مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32737
٣٢٧٣٧ - قال عطاء: فبلغني انه قتل مع معاوية يوم صفين.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32737، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31349 ترقیم الشثری: -- 32738
٣٢٧٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء قال: اجتمع عيدان في يوم (فقام) (١) الحجاج في العيد الاول (فقال) (٢) : من شاء ان يجمع معنا فليجمع، ومن شاء ان ⦗١٦٦⦘ ينصرف فلينصرف ولا حرج، فقال ابو البختري وميسرة: ماله قاتله الله، من اين سقط على هذا؟
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فمال).
(٢) سقط من: [هـ].
عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک دن میں دو عیدیں اکٹھی ہوگئیں، چناچہ پہلی عید کی نماز کے وقت حجاج کھڑا ہوا اور کہنے لگا: جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے، اور جو شخص جانا چاہے چلا جائے کوئی حرج نہیں، یہ سن کر ابو البختری اور میسرہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے اس پر یہ وحی کہاں سے آ پڑی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32738، ترقيم محمد عوامة 31349)
ترقیم عوامۃ: 31350 ترقیم الشثری: -- 32739
٣٢٧٣٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا سفيان عن واصل الاحدب قال: راى إبراهيم امير حلوان (يمر) (١) (بدوابه) (٢) في زرع (قوم) (٣) ، فقال إبراهيم: الجور في الطريق، خير من (الجور في) (٤) الدين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يسير).
(٢) سقط من: [هـ]، وفي [أ، ب]: (وأنه).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، ط].
واصل أحدب فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے حلوان کے امیر کو دیکھا کہ اپنے چوپایوں کو لوگوں کی کھیتیوں سے گزارتا ہوا چلا جا رہا تھا، آپ نے فرمایا: راستے کی بےراہ روی دین کی بےراہ روی سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32739، ترقيم محمد عوامة 31350)
ترقیم عوامۃ: 31351 ترقیم الشثری: -- 32740
٣٢٧٤٠ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا زائدة قال: حدثنا عبد الملك بن عمير عن ربعي عن ابي موسى قال: قال عمرو بن العاص: لئن كان ابو بكر وعمر تركا هذا المال وهو يحل لهما منه شيء لقد غبنا ونقص رايهما، ولعمر الله (ما) (١) كانا (بمغبونين) (٢) ولا (ناقصي) (٣) الراي، و (لئن) (٤) كانا امراين يحرم عليهما من هذا المال الذي اصبنا بعدهما لقد هلكنا، وايم الله ما جاء الوهم إلا من قبلنا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (إن).
(٢) في [ط، هـ]: (لمغبونين).
(٣) في [ب، ط]: (ناقص).
(٤) في [هـ]: (لكن).
(٥) صحيح.
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مال اس حال میں چھوڑا کہ ان کے لئے اس میں سے کچھ حلال تھا تو وہ گھاٹے میں رہ گئے اور ان کی رائے کمزور رہی، اور خدا کی قسم! نہ وہ گھاٹا کھانے والے تھے اور نہ ضعیف الرائے تھے، اور اگر ان پر مال جو ہم نے ان کے بعد پایا حرام تھا تو یقینا ہم ہلاک ہوگئے، اور بخدا غلطی ہم لوگوں کو ہی لگی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32740، ترقيم محمد عوامة 31351)
ترقیم عوامۃ: 31352 ترقیم الشثری: -- 32741
٣٢٧٤١ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم قال: سمعت محمد ابن سيرين قال: بعث علي بن ابي طالب قيس بن سعد اميرا على مصر، قال: فكتب إليه معاوية وعمرو بن العاص بكتاب فاغلظا له فيه وشتماه واوعداه، ⦗١٦٧⦘ فكتب إليهما بكتاب (لين) (١) (يقاربهما) (٢) (ويطمعهما) (٣) في نفسه، (٤) قال: فلما اتاهما الكتاب كتبا إليه بكتاب (لين) (٥) يذكران فضله و (يطمعانه) (٦) فيما قبلهما، فكتب إليهما بجواب كتابهما الاول يغلظ (لهما) (٧) ، فلم يدع شيئا إلا قاله، فقال احدهما للآخر: لا، والله ما نطيق نحن قيس بن سعد، ولكن تعال نمكر به عند علي، قال: فبعثا بكتابه الاول إلى علي، قال: فقال له اهل الكوفة: عدو الله قيس ابن سعد فاعزله، فقال علي: ويحكم انا والله اعلم هي (والله) (٨) إحدى فعلاته، فابوا إلا عزله فعزله، وبعث محمد بن ابي بكر، فلما قدم على قيس بن سعد قال له قيس: انظر ما آمرك به، إذا كتب إليك معاوية بكذا وكذا فاكتب إليه بكذا (وكذا) (٩) ، وإذا (صنع) (١٠) (كذا) (١١) فاصنع كذا، وإياك ان تخالف ما امرتك به، والله لكاني انظر إليك إن فعلت قد قتلت، ثم ادخلت (في) (١٢) جوف حمار فاحرقت بالنار، قال: ففعل ذلك به (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (لأن).
(٢) في [هـ]: (يغار بهما).
(٣) في [أ]: (ويطمعها)، وفي [ب]: (ويصعهما)، وفي [ط]: (يطعهما).
(٤) في [هـ]: زيادة (قال).
(٥) سقط من: [هـ]، وفي [أ، ط]: (لأن).
(٦) في [ط]: (يطعمانه).
(٧) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٨) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٩) سقط من [جـ]: (وكذا).
(١٠) في [ط]: (ضع).
(١١) في [هـ]: (بكذا).
(١٢) سقط من: [أ، ك، هـ].
(١٣) منقطع؛ محمد بن سيرين لم يدرك ذلك.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے قیس بن سعد کو مصر کا امیر بنا کر بھیجا، حضرت معاویہ اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھ بھیجا جس میں ان کو سخت الفاظ میں خطاب کیا، چناچہ انہوں نے ان کی طرف جواب میں نرم الفاظ میں خط لکھا جس میں ان کو اپنے قریب کیا اور ان کو اپنے بارے میں طمع دلائی، جب ان کے پاس خط پہنچا تو انہوں نے حضرت قیس کے پاس نرم الفاظ پر مشتمل خط بھیجا جس میں ان کی فضیلت تحریر کی اور ان کو اس خط میں اپنی جانب لالچ دیا، چناچہ قیس نے ان کو پہلے خط کا جواب دیا جس میں ان کے لئے سخت الفاظ استعمال کیے، اور کوئی بات جواب کے بغیر نہیں چھوڑی، یہ دیکھ کر ان دونوں نے ایک دوسرے سے کہا: واللہ! ہم قیس بن سعد پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتے، لیکن ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھ کر قیس کے ساتھ ایک تدبیر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا پہلا خط بھیج دیا، جب خط پہنچا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ والوں نے کہا: قیس بن سعد اللہ کا دشمن ہے اس کو معزول کردیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ناس ہو، بخدا میں تم سے زیادہ جانتا ہوں یہ توقیس بن سعد کا ایک کردار ہے، لیکن کوفہ والے مسلسل قیس بن سعد کی معزولی کا مطالبہ کرنے لگے، چاروناچار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کردیا اور ان کی جگہ محمّد بن ابی بکر کو امیر بنا کر بھیجا، جب محمد بن ابی بکر قیس بن سعد کے پاس پہنچے تو قیس نے فرمایا میری بات غور سے سنو! اگر حضرت معاویہ تمہاری طرف اس مضمون کا خط لکھیں تو تم یہ یہ بات لکھ کر جواب دینا، اور جب وہ یہ یہ کام کریں تو تم اس طرح کرنا، اور خبردار! میرے اس حکم کی مخالفت نہ کرنا، اللہ کی قسم! گویا کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم میرے حکم کی مخالفت کرو گے تو تم قتل کردیے جاؤ گے اور پھر گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلا دیے جاؤ گے، راوی کہتے ہیں: کہ بعد میں ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32741، ترقيم محمد عوامة 31352)
ترقیم عوامۃ: 31353 ترقیم الشثری: -- 32742
٣٢٧٤٢ - [حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن محمد بن سيرين قال: ما علمت ان عليا اتهم في قتل عثمان حتى بويع، فلما بويع اتهمه الناس] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [ك].
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن علي ﵁.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت سے پہلے لوگوں نے ان پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی تہمت نہیں لگائی، جب ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو لوگوں نے ان پر حضرت عثمان کے قتل کی تہمت لگا دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32742، ترقيم محمد عوامة 31353)
ترقیم عوامۃ: 31354 ترقیم الشثری: -- 32743
٣٢٧٤٣ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا جرير بن حازم عن محمد بن سيرين قال: قال قيس بن سعد بن عبادة: لولا ان يمكر الرجل حتى يفجر لمكرت باهل الشام مكرا يضطربون يوما إلى الليل (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی مکر سے فاجر نہ ہوجاتا ہو تو میں اہل شام کے ساتھ ایسا مکر کروں جس سے وہ دن رات بےچینی میں مبتلا رہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32743، ترقيم محمد عوامة 31354)
ترقیم عوامۃ: 31355 ترقیم الشثری: -- 32744
٣٢٧٤٤ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابي معدان عن مالك بن (دينار) (١) قال: شهدت الحسن (ومالك بن دينار) (٢) ومسلم بن يسار و (سعيدا) (٣) يامرون بقتال الحجاج مع ابن الاشعث، فقال الحسن: إن (الحجاج) (٤) (عقوبة جاءت) (٥) من السماء (افتستقبل) (٦) عقوبة الله بالسيف.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (دينا).
(٢) كذا في النسخ، ولم ترد هذه الجملة في تاريخ ابن عساكر.
(٣) في [أ، ط، هـ]: (سعدًا).
(٤) في [ط، هـ]: (للحجاج).
(٥) تقديم وتأخير في: [أ، ب].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (فليستقبل)، وفي [ك، م]: (فلتستقبل)، وانظر: الدر المنثور ٤/ ٦١٨، وطبقات ابن سعد ٧/ ١٦٤، وتاريخ ابن عساكر ١٢/ ١٧٧، والاستقصاء ٦/ ٣٩، وتاريخ الإسلام ٦/ ٣٢٢.
مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بصری اور مالک بن دینار اور مسلم بن یسار اور سعید کو دیکھا کہ ابن الأشعث کے ساتھ ہو کر حجاج کے خلاف قتال کا حکم دیتے تھے، حسن بصری نے فرمایا: حجاج ایک سزا ہے جو آسمان سے اتری ہے، تو ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کا سامنا تلوار سے کرنے والے ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32744، ترقيم محمد عوامة 31355)
ترقیم عوامۃ: 31356 ترقیم الشثری: -- 32745
٣٢٧٤٥ - حدثنا ابو سفيان الحميري قال: حدثنا خالد بن محمد القرشي قال: قال عبد الملك بن مروان: من اراد ان يتخذ جارية [للتلذذ فليتخذها بربرية، ومن ⦗١٦٩⦘ اراد ان يتخذها للولد فليتخذها فارسية، ومن اراد ان يتخذها للخدمة فليتخذها رومية.
خالد بن محمد فرماتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان نے کہا کہ جو شخص لذت حاصل کرنے کے لئے لونڈی خریدنا چاہے وہ بربری باندی خریدے، اور جو شخص اولاد کے لئے باندی خریدنا چاہے وہ فارس کی باندی خریدے، اور جو شخص خدمت کے لئے باندی خریدنا چاہے وہ رومی باندی خریدے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32745، ترقيم محمد عوامة 31356)
ترقیم عوامۃ: 31357 ترقیم الشثری: -- 32746
٣٢٧٤٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا ابن ابي (غنية) (١) عن شيخ] (٢) من اهل المدينة قال: قال معاوية: انا اول الملوك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (عتبة).
(٢) ما بين المعكوفين بياض وكلمات غير واضحة في [ب].
(٣) مجهول؛ لإبهام الراوي.
ابن ابی غنیہ مدینہ کے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا بادشاہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32746، ترقيم محمد عوامة 31357)