مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
84. الرجل (يفزع) من الليل ما يدعو به
جو شخص رات سے ڈرتا ہو تو وہ یوں دعا کرے
ترقیم عوامۃ: 30234 ترقیم الشثری: -- 31597
٣١٥٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: (حدثنا) (١) مكحول ان رسول الله ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن بالشرر يرمونه، فقال جبريل: تعوذ يا محمد، فتعوذ بهؤلاء الكلمات فدحروا عنه:"اعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الارض وما يخرج، ومن شر الليل والنهار، ومن كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) مرسل معلول؛ مكحول تابعي، وأبو أسامة إنما يروي عن ابن تميم.
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ جن ملے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انگارے پھینکے، تو حضرت جبرائیل نے فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پناہ مانگیے: تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کلمات کے ذریعہ پناہ مانگی، پھر ان جنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹا دیا گیا: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا۔ ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے، اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھیلتی ہے، اور زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے شر سے، اور ہر رات کو آنے والے خیر کی توقع کرتے ہوئے اے رحم کرنے والے! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31597]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31597، ترقيم محمد عوامة 30234)
ترقیم عوامۃ: 30235 ترقیم الشثری: -- 31598
٣١٥٩٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد (عن محمد بن يحيى ابن حبان) (١) ان الوليد بن الوليد بن المغيرة الخزومي شكا إلى رسول الله ﷺ حديث نفس وجده وانه قال له:"إذا اتيت إلي فراشك فقل: اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون فوالذي نفسي بيده لا يضرك شيء حتى تصبح" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر ما بين القوسين في [جـ].
(٢) مرسل؛ محمد بن يحيى بن حبان ليس صحابيًا، أخرجه مالك ٢/ ٩٥٠، وأحمد (١٦٥٧٣)، ومسدد كما في المطالب (٣٣٦٤)، وابن السني (٧٥٥)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ١٨٥.
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ حضرت ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دل میں آنے والے خیالات کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: جب تو اپنے بستر میں آئے تو یہ کلمات پڑھ، میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ، اس کے غصہ اور اس کی پکڑ سے اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطان کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تجھے کوئی بھی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی یہاں تک کہ تو صبح کرلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31598]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31598، ترقيم محمد عوامة 30235)
ترقیم عوامۃ: 30236 ترقیم الشثری: -- 31599
٣١٥٩٩ - حدثنا عبد الله بن (نمير) (١) عن زكريا بن ابي زائدة عن مصعب عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد بن الوليد يفزع من الليل حتى يخرج ومعه سيفه ⦗٢٩٠⦘ فخشي عليه ان يصيب احدا، فشكا ذلك إلى (رسول الله) (٢) ﷺ فقال:"إن جبريل قال لي: إن عفريتا من الجن يكيدك (فقل) (٣) : اعوذ بكلمات الله التامة التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما ذرا في الارض وما يخرج منها، (و (من) (٤) شر) (٥) فتن الليل والنهار، و (٦) كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن"، فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (عمر).
(٢) في [ك]: (النبي).
(٣) في [ك]: (فقال).
(٤) سقط من: [جـ، ك].
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [هـ]: زيادة (من شر).
(٧) مرسل؛ يحيى بن جعدة ليس صحابيًا.
حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رات سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ وہ نکلے اس حال میں کہ ان کے پاس تلوار تھی۔ پس ان پر خوف طاری ہوگیا کہ وہ کسی کو تکلیف پہنچا دیں گے پس انہوں نے اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے فرمایا ہے: کہ جنوں کی ایک جماعت تیرے ساتھ مکر و فریب کرتی ہے، پس تو یہ کلمات پڑھ لے: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ کہ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو آنے والے سے مگر جو خیر لائے، اے رحم کرنے والے، پس حضرت خالد نے ان کلمات کو پڑھا، تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31599]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31599، ترقيم محمد عوامة 30236)
ترقیم عوامۃ: 30237 ترقیم الشثری: -- 31600
٣١٦٠٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا فزع احدكم من نومه فليقل: بسم الله، اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وسوء عقابه وشر عباده ومن شر الشياطين (وما) (١) يحضرون" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وأن).
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٦٦٩٦)، وأبو داود (٣٨٩٣)، والترمذي (٣٥٢٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٦٦)، وابن السني (٧٥٣)، والبخاري في خلق أفعال العباد ص ٨٩، والطبراني في الدعاء (١٠٨٦)، والبيهقي في الآداب (٩٩٣).
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص رات کو اپنی نیند میں ڈر جائے، تو یہ کلمات پڑھے: اللہ کے نام کے ساتھ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی، اس کے غضب سے اور اس کی بری پکڑ سے، اور اس کے بندوں کے شر سے، اور شیطانوں کے شر سے، اور جو کچھ وہ حاضر ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31600]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31600، ترقيم محمد عوامة 30237)
ترقیم عوامۃ: 30238 ترقیم الشثری: -- 31601
٣١٦٠١ - حدثنا عفان بن مسلم حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا ابو التياح قال: سال رجل (عبد الله) (١) بن (خنبش) (٢) كيف صنع رسول الله ﷺ حين كادته ⦗٢٩١⦘ الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول الله ﷺ من الاودية وتحدرت عليه من الجبال، وفيهم شيطان معه شعلة نار يريد ان يحرق بها رسول الله ﷺ فارعب منهم قال: جعفر احسبه قال: جعل يتاخر، قال: وجاءه جبريل فقال: يا محمد قل: قال:"ما اقول؟" قال:"قل اعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرا وبرا، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرا في الارض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (٣) قال: وهزمهم الله (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا رواية عفان كما في المسند وغيره، وفي [هـ]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ب، ط]: (عبيس)، وفي [جـ، ك]: (عنبس)
(٣) في [هـ]: (الشيطان).
(٤) حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.
حضرت ابو التیاح فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے سوا ل کیا: جب شیاطین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ کچھ شیاطین وادیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اور پہاڑ سے اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، اس حال میں کہ ان میں ایک شیطان تھا جس کے پاس ایک انگارہ تھا، اس کا ارادہ تھا کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلا دے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کا رعب طاری ہوگیا، حضرت جعفر فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹنے لگے۔ راوی فرماتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائلب حاضر ہوئے۔ اور فرمایا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ پڑھیے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: میں کیا پڑھوں؟ حضرت جبرائیل نے ارشاد فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھیے! میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ جن سے کوئی نیکو کار اور بدکار تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، جس کو وجود بخشا اور جسے پیدا کیا اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان میں بلند ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے، اور اس چیز کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور دن اور رات کے فتنوں کے شر سے، اور ہر رات کو نمودار ہونے والی چیز کے شر سے مگر جو رات کو خیر لائے، اے رحمن! راوی کہتے ہیں پس شیاطین کی آگ کو بجھا دیا گیا، کہتے ہیں پس اللہ نے ان شیاطین کو شکست دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31601]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31601، ترقيم محمد عوامة 30238)
ترقیم عوامۃ: 30239 ترقیم الشثری: -- 31602
٣١٦٠٢ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن (سابط) (١) قال: اصاب خالد بن الوليد ارق فقال له النبي ﷺ:"الا اعلمك كلمات إذا قلتهن نمت: اللهم رب السماوات (السبع) (٢) وما اظلت، ورب الارضين (السبع) (٣) وما اقلت، ورب الشياطين وما اضلت، كن (جاري) (٤) من شر خلقك كلهم جميعا ان يفرط علي احد منهم او يبغي، عز جارك ولا إله غيرك" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (سايط).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (لي جارًا)، وفي [ط]: (رجائي).
(٥) مرسل؛ ابن سابط تابعي، أخرجه الطبراني (٣٨٣٩) وفي الصغير (٩٨٤)، وابن فضيل في الدعاء (١٢٦)، وقد ورد من طريق علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه، أخرجه الترمذي (٣٥٢٣)، والطبراني في الأوسط (١٤٦)، وابن عدي ٢/ ٢٠٩.
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید کو رات میں نیند نہیں آتی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں جب تم ان کو کہو گے تو تمہیں نیند آجائے گی؟ تم یہ کلمات پڑھا کرو! اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھا رکھا ہے اور شیاطین کے رب اور جو یہ گمراہ کرتے ہیں، تو میرا محافظ بن جا! اپنی تمام مخلوق کے شر سے، کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے، تیری پناہ غالب ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31602]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31602، ترقيم محمد عوامة 30239)