🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. ما يقال: في دبر الصلوات؟
نماز کے بعد جو کلمات کہے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29870 ترقیم الشثری: -- 31224
٣١٢٢٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن المسيب بن رافع عن وراد مولى المغيرة قال: كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة: اي شيء كان رسول الله ﷺ يقول إذا سلم في الصلاة؟ قال: فاملاها علي المغيرة قال: فكتبت بها إلى معاوية ان رسول الله ﷺ كان يقول إذا سلم:"لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٣٠)، ومسلم (٥٩٣).
حضرت وراد جو کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں: حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو خط لکھا اور پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد کون سے کلمات فرماتے تھے؟ حضرت وراد کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ نے وہ کلمات مجھے لکھوا دیے، اور وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ کلمات لکھ کر حضرت معاویہ کے پاس بھیج دیے، یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو فرماتے: ”نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے، جو کہ تنہا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس کا ہی ملک ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر چیزپر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! جس کو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں، اور جس سے تو روک لے اس کو کوئی دینے والا نہیں، اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31224، ترقيم محمد عوامة 29870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29871 ترقیم الشثری: -- 31225
٣١٢٢٥ - حدثنا ابن نمير حدثنا الاعمش عن عمرو بن مرة قال: حدثني شيخ عن صلة بن زفر قال: سمعت ابن عمر يقول في دبر الصلاة: ⦗١٤٤⦘ اللهم انت السلام ومنك السلام، تباركت (يا) (١) (ذا) (٢) الجلال والإكرام (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في [ط]: (ذي).
(٣) مجهول؛ لإبهام شيخ عمرو.

حضرت صلۃ بن زفر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز کے بعد یہ کلمات کہتے سنا: ”اے اللہ! تو سلامتی والا ہے، اور تجھ سے ہی سلامتی ہے، تو برکت والا ہے، اے صاحب عظمت اور بزرگی والے۔“ پھر میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہیں بھی یہی کلمات فرماتے ہوئے سنا، تو میں نے ان سے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہی کلمات فرماتے سنا ہے جو آپ نے ادا کیے، تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یقینا میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے آخر میں یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31225، ترقيم محمد عوامة 29871)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31226
٣١٢٢٦ - ثم صليت إلى جنب عبد الله بن عمرو (فسمعته) (١) يقوله، فقلت له: إني سمعت ابن عمر يقول مثل الذي تقول، فقال عبد الله بن عمرو: إني سمعت رسول الله ﷺ يقولهن في آخر صلاته (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فسمعه).
(٢) مجهول؛ لإبهام روايه، أخرجه مسدد كما في المطالب (٥٣٤)، والطبراني في الدعاء (٦٥٠)، وبنحوه النسائي في الكبرى (١٠١٩٧).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31226، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29872 ترقیم الشثری: -- 31227
٣١٢٢٧ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن ابي الزبير مولى لهم ان عبد الله بن الزبير كان (يهلل) (١) دبر كل صلاة (٢) يقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، ولا حول ولا قوة إلا بالله، ولا نعبد إلا إياه، له النعمة، وله (الفضل) (٣) ، وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون، ثم يقول ابن الزبير: كان رسول الله ﷺ (يهلل) (٤) بهن دبر كل صلاة (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (يهلك).
(٢) زيادة في [ط]: (حدثنا ابن فضيل ما).
(٣) في [ك]: (الملك).
(٤) في [ك]: (يهلك).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٩٤)، وأحمد (١٦١٠٥).

حضرت ابو الزبیر جو کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ہر نماز کے بعد یوں کلمہ پڑھا کرتے تھے: نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی کے کرنے کی طاقت صرف اللہ کی مدد سے ہے، اور ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں، اسی کی نعمت ہے، اور اسی کی مہربانی ہے، اور اس کے لیے اچھی تعریف ہے، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کی ذات کے، دین کے لیے اخلاص اپنائے ہوئے اگرچہ کافروں کو بُرا ہی لگے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد یہی کلمات فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31227]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31227، ترقيم محمد عوامة 29872)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29873 ترقیم الشثری: -- 31228
٣١٢٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن (ابيه) (١) قال: اتى علي بن ابي طالب ﵁ (٢) عند فاطمة ﵂ (٣) فقال: إني اشتكي صدري مما (امد بالغرب) (٤) قالت: وانا (والله) (٥) إني اشتكي يدي مما اطحن الرحا، فقال لها: (ائتي) (٦) النبي ﷺ فقد اتاه (سبي) (٧) ، (ائتيه) (٨) لعله يخدمك خادما، (فانطلقا) (٩) إلى النبي ﷺ، فاتاهما فقال:"إنكما جئتماني لاخدمكما خادما وإني ساخبركما بما هو خير لكما من الخادم، فإن شئتما اخبرتكما بما هو خير لكما من الخادم: (تسبحانه) (١٠) دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثا وثلاثين، وتكبرانه اربعا وثلاثين، وإذا اخذتما مضاجعكما من الليل فتلك (مائة) (١١) ، قال علي ﵁ (١٢) : (فما) (١٣) (اعلمني) (١٤) (تركتها) (١٥) بعد؛ قال له ⦗١٤٦⦘ (عبد الله) (١٦) بن الكواء: ولا ليلة صفين؟ فقال له علي: قاتلكم الله يا اهل العراق، ولا ليلة (صفين) (١٧) (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (أمه).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٤) في [أ، هـ]: (أجد بالقرب).
(٥) تكرر في: [ك].
(٦) في [أ، ب، جـ، ك]: (أيت)، وفي [ط]: (أبيت).
(٧) في [ط]: (صبي).
(٨) في [ب، ك]: (إينه).
(٩) في [جـ، ك]: (فانطلقنا)، وفي [ط، هـ]: (فانطلقت).
(١٠) في [ط]: (تسبحان).
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(١٣) سقط من: [ط].
(١٤) في [م]: (أعلم أني).
(١٥) في [ب]: (تركتهما)، وفي [جـ]: (تركها).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [ط، هـ]: (الصفين).
(١٨) مضطرب، رواية ابن فضيل عن عطاء متأخرة وفيها تخاليط، ولكن الحديث رواه المتقدمون عن عطاء فيصح، والحديث أخرجه أحمد (٧٣٨)، وابن ماجه (٤١٥٢)، وابن سعد ٨/ ٢٥، والبزار (٧٥٧)، والحميدي (٤٤)، والنسائي ٦/ ١٤٥، والضياء (٤٦٨)، وأصله عند البخاري (٥٣٦١)، ومسلم (٢٧٢٧)، وليس فيه دبر كل صلاة وإنما فيهما (إذا أخذتما مضاجعكما).

حضرت سیائب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمۃ الزہرائ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے: کنویں کا ڈول کھینچنے کی وجہ سے میرا سینہ درد کر رہا ہے، تو حضرت فاطمۃ الزہرائ نے فرمایا: اللہ کی قسم! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بھی درد رہتا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا فرما دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جب دونوں پہونچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں میرے پاس اس لیے آئے ہو کہ میں تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا کروں، اور یقینا میں تمہیں عنقریب ایک ایسی چیز بتاؤں گا جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہوگی، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہے: ”تم دونوں ہر نماز کے بعد اور جب رات کو بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، تو یہ پورے سو (١٠٠) ہوجائیں گے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے یاد نہیں اس کے بعد کبھی میں نے ان کلمات کو چھوڑا ہو، اس پر عبد اللہ بن الکواء کہنے لگا: جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عرا ق والو! اللہ تمہیں ہلاک کرے، جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31228، ترقيم محمد عوامة 29873)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29874 ترقیم الشثری: -- 31229
٣١٢٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابيه عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:" (خلقان) (١) لا يحافظ عليهما رجل إلا دخل الجنة، هما يسير ومن يفعلهما قليل"، قيل: ما هما يا رسول الله؟ قال:"الصلوات الخمس يسبح الرجل في دبر كل صلاته عشرا، ويحمد عشرا، ويكبر عشرا، فذلك خمسون ومائة على اللسان، والف (وخمسمائة) (٢) في الميزان"، قال: ولقد رايت رسول الله ﷺ يعدهن في يده، ويسبح ثلاثا وثلاثين، ويحمد ثلاثا وثلاثين، ويكبر اربعا وثلاثين، عند مضجعه من الليل، (فذلك) (٣) مائة على اللسان، والف في الميزان، فايكم يذنب في الليلة الفين وخمسمائة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في المصادر: (خلتان).
(٢) في [أ، ب، ط]: (ومئة).
(٣) في [هـ]: (وإذا أوى إلى فراشه سبح وحمد وكبر مائة فتلك).
(٤) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أحمد (٦٤٩٨)، والترمذي (٣٤١٠)، وأبو داود (٥٠٦٥)، وابن حبان (٢٠١٢)، والنسائي ٣/ ٧٤، والبخاري في الأدب المفرد (١٢١٦)، والحميدي (٥٨٣)، وعبد الرزاق (٣١٨٩)، وعبد بن حميد (٣٥٦)، وابن السني (٧٤٩)، وابن ماجه (٩٢٦).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو اچھی عادتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان عادات کی حفاظت کرے گا تو جنت میں داخل ہوگا، یہ دونوں آسان ہیں اور پھر بھی ان کے کرنے والے تھوڑے ہیں، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ دو عادات کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں، جو شخص ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، اور دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے ڈیڑھ سو (١٥٠) ہیں اور ترازو پر وزن کرنے کے اعتبار سے ڈیڑھ ہزار (١٥٠٠) ہوں گی، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو انگلیوں پر بھی شمار فرمایا اور دوسری (٢) اچھی عادت یہ ہے کہ آدمی رات کو بستر پر لیٹتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے گا، تو یہ زبان سے کہنے کے اعتبار سے سو (١٠٠) ہیں اور ترازو پر وزن کے اعتبار سے ہزار ہوں گے۔ پس تم میں سے کون ہے جو رات کو ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31229، ترقيم محمد عوامة 29874)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29875 ترقیم الشثری: -- 31230
٣١٢٣٠ - حدثنا شبابة (حدثنا) (١) شعبة عن موسى بن ابي عائشة عن مولى لام سلمة عن ام سلمة ان النبي ﷺ (كان) (٢) يقول إذا صلى الصبح حين يسلم:"اللهم (إني) (٣) اسالك علما نافعا، ورزقا طيبا، وعملا متقبلا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ]، وتكرر مرتين في: [جـ].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٤) مجهول؛ لجهالة مولى أم سلمة، أخرجه أحمد (٢٦٦٠٢)، وابن ماجه (٩٢٥)، والنسائي في الكبرى (٩٩٣٠)، وعبد الرزاق (٣١٩١)، والحميدي (٢٩٩)، وابن السني (٥٤)، والطيالسي (١٦٠٥)، وإسحاق (١٩٠٩)، وعبد بن حميد (١٥٣٥)، وأبو يعلى (٦٩٣٥)، والطبراني ٢٣/ (٦٨٦)، والبيهقي في الشعب (١٧٨٢)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم (١٠٧٧)، وابن حجر في نتائج الأفكار ٢/ ٣١٢، والخطيب في التاريخ ٤/ ٣٩، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٣٩.

