صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب حُكْمِ الْعَزْلِ:
باب: عزل کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3554
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِح ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، سَمِعَهُ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فقَالَ: " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَيْءٍ، لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ "،
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابوطلحہ سے خبر دی، انہوں نے ابووداک سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں (ابووداک) نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”ہر پانی (منی کے قطرے) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔“ (زید بن حباب نے معاویہ سے، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3554]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے، تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1438 ترقیم شاملہ: -- 3555
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ ، حدثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کی: میری ایک لونڈی ہے، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو۔ تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو، (لیکن) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا۔“ وہ شخص (چند دن) رکا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی: وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3555]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3555]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1438
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3556
حدثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فقَالَ: " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا "، فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ، فقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ، فقَالَ: " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3556]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت گار بھی ہے اور ہمارے لیے پانی بھی فراہم کرتی ہے اور میں اس سے مباشرت کرتا ہوں، اور یہ نہیں چاہتا کہ اسے حمل قرار پائے، (کیونکہ حمل اور وضع حمل کے نتیجہ میں وہ سب کام کاج نہیں کر سکے گی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہتا ہے تو عزل کر کے دیکھ لے، کیونکہ اس کے لیے جو مقدر ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا۔“ کچھ دن ٹھہرنے کے بعد وہ آدمی آیا اور کہنے لگا، باندی تو حاملہ ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں بتا چکا ہوں، اس کو پیدا ہو کر رہے گا، جو اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3557
حدثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنَّ عَنْدِي جَارِيَةً لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللَّهُ "، قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں سعید بن حسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن عیاض سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، اور کہا: میرے پاس میری ایک لونڈی ہے، میں اس سے عزل کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ (عزل) ایسی کسی چیز کو نہیں روک سکتا جس کا اللہ نے ارادہ کیا ہو۔“ کہا: وہ شخص (دوبارہ) حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! وہ لونڈی جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، حاملہ ہو گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں۔ (میں جو کہتا ہوں اللہ کی طرف سے کہتا ہوں)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3557]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کہ میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام اللہ کے ارادہ و مشیت میں حائل نہیں ہو سکتا۔“ (کچھ عرصہ کے بعد) وہ آدمی آ کر کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جس لونڈی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تھا اسے حمل ٹھہر گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ یعنی میں جو کچھ کہتا ہوں وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے یقینی اور اٹل ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1439 ترقیم شاملہ: -- 3558
وحدثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.
ابواحمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (آگے) سفیان کی حدیث کے ہم معنی (ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3558]
امام صاحب ایک اور استاد سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3558]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1439
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1440 ترقیم شاملہ: -- 3559
حدثنا حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ "، زَادَ إِسْحَاقَ، قَالَ سُفْيَانُ: لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ.
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا) ہمیں سفیان نے عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم عزل کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا تھا۔ اسحاق نے اضافہ کیا: سفیان نے کہا: اگر یہ ایسی چیز ہوتی جس سے منع کیا جانا (ضروری) ہوتا تو قرآن ہمیں (ضرور) اس سے منع کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3559]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نزولِ قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔ اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفیان نے کہا، اگر یہ قابل نہی کام ہوتا یا اس سے روکنے کی ضرورت ہوتی تو ہمیں قرآنِ مجید کے ذریعہ اس سے روک دیا جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3559]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1440
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1440 ترقیم شاملہ: -- 3560
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: " لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3560]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عزل کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1440
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1440 ترقیم شاملہ: -- 3561
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْهَنَا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے۔ یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3561]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عزل کیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (دو ٹوک انداز میں، قطعیت کے ساتھ) منع نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3561]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1440
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة