🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

116. ما يدعو به الرجل ويؤمر به إذا لبس الثوب الجديد
آدمی جب نئے کپڑے پہنے تو اس دعا کے پڑھنے کا اسے حکم دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30372 ترقیم الشثری: -- 31737
٣١٧٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا اصبغ بن زيد حدثنا ابو العلاء عن ابي امامة قال: لبس عمر بن الخطاب ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذي كساني ⦗٣٣٢⦘ ما اواري (به) (١) عورتي، واتجمل به في حياتي، [ (ثم) (٢) قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من لبس ثوبا جديدا فقال: الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي، واتجمل به في حياتي] (٣) ، ثم عمد إلى الثوب الذي (اخلق) (٤) -او قال- القى، فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا قالها ثلاثا" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [أ، ب، ط]: (خلق).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي العلاء، أخرجه أحمد (٣٠٥)، والترمذي (٣٥٦٠)، وابن ماجه (٣٥٥٧)، والحاكم ٤/ ١٩٣.

حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جس سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص نیا کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھے: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جن سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں، اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ اور پھر وہ پرانے کپڑوں کو جس کو اس نے پھاڑ دیا تھا یا فرمایا؛ جسے رکھ دیا صدقہ کر دے تو وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد خدا کی حفاظت میں اور حمایت میں اور خدا کے چھپانے میں رہے گا۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31737]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31737، ترقيم محمد عوامة 30372)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30373 ترقیم الشثری: -- 31738
٣١٧٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي ليلى عن اخيه عيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا لبس احدكم ثوبا جديدا فليقل: الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي واتجمل به في الناس" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف، عبد الرحمن بن أبي ليلى تابعي، وابنه محمد سيء الحفظ.
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک نیا کپڑا پہنے تو اسے چاہیے کہ یوں دعا کرے: شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جن کو پہن کر میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31738، ترقيم محمد عوامة 30373)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30374 ترقیم الشثری: -- 31739
٣١٧٣٩ - حدثنا ابن إدريس عن ابي الاشهب عن رجل من مرينة ان رسول الله ﷺ راى على عمر ثوبا غسيلا (فقال: جديد ثوبك هذا؟ قال: غسيل) (١) يا رسول الله، قال: فقال (٢) رسول الله ﷺ:"البس جديدا، وعش حميدا، وتوف شهيدا، يعطك الله قرة عين في الدنيا والآخرة" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [ك].
(٢) في [هـ]: زيادة (له).
(٣) منقطع، والرجل المزني مجهول، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٢٩، والدولابي في الكنى ١/ ١٠٩.

قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نقل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو دھلا ہوا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا، تو ارشاد فرمایا: کیا تمہارے یہ کپڑے نئے ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دھلے ہوئے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیا کپڑا پہنو، اور شکر کرتے ہوئے زندگی گزارو، اور شہید ہو کر وفات پاؤ، اللہ ت میں دنیا اور آخرت میں آنکھ کی ٹھنڈک نصیب کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31739، ترقيم محمد عوامة 30374)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30375 ترقیم الشثری: -- 31740
٣١٧٤٠ - حدثنا حسين بن علي عن ابي وهب عن منصور عن سالم بن ابي الجعد قال: (إذا لبس) (١) الإنسان الثوب الجديد فقال: اللهم اجعلها ثيابا مباركة نشكر فيها نعمتك، ونحسن فيها عبادتك، ونعمل فيها بطاعتك، لم يجاوز ترقوته حتى يغفر له.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (لبس إذا).
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن ابی الجعد نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص نیا کپڑا پہن کر یوں دعا پڑھے: اے اللہ! تو ان کپڑوں کو بابرکت بنا دے۔ جن کو پہن کر میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں۔ میں جن میں تیرے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں۔ میں جن کو پہن کر تیری فرمانبرداری میں عمل کروں۔ یہ دعا ابھی اس کے حلق میں بھی نہیں پہنچتی کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31740، ترقيم محمد عوامة 30375)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30376 ترقیم الشثری: -- 31741
٣١٧٤١ - حدثنا محمد بن بشر (١) حدثنا مسعر قال: حدثنا عون بن عبد الله قال: لبس رجل ثوبا جديدا فحمد الله، فادخل الجنة او غفر له (٢) فقال له رجل: (لا ارجع) (٣) إلى اهلي حتى البس ثوبا جديدا (واحمد) (٤) الله عليه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (قال).
(٢) في [هـ]: زيادة (قال).
(٣) في [هـ]: (راجع).
(٤) في [جـ]: (أو أحمد).

حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت عون بن عبد اللہ نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی نیا کپڑا پہن کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا یا یوں فرمایا: اس کی مغفرت کردی جائے گی، تو ایک آدمی نے ان کو کہا: میں اپنے گھر والوں کی طرف نہیں لوٹوں گا یہاں تک کہ میں نیا کپڑا پہنوں گا اور اس پر اللہ کا شکر ادا کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31741، ترقيم محمد عوامة 30376)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30377 ترقیم الشثری: -- 31742
٣١٧٤٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن ابي نضرة قال: كان اصحاب النبي ﷺ إذا راوا على احدهم الثوب الجديد قالوا: تبلي ويخلف الله (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيد في [هـ]: (عليك).
(٢) جيد، أخرجه أبو داود (٤٠٢٠)، والبيهقي في الدعوات (٤٣٢)، والشعب (٦٢٨٤)، وأبو الشيخ في أخلاق النبي ﷺ (٢٥٢).

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب کسی کو نیا کپڑا پہنا ہوا دیکھتے تو یوں دعا دیتے، پہنو اور پھاڑو، خدا تمہیں اور دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31742، ترقيم محمد عوامة 30377)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30378 ترقیم الشثری: -- 31743
٣١٧٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا الجريري عن ابي نضرة (١) قال: كان رسول الله ﷺ إذا لبس ثوبا جديدا سماه باسمه إن كان قميصا او إزارا او عمامة يقول: اللهم لك الحمد انت كسوتني هذا، اسالك من خيره وخير ما صنع له، ⦗٣٣٤⦘ واعوذ بك من شره وشر ما صنع له (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في [هـ]: (عن أبي سعيد الخدري).
(٢) مرسل؛ أبو نضرة تابعي، فيه ضعف، ذكره أبو داود (٤٠٢٢)، وأخرجه النسائي في الكبرى (١٠١٤٢)، وأخرجه متصلًا: أحمد (١١٢٤٨)، وأبو داود (٤٠٢٠)، والترمذي (١٧٦٧)، والبغوي (٣١١١)، وابن سعد ١/ ٤٦٠، وابن حبان (٥٤٢١)، والطبراني في الدعاء (٣٩٨)، والحاكم ٤/ ١٩٢، وأبو يعلى (١٠٧٩).

حضرت ابونضرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے اگر قمیص ہو یا تہبند ہو یا عمامہ ہو تو یوں دعا پڑھتے: اے اللہ! تیرے لیے ہی شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑاپہنایا میں تجھ سے اس کی خیر کا اور جس کے لیے بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں۔ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31743، ترقيم محمد عوامة 30378)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں