🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. (في) الرجل يقع على جارية امرأته
اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی کی باندی سے جماع کرلے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29136 ترقیم الشثری: -- 30446
٣٠٤٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عامر عن سالم عن ابن عمر قال: قال عمر: لو اتيت برجل وقع على جارية امراته لرجمته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) عامر لم أعرفه، ويحتمل أنه عاصم بن عبيد اللَّه فيكون الأثر صحيحًا.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: اگر میرے پاس ایسا آدمی لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کی ہو تو میں ضرور اسے سنگسار کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30446، ترقيم محمد عوامة 29136)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29137 ترقیم الشثری: -- 30447
٣٠٤٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) ابن ابي عروبة عن إياس بن معاوية عن نافع، قال: (جاءت) (٢) جارية إلى عمر فقالت: ⦗٤٣٦⦘ يا امير المؤمنين إن المغيرة يطاني، وإن امراته تدعوني زانية، فإن كنت لها (فانهه) (٣) عن غشياني، وإن كنت له فانه امراته عن قذفي، فارسل إلى المغيرة فقال: تطا هذه الجارية؟ قال: نعم، قال: من اين؟ قال: وهبتها لي امراتي، قال: والله، لئن (لم) (٤) تكن وهبتها لك (لا ترجع) (٥) إلى اهلك (إلا) (٦) مرجوما، ثم (دعا رجلين رقيقين) (٧) (فقال) (٨) : انطلقا إلى امراة المغيرة فاعلماها: لئن لم تكوني وهبتها (له) (٩) لنرجمنه، قال: فاتياها فاخبراها فقالت: (يا لهفاه) (١٠) اتريد ان يرجم بعلي، لاها الله إذن لقد وهبتها له، قال: (فخلى) (١١) عنه (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) في [ب]: (جاء).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فأنهاه)، وفي [ك]: (فانها).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [هـ]: (لترجع).
(٦) سقط من: [هـ]، وفي [ك]: (إلى).
(٧) سقط من النسخ، وانظر: الاستذكار ٧/ ٥٢٨، وأخبار القضاة ١/ ٣٢١.
(٨) في [أ، ط، هـ]: (وقال).
(٩) سقط من: [ط، هـ].
(١٠) في [أ، هـ]: (بالهفاه).
(١١) في [جـ]: (فحلى).
(١٢) منقطع؛ نافع لم يدرك عمر.

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک باندی حضرت عمر کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے میرا لمومنین! بیشک حضرت مغیرہ مجھ سے وطی کرتے ہیں اور ان کی بیوی مجھے زانیہ پکارتی ہے پس اگر میں ان کی بیوی کی ملکیت ہوں تو آپ ان کو مجھ سے وطی کرنے سے روک دیں اور اگر میں مغیرہ کی ملکیت ہوں تو آپ ان کی بیوی کو مجھ پر تہمت لگانے سے باز کریں۔ اس پر آپ نے قاصد بھیج کر حضرت مغیرہ کو بلایا اور پوچھا: کیا تم اس باندی سے وطی کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: تمہیں کہاں سے ملی؟ انہوں نے فرمایا: یہ میری بیوی نے مجھے ہبہ کی ہے آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر اس نے یہ باندی تمہیں ھبہ نہ کی ہو تو تم آج گھر نیں و لوٹو گے مگر کوڑے کھا کر۔ پھر آپ نے فلاں اور فلاں کو حکم دیا اور ارشاد رفرمایا: تم دونوں آدمی مغیرہ کی بیوی کے پاس جاؤ، اور اسے اس بارے میں بتلاؤ، اگر تو نے یہ باندی اس کو ھبہ نہیں کی تو ہم ضرور اسے سنگسار کردیں گے۔ پس وہ دنوں آدمی حضرت مغیرہ کی بیوی کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں خبر دی۔ اس نے کہا: اے افسوس! کیا وہ میرے شوہر کو سنگسار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں! تب اللہ اس سے جھگڑے، تحقیق اس کو میں نے وہ باندی ھبہ کی تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30447، ترقيم محمد عوامة 29137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29138 ترقیم الشثری: -- 30448
٣٠٤٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة (عن إبراهيم) (١) قال: اتى رجل ابن مسعود فقال: إني وقعت على جارية امراتي، فقال: قد ستر الله عليك (فاستتر) (٢) ، فبلغ ذلك عليا فقال: لو اتاني الذي اتى ابن ام عبد لرضخت راسه بالحجارة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فاستر).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ابن مسعود ولا عليًا.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا! بیشک میں نے اپنی بیوی کی باندی سے جماع کرلیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: تحقیق اللہ نے تیری ستر پوشی فرمائی ہے تو تو بھی ستر پوشی کر۔ یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: اگر میر سے پاس وہ شخص آتا جو حضرت ابن ام عبد کے پاس آیا تھا تو میں ضرور اس کا سر پتھروں سے کچل دیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30448، ترقيم محمد عوامة 29138)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں