مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
170. في النصراني يسلم ثم يرتد
اس عیسائی کے بارے میں جو اسلام لائے پھر وہ مرتد ہو جائے
ترقیم عوامۃ: 29615 ترقیم الشثری: -- 30952
٣٠٩٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن سماك (عن) (١) (ابن عبيد) (٢) (بن) (٣) (الابرص) (٤) عن علي بن ابي طالب انه اتي برجل كان نصرانيا فاسلم ثم (تنصر) (٥) ، قال: فساله عن (كلمة) (٦) فقال له، فقام إليه علي فرفسه برجله، فقام الناس إليه فضربوه حتى قتلوه (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٣) في [أ، ب، ط]: (أبي)، وسقط من: [ك].
(٤) في [ح]: (الأحوص).
(٥) في [ك]: (ص).
(٦) في [ع]: (حكمة).
(٧) مجهول؛ لجهالة ابن عبيد بن الأبرص.
حضرت ابن عبید بن ابرصی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو عیسائی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے عیسائیت اختیار کرلی۔ راوی کہتے ہیں آپ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا: تو اس نے آپ کو بتادیا۔ سو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری تو لوگ بھی کھڑے ہو کر اسے مارنے لگے یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30952، ترقيم محمد عوامة 29615)
ترقیم عوامۃ: 29616 ترقیم الشثری: -- 30953
٣٠٩٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني ابو الطفيل قال: كنت في الجيش ⦗٥١⦘ (الذين) (٢) بعثهم علي بن ابي طالب إلى بني ناجية، قال: فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق قال: فقال: اميرنا لفرقة منهم ما انتم؟ قالوا: نحن قوم من النصارى لم نر دينا افضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة اخرى: ما انتم؟ قالوا: نحن قوم كنا نصارى فاسلمنا فثبتنا على الإسلام، فقال: اعتزلوا، ثم قال للثالثة: ما انتم؟ فقالوا: نحن قوم كنا نصارى فاسلمنا ثم رجعنا، فلم نر دينا افضل من ديننا الاول، فتنصرنا، فقال لهم: اسلموا، فابوا، فقال لاصحابه: إذا مسحت (٣) راسي ثلاث مرات فشدوا عليهم، ففعلوا فقتلوا المقاتلة وسبوا الذرية (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (حبان).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (الذي).
(٣) في [هـ]: زيادة (على).
(٤) حسن؛ عمار الذهبي صدوق.
حضرت ابوالطفیل فرماتے ہیں کہ میں اس لشکر میں تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا، آپ فرماتے ہیں: پس ہم ان کے پاس پہنچ گئے۔ تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں پایا، پس ہمارے امیر نے ان میں سے ایک گروہ سے پوچھا! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم لوگ عیسائی تھے ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ پس ہم اس پر ثابت قدم رہے۔ اس پر امیر نے کہا: تم الگ ہو جاؤ۔ پھر اس نے ایک دوسرے گروہ سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم لوگ عیسائی تھے پس ہم نے اسلام قبول کرلیا پھر ہم اسلام پر ثابت قدم رہے۔ تو امیر نے کہا: تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے تیسرے گروہ سے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگے! ہم لوگ عیسائی تھے۔ پس ہم اسلام لے آئے پھر ہم نے رجوع کرلیا۔ پس ہم نے اپنے پہلے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا۔ سو ہم نے عیسائیت اختیار کرلی سو امیر نے ان سے کہا: تم اسلام لے آؤ۔ ان لوگوں نے انکار کردیا تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیر لوں تو تم ان پر حملہ کردینا۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30953، ترقيم محمد عوامة 29616)
ترقیم عوامۃ: 29617 ترقیم الشثری: -- 30954
٣٠٩٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: لا تساكنكم اليهود والنصارى إلا ان يسلموا، فمن اسلم منهم ثم ارتد فلا تضربوا إلا عنقه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف ليث.
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھ یہود و نصاریٰ ایک جگہ مت رہیں مگر یہ کہ وہ اسلام لے آئیں۔ پس ان میں سے جو اسلام لے آئے پھر وہ مرتد ہوجائے تو تم مت مارو مگر اس کی گردن پر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30954]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30954، ترقيم محمد عوامة 29617)