🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. ما قالوا: في الرجل إذا أخذ مضجعه (و) أوى إلى فراشه، ما يدعو به؟
جن لوگوں نے کہا: جب آدمی اپنے بستر پر جائے اور بستر پر لیٹ جائے تو وہ کیا دعا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29916 ترقیم الشثری: -- 31275
٣١٢٧٥ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا زهير عن ابي إسحاق عن فروة بن نوفل عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال له:" (مجيء) (١) ما جاء بك؟" قال: يا رسول الله تعلمني شيئا اقوله عند منامي قال:"إذا اخذت مضجعك فاقرا: ﴿قل ياايها الكافرون﴾، ثم نم على (خاتمتها) (٢) فإنها براءة من الشرك" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (تجيء)، وفي [هـ]: (فمجيءٌ).
(٢) في [جـ، ك]: (خاتمها).
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٢٣٨٠٧)، وأبو داود (٥٠٥٥)، والترمذي (٣٤٠٣)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٨٠١)، وابن حبان (١٧٩٠)، والحاكم ٢/ ٥٣٨، والبخاري في التاريخ ٨/ ١٠٨، والدارمي (٣٤٢٧)، وابن قانع ٣/ ١٥٦، والطبراني في الدعاء (٢٧٧)، وفي الأوسط (٨٨٨)، وابن السني (٦٨٩)، والبيهقي في الدعوات (٣٥٨)، والخطيب في الأسماء المبهمة ص ٣٠٨، وابن الأثير ٥/ ٣٧٠، وأبو يعلى (١٥٩٦)، وابن قانع ١/ ١٦٢.

حضرت نوفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا؟ آنے والے کیا چیز تمہیں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ مجھے کوئی دعا سکھلا دیجیے جو میں سونے کے وقت پڑھ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو یہ سورت کافرون پڑھ لیا کرو!ً ”کہہ دیجیے! اے کافرو!“ پھر اس کے خاتمہ پر سو جایا کرو کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31275]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31275، ترقيم محمد عوامة 29916)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29917 ترقیم الشثری: -- 31276
٣١٢٧٦ - حدثنا جعفر بن عون عن الافريقي عن عبد الله بن (يزيد) (١) عن عبد الله ابن عمرو ان النبي ﷺ قال لرجل من الانصار:"كيف تقول حين تريد ان تنام؟" قال: اقول باسمك (٢) وضعت جنبي فاغفر لي، [قال: ⦗١٦٥⦘"قد غفر] (٣) لك" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زيد).
(٢) زيادة في [هـ]: (ربي).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) ضعيف؛ الإفريقي سيء الحفظ، أخرجه البيهقي في الدعوات (٣٥٠)، والخطيب ٢/ ٣٢١، وبنحوه أخرجه أحمد (٦٦٢٠)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٧٠)، وابن السني (٧١٩)، والطبراني في الدعاء (٢٥٨).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا: جب تم سونے کا ارادہ کرتے ہو تو کس طرح دعا کرتے ہو؟ اس صحابی نے فرمایا: میں یوں دعا کرتا ہوں! تیرے ہی نام کے ساتھ میں اپنا پہلو رکھتا ہوں، تو میری مغفرت فرما، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری مغفرت کردی گئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31276]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31276، ترقيم محمد عوامة 29917)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29918 ترقیم الشثری: -- 31277
٣١٢٧٧ - حدثنا مروان بن معاوية عن ابي مالك الاشجعي عن عبد الرحمن ابن نوفل الاشجعي عن ابيه قال: قلت يا رسول الله اخبرني بشيء اقوله إذا اصبحت وإذا امسيت فقال:"اقرا: ﴿قل ياايها الكافرون﴾ ثم نم على (خاتمتها) (١) ، فإنها براءة من الشرك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ، ك]: (خاتمها).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن نوفل، أخرجه سعيد بن منصور (١٢٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٣٠٤)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٣٥٧، وابن قانع ٣/ ١٥٥، وسقط من مطبوعه (عن عبد الرحمن بن نوفل)، وانظر ما سبق برقم [٣١٢٧٥].

حضرت نوفل الاشجعی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے جو میں صبح و شام پڑھا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سورت کافرون پڑھا کرو! کہہ دیجیے! اے کافرو! پھر اس کے خاتمہ پر سو جایا کرو، پس یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31277]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31277، ترقيم محمد عوامة 29918)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29919 ترقیم الشثری: -- 31278
٣١٢٧٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب عن عبد الله بن باباه عن (ابي هريرة) (١) قال: من قال حين ياوي إلى فراشه: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد! وهو على كل شيء قدير، سبحان الله بحمده، الحمد لله، لا إله إلا الله، والله اكبر، غفر له ذنوبه وإن كانت مثل زبد البحر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: تكررت.
(٢) صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٦٤٧)، والبغوي في الجعديات (٥٥٢)، وأخرجه مرفوعًا ابن حبان (٥٥٢٨)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣١٨، وابن السني (٧٢٢)، وابن عساكر ٥٤/ ١٢٥.

حضرت عبد اللہ ابن باباہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بستر پر لیٹتے وقت یہ دعا پڑھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اللہ پاک ہے اور اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہ معاف فرما دیتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31278]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31278، ترقيم محمد عوامة 29919)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29920 ترقیم الشثری: -- 31279
٣١٢٧٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن (عفاق) (١) عن عمرو بن ميمون قال: من قال إذا اوى إلى فراشه: اشهد ان لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، اربع مرات غفر له ذنوبه وإن (كانت) (٢) طفاح الارض.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عفان).
(٢) في [ب، ك]: (كان).

حضرت عفاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا: جو شخص بستر پر لیٹ کر چار مرتبہ یہ دعا پڑھے: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے، اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے اگرچہ اس کے گناہ زمین کو بھر دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31279]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31279، ترقيم محمد عوامة 29920)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29921 ترقیم الشثری: -- 31280
٣١٢٨٠ - حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا حماد بن سلمة عن عاصم عن سواء عن حفصة ان رسول الله ﷺ كان إذا اخذ مضجعه قال:" (١) رب قني عذابك يوم تبعث عبادك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (يا).
(٢) مضطرب؛ اضطرب فيه عاصم فرواه بأوجه مختلفة، أخرجه أحمد (٢٦٤٦٣)، والنسائي في الكبرى (١٠٥٩٧)، وأبو يعلى (٧٠٥٨)، وابن السني (٧٢٩)، وأبو داود (٥٠٤٥).

حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر لیٹ کر یہ دعا فرماتے: میرے رب! مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31280]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31280، ترقيم محمد عوامة 29921)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29922 ترقیم الشثری: -- 31281
٣١٢٨١ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا زهير عن ابي إسحاق عن عاصم عن علي قال: إذا اخذت مضجعك فقل: بسم الله، (وفي سبيل الله) (١) ، وعلى ملة رسول الله ﷺ (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق، أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٦٠٥)، وابن السني (٧١٧).

حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب تو اپنے بستر پر لیٹ جائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ کے راستہ میں ہوں، اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31281]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31281، ترقيم محمد عوامة 29922)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29923 ترقیم الشثری: -- 31282
٣١٢٨٢ - حدثنا ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق عن البراء قال: كان النبي ﷺ إذا نام توسد يمينه تحت خده ويقول:"قني عذابك يوم ⦗١٦٧⦘ تبعث عبادك" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مضطرب، اضطرب أبو إسحاق في إسناده، أخرجه أحمد (١٨٥٥٢)، والترمذي (٣٣٩٩)، والنسائي في الكبرى (١٠٥٩٠)، والبخاري في التاريخ الكبير ٣/ ٢٧٠، وفي الأدب المفرد (١٢١٥)، والطيالسي (٧٠٩)، وأبو يعلى (١٧١١)، وابن حبان (٥٥٢٣)، والطبراني في الدعاء (٢٥٠)، وابن حبان (٥٥٢٣)، والبيهقي في الدعوات (٣٥١)، وأبو نعيم الحلية ٨/ ٣١٢، وابن قانع ١/ ٨٧، وأبو الشيخ في الأخلاق النبوية ص ١٦٧، والبغوي (١٣١٠)، وروى مسلم (٧٠٩) عن البراء أن النبي ﷺ كان يقول ذلك بعد الصلاة.
حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو رخسار کے نیچے تکیہ بناتے اور یہ دعا فرماتے تھے: مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31282]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31282، ترقيم محمد عوامة 29923)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29924 ترقیم الشثری: -- 31283
٣١٢٨٣ - حدثنا (عبيد الله) (١) بن موسى عن إسرائيل عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة عن ابيه عن النبي ﷺ انه كان إذا نام قال:"اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك"، وكان يضع يمينه تحت خده (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عبد اللَّه).
(٢) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، أخرجه أحمد (٣٩٣٢)، والنسائي في الكبرى (١٠٥٩٢)، والترمذي في الشمائل ص ١٣٧، وأبو يعلى (٥٠٠٥)، والشاشي (٩٣٠)، وابن عدي ٥/ ١٨٣٥، والطبراني (١٠٢٨٢)، وابن ماجه (٣٨٧٧).

حضرت ابو عبیدہ کے والد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا داہنا ہاتھ رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31283]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31283، ترقيم محمد عوامة 29924)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29925 ترقیم الشثری: -- 31284
٣١٢٨٤ - حدثنا الحسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن سهيل بن ابي صالح عن ابيه عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ كان إذا اوى إلى فراشه قال:"اللهم رب السماوات ورب الارضين، (ربي) (١) ورب كل شيء، فالق الحب والنوى، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، اعوذ بك من شر كل ذي شر انت آخذ بناصيته، انت الاول (فليس) (٢) قبلك شيء، (وانت الآخر فليس بعدك شيء) (٣) ، وانت ⦗١٦٨⦘ الظاهر فليس فوقك شيء، وانت الباطن فليس دونك شيء، اقض عني الدين واغنني من الفقر" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (ربنا).
(٢) في [ك]: (ليس).
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧١٣)، وأحمد (١٠٩٢٤).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹ جاتے تو یہ دعا فرماتے: اے اللہ! آسمانوں کے مالک اور زمینوں کے مالک، اور ہمارے مالک اور ہر چیز کے مالک، دانے اور گٹھلی کے پیدا کرنے والے، تورات، انجیل اور قرآن کے اتارنے والے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تو نے پکڑی ہو، تو ہی سب سے پہلا ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، اور تو ہی سب سے پچھلا ہے تیرے بعد بھی کوئی چیز نہیں ہوگی، اور تو ہی ظاہر و آشکارا ہے تیرے اوپر بھی کوئی چیز نہیں ہے، اور تو ہی پوشیدہ ہے پس تیرے نیچے بھی کوئی چیز نہیں ہے، تو مجھ سے قرض کو دور فرما، اور مجھے فقر سے بےنیاز کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31284]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31284، ترقيم محمد عوامة 29925)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں