مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31319 ترقیم الشثری: -- 32707
٣٢٧٠٧ - حدثنا ابو اسامة (١) حدثنا هشام عن ابيه قال: دخلت انا وعبد الله بن الزبير على اسماء قبل قتل عبد الله بعشر ليال واسماء وجعة، فقال لها عبد الله: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت لعافية، (قالت) (٢) : لعلك (تشمت بموتي) (٣) ، (فلذلك) (٤) (تتمناه) (٥) فلا (تفعل) (٦) ، فوالله ما اشتهي ان اموت حتى ياتي علي احد (طريقيك) (٧) ، إما ان تقتل فاحتسبك، وإما (ان) (٨) (تظهر) (٩) فتقر عيني، فإياك ان تعرض عليك (خطة) (١٠) لا توافقك فتقبلها كراهة الموت، قال: وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها ذلك (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٣) في [ب، هـ]: (تشتمتين بموتي)، وفي [أ]: (تتمني موتي).
(٤) في [أ، هـ]: (فذلك).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (يتمناه).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (تفعلي).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (طريقتك).
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (تطهر).
(١٠) في [هـ]: (حظه).
(١١) صحيح.
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں اور عبد اللہ بن زبیر حضرت اسماء کے پاس حضرت عبد اللہ کے قتل سے دس رات پہلے حاضر ہوئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو تکلیف تھی، حضرت عبد اللہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ فرمایا کہ مجھے تکلیف ہے، حضرت عبد اللہ نے فرمایا موت کے اندر عافیت ہے، انہوں نے فرمایا کہ شاید تم مجھے میری موت کی خبر سنا رہے ہو، کیا تم یہی چاہتے ہو؟ ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک مرنا نہیں چاہتی جب تک میرے پاس تمہاری دو حالتوں میں سے ایک حالت کی خبر نہ آجائے، یا تو تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تجھ پر ثواب کی امید رکھوں اور صبر کروں، یا تم کو غلبہ حاصل ہوجائے تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، اس بات سے بچے رہنا کہ تم پر کوئی ایسی حالت پیش کردی جائے جو تمہارے لئے موافق نہ ہو اور تم موت سے بچنے کے لئے اس کو قبول کرلو، راوی کہتے ہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ان سے اس وجہ سے کی تھی کہ ان کو قتل کا یقین تھا اور انہوں نے سوچا کہ کہیں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا کو ان کے قتل کی وجہ سے غم نہ پہنچے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32707، ترقيم محمد عوامة 31319)
ترقیم عوامۃ: 31320 ترقیم الشثری: -- 32708
٣٢٧٠٨ - حدثنا خلف بن خليفة عن ابيه قال اخبرني ابي ان الحجاج حين قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا: شر الامة، فقال: إني رايت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع: فجعلت تنفر فقال لمولاها: ويحك خذ بلجامها فادنها، قال: فرايته ادناها فوقف عبد الله بن عمر وهو يقول: رحمك الله، إن كنت ⦗١٥٦⦘ (لصواما) (١) (قواما) (٢) ، ولقد افلحت امة انت (٣) شرها (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (صوامًا).
(٢) في [هـ]: (قومًا).
(٣) في [ط]: (شرًا) زيادة.
(٤) مجهول؛ لجهالة خليفة.
خلیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حجاج نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا تو ان کو منیٰ لے گیا اور ان کو وادی کے درمیان ایک ٹیلہ کے قریب سولی دے دی، پھر لوگوں سے کہا کہ اس آدمی کو دیکھو یہ امت کا بد ترین آدمی ہے، راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک خچر پر آتے ہوئے دیکھا، وہ اپنے خچّر کو شہتیر سے قریب کرنے لگے اور خچر بدکنے لگا، حضرت نے اپنے غلام سے فرمایا اس کی لگام پکڑ کر شہتیر کے قریب کرو، کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ انہوں نے خچر کو شہتیر کے قریب کردیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں رکے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بیشک تو بہت روزے رکھنے والا اور بہت نماز کے لئے قیام کرنے والا تھا، اور یقینا وہ امت فلاح پا گئی جس کا بدترین آدمی تجھ جیسا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32708، ترقيم محمد عوامة 31320)
ترقیم عوامۃ: 31321 ترقیم الشثری: -- 32709
٣٢٧٠٩ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن (شمر) (١) عن هلال بن يساف قال: حدثني (البريد) (٢) الذي جاء براس المختار إلى عبد الله بن الزبير قال: فلما (وضعته) (٣) بين يديه قال: ما حدثني كعب بحديث إلا رايت مصداقه غير هذا، فإنه حدثني انه (يقتلني) (٤) رجل من (بني) (٥) ثقيف، اراني انا الذي قتلته (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سمر).
(٢) في [أ، ب، ط]: (البريدي).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (وضعه).
(٤) في [جـ]: (تقتلني).
(٥) سقط من: [جـ، م].
(٦) مجهول؛ لجهالة حال البريد.
ھلال بن یساف روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس قاصد نے بیان کیا جو مختار کا سر حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس لایا تھا، اس نے کہا کہ جب میں نے مختار کا سر ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے فرمایا کہ کعب نے مجھے جو بات بھی بیان کی میں نے اس کا مصداق دیکھ لیا، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے قبیلہ بنو ثقیف کا ایک آدمی قتل کرے گا، میر اخیال ہے کہ میں نے ہی اس ثقفی کو قتل کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32709، ترقيم محمد عوامة 31321)
ترقیم عوامۃ: 31322 ترقیم الشثری: -- 32710
٣٢٧١٠ - حدثنا يحيى بن يعلى عن ابيه يعلى بن حرملة قال: تكلم الحجاج يوم عرفة بعرفات، فاطال الكلام، فقال عبد الله بن عمر: الا إن اليوم يوم ذكر، (١) (فمضى) (٢) الحجاج (٣) قال: فاعادها عبد الله مرتين او ثلاثا، ثم قال: يا نافع ناد بالصلاة، فنزل الحجاج (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (قال).
(٢) في [جـ]: (فما مضى)، وفي [أ، هـ]: (فأمضى).
(٣) زيادة في [م]: (في خطبته).
(٤) مجهول؛ لجهالة يعلى بن حرملة.
یعلی رضی اللہ عنہ بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حجاج نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن گفتگو کی اور بہت لمبی گفتگو کی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا آج کا دن ذکر کا دن ہے، کہتے ہیں کہ حجاج نے اپنا خطبہ جاری رکھا، حضرت عبد اللہ نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی، پھر فرمایا اے نافع! نماز کے لئے اذان کہو، یہ سن کر حجاج منبر سے اتر گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32710، ترقيم محمد عوامة 31322)
ترقیم عوامۃ: 31323 ترقیم الشثری: -- 32711
٣٢٧١١ - (١) حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل اخبرنا قيس قال: قال عمر: (الا) (٢) تخبروني (عن منزليكم) (٣) هذين؟ ومع هذا إني (لاسالكما) (٤) وإني لاتبين في وجوهكما اي (المنزلين) (٥) خير، قال: فقال له جرير: انا اخبرك يا امير المؤمنين، اما (احد) (٦) (المنزلين) (٧) (فادنى) (٨) نخلة بالسواد إلى ارض العرب، واما المنزل الآخر فارض فارس (وعكها) (٩) وحرها و (بقها) (١٠) يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، فقال عمر: انت اكذب، ثم قال عمر: الا تخبروني عن اميركم هذا (امجزئ) (١١) هو؟ قلت: (لا) (١٢) والله (ما) (١٣) هو (بمجزئ) (١٤) ولا (كاف) (١٥) ولا ⦗١٥٨⦘ عالم بالسياسة، فعزله (وبعث) (١٦) المغيرة ابن شعبة (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) ورد في [ط]: (لا).
(٣) ورد في [أ، ب، جـ، ط]: (عن منزلتكم)، وفي [هـ]: (بمنزلتكم).
(٤) في [أ، هـ]: (لا أسالكما).
(٥) ورد في [م]: (منزلين)، وفي [أ، هـ]: (المنزلتين).
(٦) في [هـ]: (إحدى).
(٧) ورد في [م]: (منزلين)، وفي [أ، هـ]: (المنزلتين).
(٨) ورد في [ط]: (فأدناها)، وفي [هـ]: (فأدنا).
(٩) أي: شعتها، وفي [هـ]: (وعليها)، وفي [س]: (وعكتها)، وفي [ظ]: (وغلثها).
(١٠) في [هـ]: (بقها) غير منقوطة.
(١١) في [أ، ب، جـ، ط]: (أمجري)، وفي [هـ]: (أهجري).
(١٢) سقط من: [ط، هـ].
(١٣) في [أ، هـ]: (لا).
(١٤) في [أ]: (بمجري)، وفي [ب]: (مجري)، وفي [ط]: (فجرى)، وفي [م]: (مجزي)، وفي [هـ]: (بهجري).
(١٥) في [أ، ح، ط، هـ]: (كان).
(١٦) في [هـ]: (فبعث).
(١٧) صحيح.
