مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
54. ما دعا (به) النبي ﷺ لأمته فأعطي بعضه
جو دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے مانگی جس کا کچھ حصہ عطا بھی کر دیا گیا
ترقیم عوامۃ: 30120 ترقیم الشثری: -- 31481
٣١٤٨١ - حدثنا ابو بكر حدثنا عبد الله بن نمير حدثنا محمد بن إسحاق عن حكيم بن حكيم عن علي بن عبد الرحمن عن حذيفة بن اليمان قال: (خرج) (١) رسول الله ﷺ إلى حرة بني معاوية (واتبعت) (٢) اثره حتى ظهر عليها فصلى الضحى ثماني ركعات طول فيهن ثم انصرف فقال:"يا حذيفة طولت عليك" قلت: الله ورسوله اعلم، قال:"إني سالت الله فيها ثلاثا فاعطاني اثنتين ومنعني واحدة، سالته ان لا يظهر على امتي غيرها (فاعطانيها) (٣) ، وسالته ان لا يهلكها بالسنين (فاعطانيها) (٤) ، وسالته ان لا يجعل باسها بينها، فمنعني" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (جرح).
(٢) في [هـ]: (وابتعت).
(٣) في [ط، هـ]: (فأعطاني).
(٤) في [ط، هـ]: (فأعطاني).
(٥) مجهول؛ لجهالة علي بن عبد الرحمن، وأخرجه البخاري في التاريخ ٦/ ٢٨٥، وذكره ابن حجر في المطالب العالية ٤/ ٥٥٤، ٦٤٧.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن الیمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو معاویہ قبیلہ کے نزدیک حرہ مقام کی طرف تشریف لے گئے، اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعت ادا کیں، اور ان کو بہت لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹے، اور فرمانے لگے، اے حذیفہ رضی اللہ عنہ! کیا میں نے تجھے طوالت میں ڈال دیا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اللہ سے اس میں تین دعائیں مانگیں پس اللہ نے میری دو دعاؤں کو قبولیت عطا کی اور ایک کو منع فرما دیا، میں نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ میری امت پر کبھی کوئی غیر غالب نہ آئے، تو اللہ نے میری دعا کو شرف قبولیت بخشی، اور میں نے دعا مانگی کہ میری امت قحط کی وجہ سے ہلاک نہ ہو تو اللہ نے میری اس دعا کو بھی شرف قبولیت بخشی، اور میں یہ دعا مانگی کہ میری امت کے درمیان آپس مں و جنگ مت ہو تو اس دعا کو منع فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31481]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31481، ترقيم محمد عوامة 30120)
ترقیم عوامۃ: 30121 ترقیم الشثری: -- 31482
٣١٤٨٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن رجاء الانصاري عن عبد الله بن شداد عن معاذ بن جبل قال: صلى رسول الله ﷺ يوما صلاة فاطال فيها فلما انصرف قلت: يا رسول الله لقد اطلت اليوم الصلاة، قال:"إني صليت صلاة رغبة ورهبة، وسالت الله لامتي ثلاثا فاعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سالته ان لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فاعطانيها، وسالته ان لا يهلكهم غرقا فاعطانيها، وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم (فردت) (١) علي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فردها).
(٢) مجهول؛ لجهالة رجاء الأنصاري، أخرجه أحمد (٢٢٠٨٢)، وابن ماجه (٣٩٥١)، وابن خزيمة (١٢١٨)، والمزي ٩/ ١٧١.
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی اور بہت لمبی نماز پڑھی، جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ نے لمبی نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شوق اور خوف کی نماز پڑھی اور میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے تین چیزیں مانگیں، پس اللہ نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک چیز کو واپس مجھ پر رد کردیا۔ میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت پر ان کے علاوہ کسی دشمن کو مسلط مت فرما۔ پس اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت کو ڈوبنے کے عذاب کے ذریعہ ہلاک مت فرما، پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی۔ اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ اس امت کے درمیان آپس میں کوئی جنگ نہ ہو تو یہ دعا مجھ پر واپس لوٹا دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31482]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31482، ترقيم محمد عوامة 30121)
ترقیم عوامۃ: 30122 ترقیم الشثری: -- 31483
٣١٤٨٣ - حدثنا ابو اسامة حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت عن عبد الرحمن ابن ابي ليلى عن صهيب قال: كان رسول الله ﷺ إذا صلى (همس) (١) شيئا لا يخبرنا به، (قلنا) (٢) : يا رسول الله إنك مما إذا صليت (همست) (٣) شيئا لا نفقهه، قال:"فطنتم (بي؟) (٤) " قلت: نعم، قال:"ذكرت نبيا من الانبياء اعطي جنودا من (قومه) (٥) (فنظر إليهم) (٦) فقال: من يكافئ هؤلاء قال: فقيل له: اختر لقومك إحدى ثلاث إما ان يسلط (عليهم) (٧) عدوا من غيرهم او الجوع او الموت، قال: فعرض ذلك على قومه، قال: فقالوا: انت نبي الله فاختر لنا، قال: فقام إلى ⦗٢٤٣⦘ الصلاة، قال: وكانوا مما إذا (فزعوا) (٨) فزعوا إلى الصلاة، فصلى (فقال) (٩) : اللهم (إما) (١٠) إن تسلط عليهم من غيرهم فلا، او الجوع فلا، ولكن الموت، قال: فسلط عليهم الموت فمات منهم سبعون الفا في ثلاثة ايام، قال: (فهمسي) (١١) (الذي) (١٢) تسمعون (اني) (١٣) اقول اللهم بك احاول وبك اصاول (١٤) ولا قوة إلا بك" (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (فيمش).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (فقلن).
(٣) في [أ، ب، ط]: (فتمشيث)، وفي [جـ]: (فتمشت).
(٤) في [ط، هـ]: (بي).
(٥) في [ط]: (قدم).
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) زيادة في [ك]: (عليهم)، وسقط من: [هـ].
(٨) سقطت من: [ط، ك].
(٩) في [جـ، ك]: (ثم قال).
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) في [أ، ب، ط]: (فهمسني).
(١٢) في [أ، ب، ط]: (الذين).
(١٣) في [أ، جـ، ط، ك]: (إلى)، وفي [ب]: (إلا).
(١٤) في [هـ]: زيادة (لا حول و).
(١٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٩٣٧)، والنسائي في الكبرى (٨٦٣٣)، والترمذي (٣٣٤٠)، وابن حبان (٤٧٨٥)، والدارمي (٢٤٤١)، والشاشي (٩٩٢)، والقضاعي (١٤٨٣)، والبيهقي ٩/ ١٥٣، والطبراني في الدعاء (٦٦٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٥، وابن السني (١١٧)، وعبد الرزاق (٩٧٥١)، والبزار (٢٠٨٩).
حضرت صھیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آہستہ سے کچھ کہتے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نہیں بتلایا تھا۔ پس ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بلاشبہ ابھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھی ہے تو آہستہ سے کچھ کہا جس کو ہم نہیں سمجھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، کیا تم نے میرے پڑھنے کو جان لیا؟ ہم نے کہا! جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے انبیاء میں سے ایک نبی کا قصہ یاد آگیا۔ جن کی قوم کے لشکر کو ان کا تابع بنادیا گیا تھا، پس انہوں نے اس لشکر کی طرف دیکھ کر فرمایا: کون ہے جو اس سے بدلہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس ان سے کہا گیا: آپ اپنی قوم کے لیے تین میں سے ایک بات منتخب کریں: یا تو ان پر کسی غیر دشمن کو مسلط کردیا جائے، یا پھر بھوک و فاقہ یا پھر موت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہوں نے اپنی قوم پر یہ تینوں چیزیں پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی قوم نے کہا: آپ اللہ کے نبی ہیں آپ ہی ہمارے لیے کوئی ایک منتخب فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس وہ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا: جب وہ لوگ کسی چیز سے ڈرتے تو وہ نماز کی پناہ پکڑتے تھے۔ پس ان نبی نے نماز پڑھی، پھر یوں فرمایا: اے اللہ! یا تو آپ نے ان پر دشمن کو مسلط فرمانا تھا پس آپ ایسا مت کریں یا پھر بھوک تو وہ بھی نہیں، لیکن موت عطا کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی قوم پر موت کو مسلط کردیا گیا۔ پس ان کی قوم کے تین دنوں میں ستر ہزار افراد موت کی وادی میں سو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس میں آہستہ سے جو پڑھ رہا تھا جو تم نے سنا میں یہ دعا پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ! میں آپ کی مدد سے سے ہی تدبیر کروں گا، اور آپ کی مدد سے ہی حملہ کروں گا، اور ایسا کرنے کی طاقت نہیں سوائے تیری مدد کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31483، ترقيم محمد عوامة 30122)
ترقیم عوامۃ: 30123 ترقیم الشثری: -- 31484
٣١٤٨٤ - حدثنا بن نمير حدثنا عثمان بن حكيم اخبرنا عامر بن سعد عن ابيه ان رسول الله ﷺ اقبل ذات يوم من العالية حتى إذا مر بمسجد بني معاوية دخل فركع فيه ركعتين وصلينا معه ودعا ربه طويلا ثم انصرف إلينا فقال:"سالت ربي ثلاثا فاعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سالت ربي ان لا يهلك امتي بالسنة فاعطانيها، وسالته ان لا يهلك امتي بالغرق فاعطانيها، وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم فمنعنيها" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٠)، وأحمد (١٥٧٤).
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند جگہ سے ہماری طرف تشریف لائے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر مسجد بنی معاویہ کے پاس سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔ ور فرمایا۔ میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں۔ پس رب نے مجھے دو چیزیں عطافرما دیں اور ایک کو منع فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو فاقہ کے ذریعہ سے مت ہلاک فرمائیں، تو اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ میری امت کو ڈوبنے کے ذریعہ ہلاک مت فرمانا۔ پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ امت کے درمیان کوئی جنگ نہ ہو تو اللہ نے منع فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31484]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31484، ترقيم محمد عوامة 30123)