مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
118. في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟
زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
ترقیم عوامۃ: 29371 ترقیم الشثری: -- 30692
٣٠٦٩٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس قال: قال عمر: قد خشيت ان يطول بالناس زمان حتى يقول القائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة انزلها الله، الا وإن الرجم حق إذا احصن (الرجل) (١) (او) (٢) قامت البينة او كان حمل او اعتراف وقد قراتها: ⦗٤٩٤⦘"الشيخ والشيخة (إذا زنيا) (٣) فارجموهما البتة"، رجم رسول الله ﷺ، ورجمنا بعده (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (و).
(٣) سقطت من: [جـ، ك].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٣٥)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر لمبازمانہ گزرے گا یہاں تک کہ کہنے والا کہے گا: ہم تو رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے! سو وہ گمراہ ہوں گے ایک فریضہ کو چھوڑنے کی وجہ سے جس کا حکم اللہ نے نازل کیا ہے خبردار! رجم کا حکم برحق ہے جب آدمی شادی شدہ ہو یا بینہ قائم ہوجائے یا حاملہ ہو یا اعتراف کیا ہو اور تحقیق میں نے اس کی تلاوت کی ہے ترجمہ:۔ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب دونوں زنا کریں تو تم ان کو لازمی طور پر سنگسار کرو۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے سنگسار کیا ہے حضرت سفیان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30692، ترقيم محمد عوامة 29371)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 30693
٣٠٦٩٣ - قيل لسفيان: رجم (رسول) (١) الله ﷺ؟ قال: نعم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (لرسول).
(٢) معضل؛ سفيان من تابعي التابعين.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30693، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 29372 ترقیم الشثری: -- 30694
٣٠٦٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: سالته عن الرجل يقر بالزنا، كم يرد؟ قال: مرة.
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو زنا کا اقرر کرتا ہو کہ اس کو کتنی مرتبہ لوٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ایک مرتبہ اور میں نے حضرت حکم سے سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: چار مرتبہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30694، ترقيم محمد عوامة 29372)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 30695
٣٠٦٩٥ - وسالت الحكم فقال: اربع مرات.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30695، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 29373 ترقیم الشثری: -- 30696
٣٠٦٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ان ماعز بن مالك اتى ابا بكر فاخبره انه زنى، فقال له ابو بكر: (ذكرت هذا لاحد غيري؟ قال: لا، قال ابو بكر) (١) : استتر يستر الله، وتب إلى الله فإن الناس يغيرون، ولا يعيرون، والله يقبل التوبة عن عباده فلم تقر نفسه حتى اتى عمر فذكر مثل ما ذكر لابي بكر، فقال له عمر مثل ما قال له ابو بكر، فلم تقر نفسه حتى اتى رسول الله ﷺ فاخبره انه قد زنى، فاعرض عنه حتى قال (له) (٢) ذلك مرارا، فلما اكثر بعث إلى قومه فقال لهم:"هل اشتكى؟ ابه جنة؟" فقالوا: لا والله يا رسول الله إنه (صحيح) (٣) قال:"ابكر ام ثيب؟" (قالوا: ⦗٤٩٥⦘ بل ثيب) (٤) ، فامر به فرجم (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (لصحيح).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه مالك ٢/ ٨٢٠، وعبد الرزاق (١٣٣٤٢)، والبيهقي ٨/ ٢٢٨، وأخرجه من طريق ابن المسيب عن أبي هريرة البخاري (٦٨١٥)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور انہیں اطلاع دی کہ میں نے زنا کیا ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا: کیا تم نے اس بات کو میرے علاوہ کسی سے ذکر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا: تم اللہ کی ستر پوشی کی وجہ سے اپنا عیب چھپاؤ اور اللہ سے توبہ کرو بیشک لوگ عار دلائے جاتے ہیں لیکن غیرت نہیں کھاتے کریں گے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پس ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر کے سامنے ذکر کی تھی حضرت عمر نے بھی ان کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا۔ ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی کہ بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کہا جب بہت زیادہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف ایک قاصد بھیجا اور ان سے کہا: کیا یہ بیمار ہے؟ یا اس کو جنون لاحق ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بیشک یہ بالکل صحیح ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا! غیر شادی شدہ ہے یا شادی شدہ؟ انہوں نے کہا: بلکہ شادی شدہ ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30696، ترقيم محمد عوامة 29373)
ترقیم عوامۃ: 29374 ترقیم الشثری: -- 30697
٣٠٦٩٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا داود عن سعيد بن المسيب عن عمر قال: رجم رسول الله ﷺ ورجم ابو بكر ورجمت (انا) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٩)، والترمذي (١٤٣١)، وأصله في الصحيحين كما تقدم [٣٠٧٤٤].
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے، حضرت ابوبکر صدیق نے سنگسار کیا ہے اور میں نے سنگسار کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30697، ترقيم محمد عوامة 29374)
ترقیم عوامۃ: 29375 ترقیم الشثری: -- 30698
٣٠٦٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن اشعث عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس قال: قال عمر: الرجم حد من حدود الله فلا تخدعوا عنه، و (آية) (١) ذلك ان رسول الله ﷺ، رجم ورجم ابو بكر، ورجمت انا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أنه).
(٢) ضعيف؛ لضعف أشعث وعلي بن زيد، أخرجه أحمد (١٥٦)، وعبد الرزاق (١٣٣٦٤)، والطيالسي (٢٥)، وأبو يعلى (١٤٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٣٤٣)، والمروزي في السنة (٣٥٤)، والحارث (٧٥١/ بغية).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا: رجم کرنا اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے پس تم لوگوں کو اس کے متعلق دھوکہ میں مت ڈالا جائے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا حضرت ابوبکر نے سنگسار کیا اور میں نے بھی سنگسار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30698، ترقيم محمد عوامة 29375)
ترقیم عوامۃ: 29376 ترقیم الشثری: -- 30699
٣٠٦٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن ابي عثمان بن نصر عن ابيه قال: كنت فيمن رجم ماعزا، فلما وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول الله ﷺ (فانكرت ذلك) (١) فاتيت عاصم ⦗٤٩٦⦘ ابن عمر فقال: قال الحسن بن محمد بن الحنفية: لقد بلغني فانكرته، فاتيت جابرا فقلت: لقد ذكر (الاسلمي) (٢) شيئا من قول ماعز بن مالك: ردوني، فانكرته فقال: انا فيمن رجمه فقال: إنه وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول الله ﷺ فإن قومي آذوني وقالوا: (ائت) (٣) (رسول الله ﷺ) (٤) فإنه غير قاتلك، فما (اقلعنا) (٥) عنه حتى قتلناه، فلما ذكر شانه للنبي ﷺ (فقال) (٦) :"الا تركتموه حتى انظر في شانه" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (أن سلمي).
(٣) في [ب]: (أتيت النبي).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) في [ب]: (أقلعهما)، وفي: [هـ] (اقلعتا).
(٦) في [ك]: (قال).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي عثمان بن نضر، أخرجه أحمد (١٥٥٥٥)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٧)، والدارمي ٢/ ١٧٧، والطحاوي في شرح المشكل (٤٣٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني (٢٣٨١)، وقوله: (عن أبي عثمان) قال المزي: وهم صوابه عن أبي الهيثم، وقصة جابر أخرجها النسائي (٧٢٠٦)، وأبو داود (٤٤٢٠)، وأحمد (١٥٠٨٩)، وأصل حديث الرجم عن جابر عند البخاري (٦٨٢٠)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا: میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے: تم لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا: حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں: تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا: تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں! سو انہوں نے جواب دیا: میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا: بیشک انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انہیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30699، ترقيم محمد عوامة 29376)
ترقیم عوامۃ: 29377 ترقیم الشثری: -- 30700
٣٠٧٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن مساور بن (عبيد) (١) عن ابي برزة قال: رجم رسول الله ﷺ رجلا منا يقال: له ماعز ابن مالك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبيدة).
(٢) مجهول، مساور روى عنه عوف، وذكره ابن حبان في الثقات، واختلف في رواية عيسى بن طهمان عنه، وأخرجه أحمد (١٩٧٩٧)، وأبو يعلى (٧٤٣١)، والبزار (٣٨٥٠).
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ایک آدمی کو سنگسار کیا، جس کا نام ماعز بن مالک تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30700، ترقيم محمد عوامة 29377)
ترقیم عوامۃ: 29378 ترقیم الشثری: -- 30701
٣٠٧٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن الحسن عن محمد بن سليم (١) ابي هلال عن نجيح (ابي علي عن النبي ﷺ) (٢) قال: رجم رسول الله ﷺ ورجم ابو بكر وعمر وامرهما سنة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (عن).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) مرسل مجهول؛ نجيح مجهول، لم تثبت له صحبة، وأخرجه أبو يعلى (٤٢١٥) متصلًا من حديث أنس، وانظر: المطالب العالية (١٨٦٣).
حضرت نجیح ابو علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور حضرت ابوبکر و عمر نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور ان دونوں کا طریقہ بھی دین ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30701، ترقيم محمد عوامة 29378)