن الشعبي قال: جعل رسول الله ﷺ عقل قريش (على قريش) (١) وعقل الانصار على الانصار (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك، م]، وانظر: المحلى (١١/ ٤٥)، ونصب الراية (٤/ ٣٩٨).
(٢) مرسل ضعيف؛ الشعبي تابعي، وابن أبي ليلى سيئ الحفظ.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کی دیت قریش پر اور انصار کی دیت انصار پر ڈالی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29383، ترقيم محمد عوامة 28151)
ترقیم عوامۃ: 28152 ترقیم الشثری: -- 29384
٢٩٣٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (عيسى) (١) بن يونس عن الاعمش عن إبراهيم ان رسول الله ﷺ جعل العقل على العصبة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك، م]: زيادة (عيسى).
(٢) مرسل، إبراهيم ليس صحابيًا.
حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کی ادائیگی عصبی رشتہ داروں پر مقرر فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29384، ترقيم محمد عوامة 28152)
ترقیم عوامۃ: 28153 ترقیم الشثری: -- 29385
٢٩٣٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: اختصم علي والزبير في (ولاء) (١) موالي صفية (إلى عمر) (٢) فقضى ⦗١٩٢⦘ عمر بالميراث للزبير، وبالعقل على علي (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (ولى)، وفي [ب]: (ولد).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر حضرت صفیہ کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا معاملہ لے کر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر نے وراثت کا فیصلہ حضرت زبیر کے حق میں کیا اور دیت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لازم کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29385، ترقيم محمد عوامة 28153)
ترقیم عوامۃ: 28154 ترقیم الشثری: -- 29386
٢٩٣٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني عبد العزيز (بن عمر قال: كتب إلي عمر بن عبد العزيز) (١) في رجل قال مواليه: لا (نعقل) (٢) عنه، فكتب إلى القاضي ان الزمهم العقل، فما اشك انهم كانوا، (آخذي) (٣) ميراثه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [أ]: (تعقل).
(٣) في [أ، هـ]: (أهدى).
حضرت عبدالعزیز بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن عبدالعزیز کو ایک ایسے آدمی کے بارے میں خط لکھا گیا کہ جس کے آقاؤں نے یوں کہا تھا کہ ہم اس کی طرف سے دیت ادا نہیں کریں گے پس آپ نے قاضی کو خط لکھا کہ وہ ان لوگوں پر دیت لازم کرے اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ وہ اس کی وراثت لینے والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29386]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29386، ترقيم محمد عوامة 28154)
ترقیم عوامۃ: 28155 ترقیم الشثری: -- 29387
٢٩٣٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان ان عمر ابن عبد العزيز (كتب) (١) : لو لم يدع قرابة إلا مواليه كانوا احق الناس بميراثه فاحمل عليهم عقله كما يرثونه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في: [ط].
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط لکھا: قرابت و رشتہ داری کو نہیں چھوڑا مگر اس کے موالی نے وہ ہی لوگوں میں اس کی وراثت کے زیادہ حقدار ہیں لہذا ان ہی پر اس کی دیت کا بوجھ ڈالو جیسا کہ وہ اس کے وارث بنتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29387، ترقيم محمد عوامة 28155)
ترقیم عوامۃ: 28156 ترقیم الشثری: -- 29388
٢٩٣٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: الميراث للرحم والجرائر على من اعتق.
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا: وراثت رشتہ داروں کے لیے ہوگی اور جنایت کے ضمان آزاد کرنے والے پر لازم ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29388، ترقيم محمد عوامة 28156)
ترقیم عوامۃ: 28157 ترقیم الشثری: -- 29389
٢٩٣٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل اعتقه قوم (و) (١) اعتق اباه آخرون، قال: (يتوارثان) (٢) بالارحام، وجنايتهما على عاقلة مواليهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ح]: (يتوارثون).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس کو اس کی قوم نے اور اس کے باپ کو دوسرے لوگوں نے آزاد کیا۔ آپ نے یوں فرمایا: وہ دونوں رشتہ داری کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث بنیں گے اور ان کی جنایت کا ضمان ان کے آقاؤں کے خاندان پر لازم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29389، ترقيم محمد عوامة 28157)
ترقیم عوامۃ: 28158 ترقیم الشثری: -- 29390
٢٩٣٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن (١) حماد قال: جناية المولى على عاقلة مواليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: زيادة (إبراهيم).
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حماد نے ارشاد فرمایا: آزاد کردہ غلام کی جنایت کا ضمان اس کے آقا کے خاندان پر لازم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29390، ترقيم محمد عوامة 28158)
ترقیم عوامۃ: 28159 ترقیم الشثری: -- 29391
٢٩٣٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن مجاهد ان رجلا اتى عمر فقال: إن رجلا اسلم على يدي فمات وترك الف درهم، فتحرجت منها فرفعتها إليك، فقال: ارايت لو جنى جناية على من كانت تكون؟ قال: علي، قال: فميراثه لك (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع ضعيف؛ مجاهد لم يدرك عمر، وخصيف ضعيف.
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آ کر کہنے لگا: ایک آدمی نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا پھر اس کی وفات ہوگئی اور اس نے ایک ہزار درہم چھوڑے پس میں اس کی پریشانی سے بچنے کے لیے یہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ اس پر حضرت عمر نے پوچھا: تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر وہ شخص کوئی جنایت کرتا تو اس کا ضمان کس پر لازم ہوتا؟ اس آدمی نے کہا: مجھ پر آپ نے فرمایا: اس کی وراثت بھی تمہیں ملے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29391]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29391، ترقيم محمد عوامة 28159)