مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
13. (في تعاهد القرآن)
قرآن کی دیکھ بھال کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 30612 ترقیم الشثری: -- 31984
٣١٩٨٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"مثل القرآن مثل الإبل (المعقلة) (١) إن عقلها صاحبها امسكها وإن تركها ذهبت" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (المعقولة).
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه البخاري (٢٩٠)، ومسلم (٣٠٦).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جس کی اگلی ٹانگ کو گردن سے باندھ دیا گیا ہو۔ اگر اس کا مالک اس کی ٹانگ کو گردن سے باندھ دے گا تو وہ رکا رہے گا اور اگر خالی چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31984]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31984، ترقيم محمد عوامة 30612)
ترقیم عوامۃ: 30613 ترقیم الشثری: -- 31985
٣١٩٨٥ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن علي قال: سمعت ابي يقول: (١) سمعت عقبة بن عامر يقول: قال رسول الله ﷺ:"تعلموا (القرآن) (٢) و (اقتنوه) (٣) والذي نفسي بيده لهو اشد (تفصيا) (٤) ⦗٤١٠⦘ من المخاض من عقلها" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (القرا).
(٣) في [هـ]: (افشوه)، وفي [ب]: (افنوه).
(٤) في [ط]: (نقصًا).
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٣١٧)، والنسائي في الكبرى (٨٠٣٤)، وابن حبان (١١٩)، وأبو يعلى (١٧٤٠)، والدارمي (٣٣٤٨)، والطبراني ١٧/ (٨٠١)، وأبو عبيد في فضائل القرآن ص ٢٩، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٢٩١، والحارث (٧٢٨/ بغية)، والمزي ٢٣/ ٤٧٠، والبيهقي في الشعب (١٩٦٧).
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کو سیکھو اور اس کی خبر گیری کیا کرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن پاک جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31985]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31985، ترقيم محمد عوامة 30613)
ترقیم عوامۃ: 30614 ترقیم الشثری: -- 31986
٣١٩٨٦ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن (١) بريد بن (عبد الله) (٢) عن ابي بردة عن ابي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"تعاهدوا القرآن، فو الذي نفسي بيده لهو اشد تفصيا من قلوب الرجال من الإبل من عقلها" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠٣٣)، ومسلم (٧٩١).
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کی خبر گیری کیا کرو۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ قرآن جلد نکل جانے والا ہے مردوں کے دلوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31986، ترقيم محمد عوامة 30614)
ترقیم عوامۃ: 30615 ترقیم الشثری: -- 31987
٣١٩٨٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق قال: قال عبد الله: تعاهدوا هذه المصاحف -وربما قال: القرآن- فلهو اشد (تفصيا) (١) من قلوب الرجال من النعم من عقلها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (تتصيًا).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٧٩٠)، وأحمد (٣٦٢٠)، وانظر: ما بعده.
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ان مصاحف کی دیکھ بھال کیا کرو۔ اور کبھی فرماتے: قرآن کی دیکھ بھال کیا کرو۔ اس لیے کہ وہ جلد نکل جانے والا ہے سینوں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31987، ترقيم محمد عوامة 30615)
ترقیم عوامۃ: 30616 ترقیم الشثری: -- 31988
٣١٩٨٨ - حدثنا ابن عيينة عن منصور عن ابي وائل قال: قال عبد الله: تعاهدوا هذا القرآن فلهو اشد (تفصيا) (١) من النعم من عقله، قال: وقال رسول الله ﷺ:"بئس ما لاحدهم ان يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل هو نسي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (تقضيًا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠٣٢)، ومسلم (٧٩٠).
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا: اس قرآن کی خبر گیری کیا کرو اس لیے کہ یہ جلد نکل جانے والا ہے سونعں سے بہ نسبت اونٹ کے اپنی رسیوں سے۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: برائی اس شخص کے لیے ہے جو یوں کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا۔ وہ بھولا نہیں بلکہ اسے بھلا دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 31988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31988، ترقيم محمد عوامة 30616)