قیس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم مجھے خبر دیتے نہیں اپنی ان دو منزلوں کے بارے میں، لیکن اس کے باوجود میں تم سے پوچھوں گا اور میں تمہارے چہروں سے معلوم کروں گا کہ کون سی منزل بہتر ہے، کہتے ہیں کہ جریر نے آپ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک منزل تو درختوں کے اعتبار سے عرب کی زمین کے قریب قریب ہے، اور دوسری منزل فارس کی زمین ہے جس میں سخت بخار اور گرمی اور کھٹمل ہیں، یعنی مدائن، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمار نے جھٹلایا اور کہا کہ تم نے جھوٹ کہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اس سے زیادہ جھوٹ بولا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے اپنے اس امیر کے بارے میں بتاؤ، کیا یہ معقول اور مناسب آدمی ہے؟ لوگوں نے کہا واللہ! نہ تو یہ بہتر کام کرنے والے ہیں اور نہ اکیلے کفایت کرنے والے ہیں اور نہ ہی سیاست کو جانتے ہیں، چناچہ آپ نے ان کو معزول کردیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32711، ترقيم محمد عوامة 31323)
ترقیم عوامۃ: 31324 ترقیم الشثری: -- 32712
٣٢٧١٢ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: كان بين ابن مسعود والوليد بن عقبة (حسن) (١) قال: فدعا عليهما سعد فقال: اللهم امس بينهما، فكان احدهما يقول لصاحبه: لقد اجيب فينا سعد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حسر).
(٢) صحيح.
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ولید بن عقبہ کے درمیان اچھے تعلقات تھے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان دونوں پر بد دعا کردی، اور کہا اے اللہ! ان دونوں میں اتراہٹ اور اکڑ پیدا کر دے، چناچہ بعد میں ان میں سے ایک دوسرے سے کہا کرتا تھا کہ ہمارے بارے میں حضرت سعد کی بد دعا قبول ہوگئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32712]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32712، ترقيم محمد عوامة 31324)
ترقیم عوامۃ: 31325 ترقیم الشثری: -- 32713
٣٢٧١٣ - حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس قال: ذكرت الامراء عند ابن عباس، (فابترك) (١) فيهم رجل، فتطاول حتى ما ارى في البيت اطول منه، فسمعت ابن عباس يقول: يا (هزهاز) (٢) لا تجعل نفسك فتنة للظالمين، فتقاصر حتى ما رايت في القوم اقصر منه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فانبرك)، وفي [هـ]: (فأنبوك).
(٢) في [هـ]: (هزمان).
(٣) صحيح.
حضرت طاوس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے امراء کا ذکر کیا گیا ان لوگوں میں ایک آدمی امراء کو خوب برا بھلا کہنے لگا یہاں تک کہ مجھے گھر میں کوئی آدمی اس سے لمبی بات کرنے والا نہیں ملا، پھر میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ اے حرکت کرنے والے! اپنے آپ کو ظالموں کے لئے فتنہ نہ بناؤ! چناچہ وہ خاموش ہوگیا یہاں تک کہ پھر میں نے لوگوں میں اس سے زیادہ کم گو شخص نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32713]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32713، ترقيم محمد عوامة 31325)
ترقیم عوامۃ: 31326 ترقیم الشثری: -- 32714
٣٢٧١٤ - حدثنا محمد بن الحسن الاسدي قال: اخبرنا يحيى بن المهلب ابو (كدينة) (١) عن الاعمش قال: ذكروا عند ابن عمر الخلفاء، وحب الناس تغييرهم فقال ابن عمر: لو ولي الناس صاحب هذه السارية ما رضوا به -يعني عبد الملك ابن مروان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أبو بكر يتة)، وفي [هـ]: (كريبة).
(٢) ضعيف منقطع؛ لضعف محمد بن الحسن، والأعمش لم يدرك ابن عمر.
اعمش سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے خلفاء کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ لوگ ان کا تبدیل کرنا پسند کرتے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اگر اس ستون والا شخص لوگوں کا حاکم بن جائے تو بھی لوگ اس کو پسند نہیں کریں گے یعنی عبد الملک بن مروان۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32714]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32714، ترقيم محمد عوامة 31326)
ترقیم عوامۃ: 31327 ترقیم الشثری: -- 32715
٣٢٧١٥ - حدثنا محمد بن الحسن الاسدي قال: حدثنا شريك عن ابي الجحاف عن عبد الرحمن بن ابزى عن علي قال: إن حمة (كحمة) (١) العقرب، فإذا كان ذلك فالحقوا بعمتكم النخلة -يعني السواد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (لحمة).
(٢) ضعيف؛ لضعف محمد بن الحسن الأسدي.
حضرت عبد الرحمن بن ابزیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ تمثیلی فرمان نقل کرتے ہیں کہ بہت سے ڈنگ بچّھو کے ڈنگ کے سے ہوتے ہیں، جب ایسا ہو تو تم اپنی پھوپھی کھجور کے ساتھ ہو جاؤ یعنی عام لوگوں کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32715]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32715، ترقيم محمد عوامة 31327)
ترقیم عوامۃ: 31328 ترقیم الشثری: -- 32716
٣٢٧١٦ - (١) حدثنا محمد بن الحسن قال: حدثنا شريك عن داود عن رجل عن علي انه قال: ستكون عكرة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي.
داؤد ایک آدمی کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ عنقریب شدید گڑبڑ ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32716]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32716، ترقيم محمد عوامة 31328)