🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. رؤيا خزيمة بن (ثابت) ﵁
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے خواب
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31155 ترقیم الشثری: -- 32536
٣٢٥٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ابي جعفر الخطمي عن عمارة بن خزيمة بن ثابت عن ابيه انه راى في المنام كانه (سجد) (١) على جبين رسول الله ﷺ، (فذكر) (٢) ذلك (لرسول) (٣) الله ﷺ فقال (٤) رسول الله ﷺ:"إن الروح يلقى الروح"، او قال:"الروح يلقى الروح"، -شك يزيد، فاقنع رسول الله ⦗٩٢⦘ ﷺ راسه ثم امره فسجد من خلفه على جبين رسول الله ﷺ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (يسجد).
(٢) في [ط، هـ]: (وذكر).
(٣) في [ط، هـ]: (رسول).
(٤) في [أ، هـ]: زيادة (إن).
(٥) صحيح؛ ولا يصح معارضة هذا الإسناد بأسانيد ضعيفة، وشهد له الزهري وبعض المحدثين حكم عليه بالاضطراب، والسجود هنا للَّه، أخرجه أحمد (٢١٨٦٤)، وعبد بن حميد (٢١٦)، والنسائي في الكبرى (٧٦٣١)، وابن سعد ٤/ ٣٨٠، والطبراني (٣٧١٧)، وبنحوه أخرجه عبد الرزاق (٢٣٩٤)، والبغوي (٣٢٨٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٠٨٨)، وابن حبان (٧١٤٩).

حضرت عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کر رہے ہیں، چناچہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک روح البتہ روح سے ملا کرتی ہے، یا فرمایا کہ روح روح سے ملتی ہے، یزید راوی کو شک ہے، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو جھکایا اور ان کو سجدے کا حکم دیا، پس انہوں نے آپ کے پیچھے سے آپ کی مبارک پیشانی پر سجدہ کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32536]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32536، ترقيم محمد عوامة 31155)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31156 ترقیم الشثری: -- 32537
٣٢٥٣٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا علي بن زيد وابو عمران الجوني (١) ان سمرة بن جندب قال لابي بكر: رايت في المنام (كاني) (٢) (افتل) (٣) شريطا واضعه إلى جنبي و (نقد) (٤) (ياكلنه) (٥) ، قال: تزوج امراة ذات ولد ياكل كسبك، قال: ورايت ثورا خرج من جحر فلم يستطع يعود فيه، قال: هذه العظيمة تخرج من في الرجل فلا يستطيع ان يردها، قال: (ورايت) (٦) كانه (قيل) (٧) : الدجال يخرج، فجعلت (اتقحم) (٨) (الجدر) (٩) فالتفت خلفي ففرجت لي الارض فدخلتها، قال: يصيبك (قحم) (١٠) في دينك والدجال على اثرك قريبا (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في مصادر التخريج زيادة: (عن الحسن).
(٢) في [ط، هـ]: (كان).
(٣) في [ط]: (أقتل).
(٤) أي: غنم صغار، وفي [أ، جـ]: (نعل)، وفي [ب، ط، ك]: (ولعل).
(٥) في [هـ]: (يأكله).
(٦) في [أ، ب، ط]: (رأيته).
(٧) في [أ، ب، ط]: (قبل).
(٨) في [أ]: (القحم)، وفي [ط]: (أنعم).
(٩) في [أ]: (الجدد).
(١٠) في [أ، ب، ط]: (فحم).
(١١) منقطع؛ علي بن يزيد وأبو عمران لم يدركا سمرة، أخرجه أشيب في جزئه (٣٢)، وأبو بكر في الغيلانيات (٣٤).

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید رحمہ اللہ اور ابو عمران جونی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں رسّی بٹ رہا ہوں اور میں نے رسّی بٹ کر اپنے پہلو میں رکھ دی، اور چھوٹی بھیڑیں اسے کھا رہی ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ایک لڑکے والی عورت سے شادی کرو گے جو تمہارا مال کھاجائے گی، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ ایک سوراخ سے نکلا لیکن پھر وہ اس کے اندر نہ جاسکا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ بڑا بول ہے جو آدمی کے منہ سے نکلتا ہے لیکن وہ اس کو واپس لے جانے کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ دیکھا کہ گویا کہا جا رہا ہے کہ دجال نکل رہا ہے، میں دیواروں کے پیچھے چھپنے لگا، اچانک میں نے اپنے پیچھے دیکھا کہ میرے لیے زمین پھٹ گئی ہے، چناچہ میں اس میں داخل ہوگیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے تیرے دین میں مشکلات پیش آئیں گی اور دجال تیرے بعد عنقریب آجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32537]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32537، ترقيم محمد عوامة 31156)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31157 ترقیم الشثری: -- 32538
٣٢٥٣٨ - حدثنا عبد الله بن بكر قال: (حدثنا) (١) حميد عن انس قال: رايت فيما يرى النائم كان عبد الله بن عمر ياكل تمرا، (قال) (٢) : (فكتب) (٣) إليه: إني رايتك تاكل تمرا، وهو حلاوة الإيمان إن شاء الله (تعالى) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقطت، وفي [جـ، ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) القائل هو حميد، وفي [هـ]: (فكتبت).
(٤) سقطت في: [أ، ب، جـ، ك].
(٥) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چھوہارے کھا رہے ہیں، چناچہ میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے آپ کو چھوہارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے، اور اس کی تعبیر ان شاء اللہ تعالیٰ حلاوتِ ایمان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32538]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32538، ترقيم محمد عوامة 31157)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31158 ترقیم الشثری: -- 32539
٣٢٥٣٩ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن (العلاء) (١) بن زياد العدوي (٢) قال: رايت في النوم كاني ارى عجوزا كبيرة عوراء العين والاخرى قد كادت تذهب، عليها (من الزبر جد) (٣) والحلية شيء عجب، قال: قلت: ما انت؟ قالت: الدنيا، قلت: اعوذ بالله من شرك، قالت: (٤) إن (سرك) (٥) ان (تعوذ) (٦) من شري فابغض الدرهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (علاء).
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) في [ك]: زيادة (و).
(٥) في [أ، ب، جـ، ط]: (شرك).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (تعيز).

حضرت حمید بن ھلال حضرت علاء بن زیاد عدوی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک بڑھیا کو دیکھا جس کی آنکھ کانی تھی، اور دوسری آنکھ بھی ختم ہونے کے قریب تھی۔ اس پر زبر جد اور خوبصورت ترین زیور تھا، فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا تو کون ہے؟ کہنے لگی میں دنیا ہوں، میں نے کہا: میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، کہنے لگی کہ اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے میرے شر سے نجات دے تو درہم سے نفرت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32539]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32539، ترقيم محمد عوامة 31158)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31159 ترقیم الشثری: -- 32540
٣٢٥٤٠ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان قال: حدثنا عبد الله بن القاسم قال: رايت رسول الله ﷺ فسالته عن الاشربة فقال:"بين شارب وتارك".
حضرت فضیل بن غزوان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن قاسم نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے آپ سے شرابوں کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا بعض لوگ ان کے پینے والے ہیں اور بعض ان کو چھوڑنے والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32540]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32540، ترقيم محمد عوامة 31159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31160 ترقیم الشثری: -- 32541
٣٢٥٤١ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: قيل لمحمد بن سيرين: إن فلانا يضحك، قال: ولم لا يضحك؟ فقد ضحك من هو خير منه، حدثت ان عائشة قالت: ضحك النبي ﷺ (١) من رؤيا قصها عليه رجل ضحكا ما رايت ضحك من شيء قط اشد منه، قال محمد: وقد علمت ما الرؤيا وما تاويلها، راى كان راسه قطع فذهب يتبعه، فالراس النبي ﷺ والرجل يزيد ان يلحق بعمله عمل رسول الله ﷺ وهو لا يدركه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (ضحكًا).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عائشة.

حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ فلاں آدمی ہنستا ہے، آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ ہنسے؟ جبکہ اس سے بہترین ذات ہنسی ہے، مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کا خواب سن کر اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ کسی چیز پر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے علم ہے کہ کیا خواب تھا اور اس کی کیا تعبیر ہے؟ اس آدمی نے دیکھا کہ اس کا سر قلم کردیا گیا، اور وہ اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تو سر سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آدمی چاہتا ہے کہ اپنے عمل کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالے لیکن وہ آپ کو نہیں پاسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32541]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32541، ترقيم محمد عوامة 31160)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31161 ترقیم الشثری: -- 32542
٣٢٥٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرني ثابت عن انس بن مالك ان ابا موسى الاشعري او انسا قال: رايت في المنام كاني اخذت (جواد) (١) كثيرة فسلكتها حتى انتهيت إلى جبل، فإذا رسول الله ﷺ فوق الجبل، وابو بكر إلى جنبه وجعل يومئ بيده إلى عمر فقلت: إنا لله وإنا إليه راجعون، مات والله عمر فقلت: الا تكتب به إلى عمر (فقال) (٢) : ما كنت (اكتب) (٣) انعي إلى عمر نفسه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (جوار).
(٢) سقطت من: [ط].
(٣) سقطت من: [جـ، ك].
(٤) صحيح.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یا خود حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے راستوں پر چلا یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچا، میں نے دیکھا کہ پہاڑ کے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے پہلو میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، میں نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، واللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو فوت ہوگئے، میں نے کہا کیا آپ یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لکھ کر نہیں بھیج دیتے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو انہی کی وفات کی خبر نہیں سناتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32542، ترقيم محمد عوامة 31161)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31162 ترقیم الشثری: -- 32543
٣٢٥٤٣ - حدثنا حسين بن محمد قال: حدثنا جرير بن حازم عن نافع ان ابن عمر (راى) (١) رؤيا كان ملكا انطلق به إلى النار، فلقيه ملك آخر وهو (يزعه) (٢) ⦗٩٥⦘ فقال: لم ترع، هذا نعم الرجل لو كان يصلي من الليل، قال: فكان بعد ذلك يطيل الصلاة في الليل، قال: وقد انتهى بي إلى جهنم وانا اقول: اعوذ بالله من النار، فإذا هي ضيقة كالبيت اسفله واسع واعلاه ضيق، وإذا رجال من قريش اعرفهم (منكسون) (٣) بارجلهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت من: [ط].
(٢) في [ط]: (يدعه)، وفي [أ، ب]: (يرعه)، وفي [جـ]: (يرغه).
(٣) في [ك]: (منكسين).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٥٦)، ومسلم (١٤٧٩).

حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ان کو دوزخ کی طرف لے کر چلا، اس کو دوسرا فرشتہ ملا اور وہ اس فرشتے کو منع کرنے لگا، اور اس نے مجھ سے کہا آپ ڈریے نہیں، یہ شخص کیا ہی بہترین آدمی ہے اگر رات کا کچھ حصہ نماز پڑھا کرے، راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس کے بعد رات کو لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ مجھے جہنم کے قریب لے گیا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک کمرے کی مانند ہے جس کا نچلا حصہ کشادہ اور اوپرکا حصّہ تنگ ہو، اور میں نے دیکھا کہ قریش کے بہت سے آدمی اوندھے منہ اس میں پڑے ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32543، ترقيم محمد عوامة 31162)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں