مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
174. القسامة من لم يرها
قسامت کا بیان جو اس کو جائز نہیں سمجھتا
ترقیم عوامۃ: 28432 ترقیم الشثری: -- 29679
٢٩٦٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يحيى بن ابي إسحاق قال: سمعت سالم بن عبد الله يقول وقد تيسر قوم من بني ليث ليحلفوا الغد في القسامة فقال: يا لعباد الله لقوم يحلفون على ما لم يروه ولم يحضروه ولم يشهدوه، ولو كان لي -او إلي- من الامر شيء لعاقبتهم او لنكلتهم او لجعلتهم نكالا، وما قبلت لهم شهادة.
حضرت یحییٰ بن ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا: جبکہ بنو لیث کی ایک قوم اس بات کے لیے تیار ہوگئی تیہ کہ وہ اگلے دن قسامۃ کے معاملہ میں قسم اٹھائے گی اس پر آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! قوم کے لوگ قسم اٹھائیں گے ایسی بات پر جو انہوں نے نہیں دیکھی اور نہ وہ موجود تھے اور نہ وہ اس پر گواہ تھے۔ اور اگر مجھے اس معاملہ میں اختیار ہوتا تو میں ان کو ضرور سزا دیتا یا یوں فرمایا: کہ میں ان کو عبرتناک سزا دیتا یا میں ان کو قابل عبرت بنا دیتا اور میں ان کی گواہی قبول نہ کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29679، ترقيم محمد عوامة 28432)
ترقیم عوامۃ: 28433 ترقیم الشثری: -- 29680
٢٩٦٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (حجاج) (١) بن ابي عثمان قال: حدثني ابو رجاء مولى ابي قلابة عن ابي قلابة ان عمر بن عبد العزيز ابرز سريره يوما للناس ثم اذن لهم فدخلوا عليه، فقال: ما (تقولون) (٢) في القسامة؟ (فاضب) (٣) الناس فقالوا: نقول القسامة القود بها حق، وقد اقادت بها الحلفاء، فقال: ما تقول يا ابا قلابة؟ ونصبني للناس، قلت: يا امير المؤمنين عندك اشراف العرب ورؤوس الاجناد، ارايت لو ان خمسين منهم شهدوا على رجل بحمص انه قد سرق ولم يروه: اكنت تقطعه؟ قال: لا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الحجاج).
(٢) في [ب]: (يقولون).
(٣) في [أ، ب، ك]: (فأصب)، وفي [ط]: (ما أصب).
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک دن لوگوں کے سامنے اپنا تخت ظاہر کیا پھر آپ نے ان سب کو اجازت دی اور وہ آپ کے پاس آگئے آپٖ نے پوچھا! تم لوگ قسامۃ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ لوگ غور و فکر کرنے لگے اور کہنے لگے قسامت کے ذریعہ قصاص لینا برحق ہے اور تحقیق خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا اے ابو قلابہ! تم کیا کہتے ہو؟ اور انہوں نے ہی مجھے لوگوں کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے کہا اے امیرالمومنین! آپ کے پاس عرب کے معزز لوگ اور لشکروں کے سردار موجود ہیں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر ان میں سے پچاس آدمی حمص کے ایک آدمی کے خلاف گواہی دیں کہ اس نے چوری کی ہے حالانکہ انہوں نے اس کو نہیں دیکھاتو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو کبھی قتل نہیں کیا مگر ان تین باتوں میں سے ایک کی وجہ سے، ایک وہ آدمی جو اپنے نفس کے گناہ کی وجہ سے قتل کیا گیا یا وہ آدمی تو جو اپنے محصن ہونے کے باوجود زنا کرے یا وہ آدمی جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرے اور اسلام سے مرتد ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29680، ترقيم محمد عوامة 28433)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29681
٢٩٦٨١ - قلت: وما قتل رسول الله ﷺ احدا قط، إلا في إحدى ثلاث خصال: رجل يقتل (يحريرة) (١) نفسه، او رجل زنى بعد إحصان، او رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الإسلام (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (بحديدة).
(٢) مرسل؛ أبو قلابة تابعي.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29681، ترقيم محمد عوامة ---)