مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
137. في التعزير: كم هو؟ وكم يبلغ به؟
تعزیر کا بیان کتنی سزا ہوگی؟ اور کتنی حد تک پہنچائے جا سکتے ہیں؟
ترقیم عوامۃ: 29473 ترقیم الشثری: -- 30800
٣٠٨٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن حميد الاعرج عن يحيى بن عبد الله بن صيفي ان عمر كتب إلى ابي موسى الا تبلغ في تعزير اكثر من ثلاثين (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ يحيى بن عبد اللَّه بن صيفي لم يدرك عمر.
حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا؟ تعزیر میں تیس سے زیادہ مقدار میں کوڑے نہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30800]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30800، ترقيم محمد عوامة 29473)
ترقیم عوامۃ: 29474 ترقیم الشثری: -- 30801
٣٠٨٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن جامع عن ابي وائل ان ⦗١٣⦘ رجلا كتب إلى ام سلمة في دين له قبلها (يحرج) (١) عليها فيه، فامر عمر بن الخطاب ان يضرب ثلاثين جلدة، قال بعض اصحابنا: كلها يبضع و (يحدر) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (تخرج)، وفي [هـ]: (يخرج).
(٢) في [ب]: (تحدر)، والمراد: أنها موجعة: تبضع اللحم وتحدر الدم، انظر: أحكام القرآن للجصاص ٥/ ١٠١، والتمهيد لابن عبد البر ٥/ ٣٣٠، وغريب الحديث لأبي عبيد ٣/ ٢٤٣، وتهذيب اللغة ٤/ ٢٣٦.
(٣) صحيح.
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ام سلمہ کو خط لکھا اپنے قرض کے بارے میں جوان پر لازم تھا اس نے اس خط میں آپ کو پریشان کیا۔ تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس شخص کو تیس کوڑے مارے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30801]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30801، ترقيم محمد عوامة 29474)
ترقیم عوامۃ: 29475 ترقیم الشثری: -- 30802
٣٠٨٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص عن اشعث عن الشعبي قال: التعزير ما بين السوط إلى الاربعين.
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: تعزیر کی مقدار ایک کوڑے سے چالیس کوڑوں کے مابین ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30802]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30802، ترقيم محمد عوامة 29475)
ترقیم عوامۃ: 29476 ترقیم الشثری: -- 30803
٣٠٨٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن صدقة بن عبد الله (عن) (١) الحارث بن عتبة ان عمر بن عبد العزيز اتي برجل يسب عثمان فقال: ما حملك على ان سببته؟ قال: ابغضه قالوا: وإن ابغضت رجلا سببته؟ قال: فامر به فجلد ثلاثين جلدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (بن).
حضرت حارث بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پا س ایک آدمی لایا گیا جو حضرت عثمان کو گالیاں دیتا تھا، آپ نے پوچھا! کس بات نے تجھے ان کو گالیاں دینے پر ابھارا؟ اس نے کہا: میں ان سے بغض رکھتا ہوں آپ نے فرمایا: اگر تو کسی آدمی سے بغض رکھے گا تو اس کا مطلب ہے کہ تو اسے گالی دے؟ تو آپ کے حکم سے اس کو تیس کوڑے مارے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30803]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30803، ترقيم محمد عوامة 29476)
ترقیم عوامۃ: 29477 ترقیم الشثری: -- 30804
٣٠٨٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن طلحة بن يحيى قال: كنت جالسا عند عمر بن عبد العزيز فجاءه رجل فساله الفريضة، فلم يفرض له، فقال: هو كافر بالله إن لم يفرض له، قال: فضربه ما بين العشرة إلى الخمسة عشر.
حضرت طلحہ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوتا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے روزینہ مقرر کرنے کا سوال کیا آپ نے اس کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا تو وہ کہنے لگا: وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اگر وہ حصہ مقرر نہ کرے! راوی کہتے ہیں! پس آپ نے اسے دس سے پندرہ کوڑے مارے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30804]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30804، ترقيم محمد عوامة 29477)
ترقیم عوامۃ: 29478 ترقیم الشثری: -- 30805
٣٠٨٠٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن يزيد ابن ابي حبيب عن بكير بن عبد الله عن سليمان بن يسار عن عبد الرحمن بن جابر عن ابي بردة بن نيار قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يجلد فوق عشرة اسواط إلا في حد" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٤٨)، ومسلم (١٧٠٨).
حضرت ابو بردہ بن نیار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دس سے زیادہ کوڑے نہیں مارے جائیں گے مگر کسی حد میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30805]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30805، ترقيم محمد عوامة 29478)
ترقیم عوامۃ: 29479 ترقیم الشثری: -- 30806
٣٠٨٠٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن إسماعيل بن ابي خالد عن عمران عن الشعبي انه سئل عن اربعة شهدوا على رجل انه ليس ابن فلان، وشهد اربعة انه ابن فلان، فقال: ادرا عن هؤلاء، (لانهم) (١) (اربعة) (٢) ، (واصدق) (٣) الآخرين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (لا أنهم).
(٢) في [ط]: (ربعة).
(٣) في [هـ]: (وصدق).
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ان چار آدمیوں کے متعلق سوال کیا گیا جنہوں نے ایک آدمی پر گواہی دی کہ وہ فلاں کا بیٹا نہیں ہے اور چار آدمیوں نے یہ گواہی دی کہ بیشک وہ فلاں شخص کا بیٹا ہے ان کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: میں ان سے سزا ختم کردوں گا اس لیے کہ وہ چار ہیں اور میں دوسرے کی تصدیق کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30806]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30806، ترقيم محمد عوامة 29479)