🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

169. في الزنادقة: ما حدهم؟
ملحد اور گمراہوں کا بیان، ان کی سزا کیا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29610 ترقیم الشثری: -- 30947
٣٠٩٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو بكر بن عياش عن ابي حصين عن سويد بن غفلة ان عليا حرق زنادقة بالسوق، فلما رمى عليهم بالنار قال: صدق الله ورسوله، (قال) (١) : ثم انصرف فاتبعته، (فالتفت) (٢) قال: (ا) (٣) سويد؟ قلت: نعم يا امير المؤمنين، سمعتك تقول شيئا، قال: (يا) (٤) سويد، إني مع قوم جهال، فإذا سمعتني اقول: قال رسول الله ﷺ (٥) فهو حق (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) سقط من: [ط].
(٤) سقط من: [ط].
(٥) سقط من: [أ].
(٦) صحيح.

حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ملحدوں کو بازار میں جلا دیا پس جب آپ نے ان پر آگ ڈالی آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا۔ پھر آپ واپس چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں آپ کے پھے لح ہو لیا تو وہ متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا سوید ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! اے امیر المومنین، میں نے آپ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا! آپ نے فرمایا: اے سوید! بیشک میں جاہل لوگوں کے ساتھ ہوں۔ پس جب تم مجھے یوں کہتے ہوئے سنو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو وہ حق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30947، ترقيم محمد عوامة 29610)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29611 ترقیم الشثری: -- 30948
٣٠٩٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن ابن عبيد عن ابيه قال: كان اناس ياخذون العطاء والرزق ويصلون مع الناس، كانوا يعبدون الاصنام في السر، فاتى بهم علي بن ابي طالب فوضعهم في المسجد، او قال في السجن، ثم قال: يا ايها الناس ما ترون في قوم كانوا ياخذون (معكم) (١) العطاء والرزق ويعبدون هذه الاصنام؟ قال الناس: اقتلهم، قال: لا، ولكني اصنع بهم كما صنع بابينا إبراهيم صلوات الله عليه فحرقهم بالنار (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) منقطع؛ عبيد لم يدرك عليًا.

حضرت عبدالرحمن بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید نے فرمایا: کچھ لوگ تھے جو سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لے تَ تھے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور وہ پوشیدگی میں بتوں کی بھی پوجا کرتے تھے تو ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے ان کو مسجد میں یا جیل میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا: اے لوگو! تمہاری کیا رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں جو تمہارے ساتھ سالانہ اور ماہانہ وظیفہ لیتے ہیں اور ان بتوں کو بھی پوجتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: آپ ان کو قتل کردو۔ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن میں ان کے ساتھ ایسا معاملہ کروں گا جو ہمارے والد حضرت ابراہیم کے ساتھ کیا گیا۔ سو آپ نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30948، ترقيم محمد عوامة 29611)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29612 ترقیم الشثری: -- 30949
٣٠٩٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن ايوب بن نعمان قال: شهدت عليا في الرحبة، وجاء رجل فقال: يا اميرالمؤمنين، إن هاهنا اهل بيت لهم وثن في دارهم يعبدونه، فقام علي يمشي حتى انتهى إلى الدار، فامرهم فدخلوا فاخرجوا له تمثال رخام، فالهب علي الدار (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف أيوب بن نعمان.
حضرت ایوب بن نعمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کشادہ میدان میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے امیرالمومنین! بیشک وہاں ایک گھر والے ہیں جن کے گھروں میں بت ہیں وہ ان کو پوجتے ہیں، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر چلنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ اس گھر تک پہنچے آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو وہ داخل ہوئے اور انہوں نے آپ کی طرف سنگ مرمر کے مجسّمے نکالے، پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گھر کو جلا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30949، ترقيم محمد عوامة 29612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29613 ترقیم الشثری: -- 30950
٣٠٩٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن قابوس بن مخارق عن ابيه قال: بعث علي محمد بن ابي بكر اميرا على مصر فكتب محمد إلى علي يساله عن زنادقة منهم من يعبد الشمس والقمر، ومنهم من يعبد غير ذلك، ومنهم من يدعي (الإسلام) (١) فكتب علي و (امره) (٢) بالزنادقة: ان يقتل من (كان) (٣) يدعي (الإسلام) (٤) ويترك سائرهم يعبدون ما شاءوا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (للإسلام).
(٢) في [أ، هـ]: (أمر).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: (للإسلام).
(٥) حسن؛ سماك وقابوس صدوقان.

حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو مصر پر امیر بنا کر بھیجا، پس محمد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آپ سے زنادقہ کے متعلق پوچھا: ان میں سے کچھ لوگ سورج اور چاند کو پوجتے ہیں، اور ان میں سے کچھ ان کے علاوہ چیزوں کو پوجتے ہیں اور ان میں سے کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خط لکھا اور انہیں زنادقہ کے متعلق حکم دیا کہ: وہ ان کو قتل کردیں جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور باقی سب کو چھوڑ دیں وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30950، ترقيم محمد عوامة 29613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29614 ترقیم الشثری: -- 30951
٣٠٩٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ايوب عن عكرمة عن ابن عباس انه بلغه ان عليا اخذ زنادقة فاحرقهم، قال: فقال: اما انا فلو كنت لم اعذبهم بعذاب الله، ولو كنت انا لقتلتهم، لقول النبي ﷺ:"من بدل دينه فاقتلوه" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٢)، وأحمد (٢٥٥١).
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر پہنچی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زندیقوں کو پکڑ کر ان کو جلا ڈالا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان کو اللہ کے عذاب کے طریقہ سے عذاب نہیں دیتا اور اگر میں ہوتا تو میں ان کو قتل کردیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی وجہ سے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے تو تم اسے قتل کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30951، ترقيم محمد عوامة 29614)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں