🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ:
باب: لڑکا، عورت کے شوہر یا مالک کا ہے اور شبہات سے بچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1457 ترقیم شاملہ: -- 3613
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ. ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ؟ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ "، قَالَت: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَوْلَهُ: يَا عَبْدُ،
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: سعد بن ابی وقاص اور عبدبن زمعہ رضی اللہ عنہما نے ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ عبدبن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے، اللہ کے رسول! یہ میرے باپ کی لونڈی سے اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت دیکھی تو آپ نے واضح طور پر عتبہ کے ساتھ مشابہت (بھی) محسوس کی، اس کے بعد آپ نے فرمایا: عبد! یہ تمہارا (بھائی) ہے۔ (اس کا سبب یہ ہے کہ) بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر (ناکامی اور محرومی) ہے۔ اور سودہ بنت زمعہ! (تم) اس سے پردہ کرو۔ اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔ اور محمد بن رمح نے آپ کے الفاظ یا عبد ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3613]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک بچے کے بارے میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدبن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھگڑا کیا۔ حضرت سعد نے کہا، یہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی کا بیٹا ہے اور میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ یہ میرا بیٹا ہے، آپ اس کی (عتبہ سے) مشابہت پر نظر دوڑا لیں، اور عبدبن زمعہ نے کہا، یہ میرا بھائی ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے باپ کے بستر پر، اس کی لونڈی کے بطن سے پیدا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شکل و شباہت پر نظر ڈالی، اور عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت دیکھی، اور فرمایا: اے عبد، یہ تجھے ملے گا۔ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے نا کامی ہے اور اے سودہ تم اس سے پردہ کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں اس لڑکے نے کبھی حضرت سودہ کو نہیں دیکھا۔ محمد بن رمح کی روایت میں یا عبدکا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3613]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1457
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1457 ترقیم شاملہ: -- 3614
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ . بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِمَا: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلَمْ يَذْكُرَا: وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ لیکن معمر اور ابن عیینہ کی حدیث میں ہے: بچہ صاحب فراش کا ہے۔ اور ان دونوں نے زانی کے لیے پتھر ہے کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3614]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی سند سے زہری کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں، لیکن مذکورہ بالا حدیث سے اس حدیث میں یہ فرق ہے کہ معمر اور ابن عیینہ دونوں نے (اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشْ) [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1457
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1458 ترقیم شاملہ: -- 3615
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ "،
معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر (ناکامی اور محرومی) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3615]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکا بستر کا ہے اور زانی کے لیے ناکامی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1458
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1458 ترقیم شاملہ: -- 3616
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ، فقَالَ: عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَمَّا عَبْدُ الْأَعْلَى، فقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ سَعِيدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ عَمْرٌو: حدثنا سُفْيَانُ مَرَّةً، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ.
سعید بن منصور، زہیر بن حرب، عبدالاعلیٰ بن حماد اور عمرو ناقد سب نے کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے خبر دی۔ ابن منصور نے کہا: سعید نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ عبدالاعلیٰ نے کہا: ابوسلمہ سے یا سعید سے روایت ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ زہیر نے کہا: سعید یا ابوسلمہ نے ان دونوں میں سے ایک نے یا دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اور عمرو نے ایک بار کہا: ہمیں سفیان نے زہری کے حوالے سے سعید اور ابوسلمہ سے، اور ایک بار کہا: سعید یا ابوسلمہ سے، اور ایک بار کہا: سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ (آگے) جس طرح معمر کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3616]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن ان میں یہ اختلاف ہے کہ یہ ابو ہریرہ کے کس شاگرد کی روایت ہے سعید بن المسیب کی یا ابو سلمہ کی یا دونوں کی، یا ان میں سے کسی ایک کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الرِّضَاعِ/حدیث: 3616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1458
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں