مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
154. من قال: ليس لقاتل المؤمن توبة
جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
ترقیم عوامۃ: 28313 ترقیم الشثری: -- 29554
٢٩٥٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن إبراهيم قال: قال عبد الله: لا يزال الرجل في فسحة من دينه ما (نقيت) (١) كفه من الدم، فإذا ⦗٢٢٨⦘ غمس يده في دم حرام نزع حياؤه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (نقيت).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن عبد اللَّه.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا: آدمی مسلسل دین کی کشادگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس کا ہاتھ خون سے صاف ہو۔ پس جب وہ اپنا ہاتھ حرام خون میں ڈبو لیتا ہے تو اس کی حیا سلب کرلی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29554]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29554، ترقيم محمد عوامة 28313)
ترقیم عوامۃ: 28314 ترقیم الشثری: -- 29555
٢٩٥٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (شمر) (١) عن شهر بن حوشب عن ابي الدرداء قال: يجيء المقتول يوم القيامة (فيجلس) (٢) على (الجادة) (٣) فإذا مر به القاتل قام إليه فاخذ بتلبيبه فيقول: يا رب سل هذا (فيم قتلني) (٤) قال: فيقول امرني [ (فلان) (٥) قال: فيؤخذ القاتل] (٦) والآمر فيلقيان في النار (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فيجلسه).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (الجلدة).
(٤) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٥) في [أ، ح، هـ]: (قال).
(٦) سقط من: [جـ، ك].
(٧) منقطع حكمًا، شهر مدلس فيه ضعف، أخرجه البيهقي في الشعب (٥٣٢٩)، وأخرجه مرفوعًا أبو نعيم في الحلية (٧/ ١٣٢)، وابن أبي عاصم في الديات (ص ٩).
حضرت شھر بن حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا: مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اور راستہ کے بیچ میں بیٹھ جائے گا جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا تو وہ کھڑا ہو کر اس کے گریبان کو پکڑ لے گا اور کہے گا: اے پروردگار! اس سے پوچھ کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا! تو وہ شخص کہے گا کہ مجھے فلاں نے حکم دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: قاتل اور حکم دینے والے دونوں کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29555، ترقيم محمد عوامة 28314)
ترقیم عوامۃ: 28315 ترقیم الشثری: -- 29556
٢٩٥٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابو الاشهب قال: سمعت مزاحم الضبي [يحدث] الحسن عن ابن عباس قال: بينما رجل قد سقى في حوض (له) (١) ينتظر (٢) (ذودا) (٣) (يرد) (٤) عليه، إذ جاءه رجل راكب ظمآن مطمئن، قال: ارد؟ قال: (لا) (٥) ، قال: فتنحى، فعقل راحلته، فلما رات الماء دنت من الحوض، ⦗٢٢٩⦘ ففجرت الحوض، قال: فقام (صاحب) (٦) الحوض فاخذ سيفا من عنقه، ثم (ضربه) (٧) به حتى قتله، قال: فخرج يستفتي، فسال (رجالا) (٨) من اصحاب محمد لست اسميهم، فكلهم (يؤيسه) (٩) حتى اتى رجلا منهم فقال: هل تستطيع (ان تصدره كما اوردته؟ قال: لا، قال: فهل تستطيع) (١٠) ان تبتغي (نفقا) (١١) في الارض او سلما في السماء؟ فقال: لا، قال: فقام الرجل، فذهب غير بعيد، فدعاه فرده فقال: هل لك من والدين؟ (فقال) (١٢) : نعم، امي حية، قال: احملها وبرها، فإن (دخل) (١٣) (الآخر) (١٤) النار فابعد الله من ابعده (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) زيادة في: [ط]: (له).
(٣) في [أ، هـ]: (زودًا).
(٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (ترد).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (ضرب).
(٨) في [ط]: (رجل).
(٩) في [ط]: (بواسه).
(١٠) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) في [أ، ب، ح]: (قال).
(١٣) في [أ، هـ]: (أدخل).
(١٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (اللَّه).
(١٥) منقطع؛ مزاحم لا يروي عن ابن عباس.
حضرت ابو الاشھب فرماتے ہیں کہ حضرت مزاحم ضبی نے حضرت حسن بصری کو بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی اپنے حوض میں سیراب کرنے کے لیے اپنے اونٹوں کا انتظار کررہا تھا جو اس حوض پر اترنے والے تھے کہ اس کے پاس ایک پیاسا سوار شخص اطمناین کے ساتھ آیا اور کہنے لگا: کیا میں پانی کے پاس آجاؤں؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ پس وہ شخص دور ہوگیا۔ اس نے اپنی سواری کو باندھا جب اس کی سواری نے پانی دیکھا تو وہ حوض کے قریب ہوگئی اور حوض میں گھس گئی پھر وہ حوض کا مالک اٹھا اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس آدمی کو مارڈالا۔ راوی کہتے ہیں: پس وہ شخص فتوی لینے کے لیے نکلا پس اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند لوگوں سے سوال کیا میں ان کے نام نہیں بتلاؤں گا وہ سب اس کو مایوس کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ ایک صحابی کے پاس گیا، انہوں نے اس آدمی سے کہا: کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے دے یا آسمان تک سیڑھی بنا لے؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر و ہ آدمی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین ہیں؟ اس نے کہا میری والدہ زندہ ہیں۔ ان صحابی نے ان سے کہا کہ جا ان کی خدمت کر اور ان کی فرماں برداری کر۔ اگر دوسرا شخص جہنم میں داخل ہوا تو اللہ دور کرے اس شخص کو جو اسے دور کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29556، ترقيم محمد عوامة 28315)
ترقیم عوامۃ: 28316 ترقیم الشثری: -- 29557
٢٩٥٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (سلام) (١) بن مسكين قال: حدثنا سليمان بن علي عن ابي سعيد (٢) قال: قيل له في هذه الآية: ﴿من قتل نفسا بغير نفس او فساد في الارض فكانما قتل الناس جميعا﴾ [المائدة: ٣٢] ، ⦗٢٣٠⦘ اهي (لنا) (٣) كما كانت لبني إسرائيل؟ قال: فقال: إي، والذي لا إله إلا هو.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سالم).
(٢) في [س]: زيادة (الخدري)، وهو خطأ، لأن المراد الحسن البصري، وانظر: تفسير ابن كثير ٢/ ٤٨، وتفسير البحر المحيط ٣/ ٤٨٣، وتفسير الثعلبي ٤/ ٥٤.
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حضرت سلیمان بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری سے پوچھا گیا اس آیت کے بارے میں۔ ترجمہ:۔ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کرڈالا سب انسانوں کو کیا اس آیت کا حکم ہمارے لیے بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کے لیے تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں قسم ہے! اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29557]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29557، ترقيم محمد عوامة 28316)