حضرت ام المؤمنین ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ کر سلام پھیرتے تو یوں دعا فرماتے تھے: اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں نفع پہنچانے والے علم کا، اور پاکیزہ رزق کا اور مقبول عمل کا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31230]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31230، ترقيم محمد عوامة 29875)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29876 ترقیم الشثری: -- 31231
٣١٢٣١ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن هلال بن يساف عن زاذان قال: حدثني رجل من الانصار قال: سمعت رسول الله ﷺ (يقول) (١) في (دبر) (٢) الصلاة:"اللهم اغفر لي، وتب علي، إنك انت التواب الغفور: مائة مرة" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [جـ]: (قبل).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣١٥٠)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٣).

ایک انصاری صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے بعد سو مرتبہ یہ دعا فرمائی: اے اللہ! میری مغفرت فرما، اور میری توبہ قبول فرما، یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31231]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31231، ترقيم محمد عوامة 29876)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29877 ترقیم الشثری: -- 31232
٣١٢٣٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن ابي عمر (الصيني) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هذه رواية وكيع كما في الكنى للبخاري ص ٥٥، وهكذا سيأتي ١٣/ ٤٥٣ برقم [٣٧٧٧١]، وورد في النسخ [أ، ب، جـ، ط]: (الضبي)، وهذه رواية آدم عن شعبة وقد حكم الأئمة بأنها وهم.
(٢) مجهول منقطع؛ لجهالة أبي عمر الصيني ولم يثبت سماعه من أبي الدرداء، أخرجه أحمد (٢٧٥١٥)، والنسائي في الكبرى (٩٩٧٨)، والطبراني في الدعاء (٧٠٨)، وبنحوه الطيالسي (٩٨٢)، والطبراني (٧٠٩)، والمروزي في زياداته على زهد ابن المبارك (١١٥٩)، والبغوي في الجعديات (١٥٦)، والبخاري في الكنى ص ٥٥، والمزي ٢٤/ ١١٠، وابن السني (١٤٩)، وعبد الرزاق (٣١٨٧).

حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں: میں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مالدار لوگ اجر وثواب میں ہم سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں، اور وہ لوگ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں، اور وہ لوگ حج بھی کرتے ہیں جیسا کہ ہم حج کرتے ہیں، اور وہ صدقہ بھی دیتے ہیں، اور ہم اتنا مال ہی نہیں پاتے جس کا صدقہ کریں؟ حضرت ابو الدرداء کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو اگر تم کرو گے تو سبقت کرنے والوں کے اجر کو پہنچ جاؤ گے اور تمہارے بعد تمہارے اجر تک صرف وہی پہنچ سکے گا جو تمہاری طرح یہ عمل کرے گا: ”تم لو گ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31232]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31232، ترقيم محمد عوامة 29877)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31233
٣١٢٣٣ - (و) (١) عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع سمعه من (ابي) (٢) عمر عن ابي الدرداء قال: قلت: يا رسول الله ذهب الاغنياء بالاجر، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج، ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق (٣) ، قال: فقال:"الا ادلكم على شيء إذا فعلتموه ادركتم من سبقكم، ولا يدرككم من بعدكم إلا من عمل بالذي تعملون: تسبحون الله ثلاثا وثلاثين، وتحمدونه ثلاثا (وثلاثين) (٤) ، وتكبرونه اربعا وثلاثين في دبر كل صلاة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [هـ]: زيادة (به).
(٤) لم يتضح في: [ط].
(٥) مجهول منقطع؛ لجهالة أبي عمر الصيني ولم يثبت سماعه من أبي الدرداء، وانظر: ما قبله.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31233، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں