🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

114. الغيلان إذا (رئيت) ما يقول: الرجل
جب شیطان جن دکھائی دے تو آدمی یوں دعا کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30360 ترقیم الشثری: -- 31725
٣١٧٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن الحسن عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا تغولت (لكم) (١) الغيلان (فنادوا) (٢) بالاذان" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بكم).
(٢) في [أ، ب، ط]: (فبادروا).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يسمع من جابر، أخرجه أحمد (١٥٠٩١)، والنسائي في الكبرى (١٠٧٩١)، وابن خزيمة (٢٥٤٨)، وعبد الرزاق (٩٢٤٧)، وابن السني (٥٢٣)، وأبو داود (٢٥٧٠)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٩٥٥)، وأبو يعلى (٢٢١٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١٦/ ٢٦٨.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شیاطین جن تمہیں راستہ بھٹکا دیں۔ پس تم بلند آواز سے اذان دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31725، ترقيم محمد عوامة 30360)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30361 ترقیم الشثری: -- 31726
٣١٧٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: ذكرت الغيلان عند (عمر) (٢) ﵀ فقال: إنه ليس من شيء يستطيع (ان) (٣) (يتغير) (٤) ⦗٣٢٨⦘ عن خلق الله (الذي) (٥) خلقه، ولكن لهم سحرة كسحرتكم، فإذا رايتم من ذلك شيئا فاذنوا (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (بشير).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عمه).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: (يغير).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
(٦) صحيح.

حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پاس غیلان جن کا ذکر کیا جو شکل تبدیل کر کے لوگوں کو راستہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا: بیشک کسی چیز میں اتیش استطاعت نہیں کہ وہ اللہ کی تخلیق کو جیسے اللہ نے پیدا کی تھی بد ل دے۔ لیکن یہ دھوکہ دہی تمہاری دھوکہ دہی کی طرح ہے۔ جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو اذان دے دیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31726، ترقيم محمد عوامة 30361)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30362 ترقیم الشثری: -- 31727
٣١٧٢٧ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي (عن سفيان) (١) عن ابن ابي ليلى عن اخيه (٢) عيسى بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن ابي ايوب انه كان في سهوة (له) (٣) فكانت الغول تجيء، فشكاها إلى النبي ﷺ فقال:" (إذا رايتها فقل) (٤) : بسم الله اجيبي رسول الله ﷺ" قال: فجاءته فقال لها فاخذها، فقالت له: إني لا اعود فارسلها فجاء فقال له النبي ﷺ:"ما فعل اسيرك؟" فقال: اخذتها، فقالت: إني لا اعود (فارسلتها) (٥) ، (فقال) (٦) : إنها عائدة فاخذها مرتين او ثلاثا كل ذلك تقول لا اعود، ويجيء إلى النبي ﷺ فيقول:"ما فعل اسيرك؟" فيقول: اخذتها، فتقول: لا اعود فيقول: إنها عائدة، فاخذتها، فقالت: ارسلني واعلمك شيئا تقوله لا يقربك شيء آية الكرسي، فاتى النبي ﷺ فاخبره فقال:"صدقت، وهي كذوب" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: زيادة (عن).
(٣) زيدت في: [ك، هـ].
(٤) في [أ، هـ]: (تكرر).
(٥) في [ب]: (فأرسلها).
(٦) في [ك]: (فقالت).
(٧) ضعيف؛ لضعف ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٢٣٦٤٠)، والترمذي (٢٨٨٠)، والحاكم ٣/ ٤٥٩، والطبراني (٤٠١١)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٢٥٦، وأبو الشيخ في العظمة (١٣١٠).

حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ میں چبوترے میں ہوتا تو ایک شکل بدلنے والا جن میرے پاس آتا تھا، پس میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تو اس کو دیکھے تو یوں کہہ: اللہ کے نام کے ساتھ: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دو۔ آپ فرماتے ہیں: جب وہ آیا۔ پس میں نے یہ کلمات کہے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو وہ مجھے کہنے لگا: یقینا میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تمہارے قیدی کا کیا بنا؟ تو آپ نے عرض کیا: میں نے اس کو پکڑا۔ تو وہ کہنے لگا: میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک وہ دوبارہ واپس آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے اس کو دو یا تین مرتبہ پکڑا۔ وہ ہر مرتبہ کہتا: میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: تمہارے قیدی کا کیا بنا؟ تو آپ فرماتے: میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا: میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: بیشک وہ دوبارہ آئے گا۔ آپ نے فرماتے ہیں! پھر میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا: تم مجھے چھوڑ دو اور میں تمہیں ایسی چیز سکھاؤں گا جب تم اسے پڑھو گے تو کوئی چیز بھی تمہارے قریب نہیں آئے گی، وہ آیت الکرسی ہے۔ پس آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ بات کی حالانکہ ہے وہ جھوٹا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31727، ترقيم محمد عوامة 30362)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں