مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31329 ترقیم الشثری: -- 32717
٣٢٧١٧ - حدثنا محمد بن كناسة قال: حدثنا إسحاق بن سعيد عن ابيه قال: اتى مصعب بن الزبير عبد الله بن عمر وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من انت؟ فقال: ابن (اخيك) (١) مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق، قال: نعم، جئتك لاسالك عن قوم خلعوا الطاعة، وسفكوا الدماء، و (جبوا) (٢) الاموال، فقوتلوا فغلبوا فدخلوا قصرا (فتحصنوا) (٣) فيه ثم سالوا (الامان) (٤) فاعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك وقال: (عمرك) (٥) الله يا ابن الزبير (لو) (٦) ان رجلا (اتى) (٧) ماشية (للزبير) (٨) ⦗١٦٠⦘ فذبح منها في (غداة) (٩) خمسة آلاف (اكنت) (١٠) تراه (مسرفا؟) (١١) قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري: ما الله، و (تستحله) (١٢) ممن هلل الله يوما واحدا (١٣) ؟.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أختك).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حثوا).
(٣) في [هـ]: (فتحضوا).
(٤) في [ط]: (الأمات).
(٥) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٦) في [أ، ب، ط]: (لولا).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (أما).
(٨) في [ط]: (الزبير).
(٩) في [جـ]: (غراة)، وفي [هـ]: (عداة).
(١٠) في [هـ]: (أكتب).
(١١) في [هـ]: (مسوفًا).
(١٢) في [أ]: (تستحل).
(١٣) صحيح.
حضرت سعید سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کر رہے تھے، انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ جوا ب دیا کہ آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر، پوچھا کہ عراق کا حاکم؟ جواب دیا جی ہاں! میں آپ سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت چھوڑ دیں اور خون بہائیں اور مال چھین لیں، ان سے قتال کیا جائے اور اس میں وہ مغلوب ہوجائیں پھر وہ قلعہ بند ہو کر امان طلب کریں ان کو امان دے دی جائے یا پھر ان کو قتل کردیا جائے؟ آپ نے پوچھا وہ کتنے ہیں؟ عرض کیا پانچ ہزار۔ کہتے ہیں کہ اس بات کو سن کر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا، اور فرمایا اے ابن زبیر! اللہ تمہاری عمر دراز کرے، اگر کوئی آدمی زبیر رضی اللہ عنہ کی بکریوں کے پاس آئے اور ایک ہی وقت میں ان میں سے پانچ ہزار بکریاں ذبح کر ڈالے تو کیا تم اس آدمی کو حدّ سے تجاوز کرنے والا سمجھو گے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں! فرمایا کہ تم اس بات کو ان جانوروں کے حق میں اسراف سمجھتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو نہیں جانتے، تو کلمہ پڑھنے والے اتنے لوگوں کو ایک ہی دن میں قتل کرنے کو کیسے حلا ل سمجھ بیٹھے ہو؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32717]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32717، ترقيم محمد عوامة 31329)
ترقیم عوامۃ: 31330 ترقیم الشثری: -- 32718
٣٢٧١٨ - حدثنا محمد بن كناسة عن إسحاق بن (سعيد) (١) عن ابيه قال: (اتى) (٢) عبد الله بن عمر عبد الله بن الزبير فقال: يا ابن الزبير، إياك والإلحاد في حرم الله، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"سيلحد فيه رجل من قريش لو ان ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه فانظر لا تكونه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (سعد).
(٢) في [أ، ب، ط]: (أخبرنا).
(٣) رجاله ثقات، أخرجه أحمد (٦٢٠٠)، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٠، وصوب جماعة أنه من حديث عبد اللَّه بن عمرو بن العاص كما أخرجه أحمد (٦٨٤٨)، ورجح وقفه جماعة.
سعید روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابن زبیر! اللہ تعالیٰ کے حرم میں بےدینی کا ارتکاب کرنے سے بچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ عنقریب اس حرم میں قریش کا ایک آدمی بےدینی کا ارتکاب کرے گا اگر اس کے گناہ جن و انس کے گناہوں کے ساتھ تولے جائیں تو اس ایک آدمی کے گناہ جھک جائیں، خوب دھیان رکھو کہ تم کہیں وہ شخص نہ بنو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32718، ترقيم محمد عوامة 31330)
ترقیم عوامۃ: 31331 ترقیم الشثری: -- 32719
٣٢٧١٩ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن المثنى بن سعيد عن ابي سفيان قال: خطبنا ابن الزبير فقال: إنا قد ابتلينا بما (قد) (١) ترون، فما امرناكم بامر (لله) (٢) فيه طاعة فلنا عليكم فيه السمع والطاعة، وما امرناكم (من امر) (٣) ليس لله فيه طاعة، فليس لنا عليكم فيه طاعة ولا نعمة عين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (اللَّه).
(٣) في [م]: (بأمر).
(٤) حسن؛ أبو سفيان صدوق.
ابو سفیان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں، اس لئے میں اگر تمہیں ایسے کام کا حکم کروں جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو تم پر ہمارے لئے اس کا سننا اور بجا لانا لازم ہے، اور جس کام میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہ ہوتی ہو اس کی اطاعت بھی ضروری نہیں اور ہمیں کوئی خوشی بھی نہ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32719، ترقيم محمد عوامة 31331)
ترقیم عوامۃ: 31332 ترقیم الشثری: -- 32720
٣٢٧٢٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي انه خطب ثم قال: إن ابن اخيكم الحسن بن علي (١) قد جمع مالا وهو يريد ان يقسمه بينكم، فحضر الناس، فقام الحسن فقال: إنما جمعته لفقرائكم، فقام نصف الناس، (فكان) (٢) اول من اخذ منه الاشعث بن قيس (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ط]: (قال).
(٢) في [جـ]: (ثم كان).
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حارثہ بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا پھر فرمایا تمہارے بھتیجے حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مال جمع کر رکھا ہے اور وہ تمہارے درمیان اسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں، سب کے سب لوگ آگئے تو حضرت حسن نے کھڑے ہو کر فرمایا میں نے تو یہ مال تمہارے فقراء کے لیے جمع کیا ہے، یہ سن کر آدھے آدمی کھڑے ہو کر چل دیے، پھر وہ شخص جس نے سب سے پہلے اس مال میں سے لیا اشعث بن قیس تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32720، ترقيم محمد عوامة 31332)
ترقیم عوامۃ: 31333 ترقیم الشثری: -- 32721
٣٢٧٢١ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن هانئ عن علي قال: ليقتلن الحسين ظلما، وإني لاعرف (تربة) (١) الارض التي يقتل فيها قريبا من النهرين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (بريد)، وفي [هـ]: (بتربة).
(٢) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حضرت ہانی ٔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ: البتہ حسین کو ظلماً قتل کیا جائے گا، اور البتہ میں جانتا ہوں اس زمین کی مٹی کو جس میں ان کو قتل کیا جائے گا، وہ جگہ دو نہروں کے قریب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32721، ترقيم محمد عوامة 31333)
ترقیم عوامۃ: 31334 ترقیم الشثری: -- 32722
٣٢٧٢٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش (عن عبد الله بن مرة) (١) (عن عمرو ابن عتبة) (٢) السلمي قال: جاء الاشعث بن قيس فجلس إلى كعب بن عجرة في المسجد فوضع إحدى رجليه على الاخرى فقال له كعب: ضعها، فإنها لا تصلح لبشر (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر ما بين القوسين في: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، هـ]، وفي [جـ]: (عبد اللَّه بن مرة)، وتقدم الخبر ٨/ ٣٨٣ برقم (٢٧١٧٣).
(٣) صحيح.
عمرو بن مرّہ سُلّمی فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس مسجد میں آئے اور کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھ گئے اور اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لیا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اس کو نیچے رکھو کیونکہ یہ ہیئت انسان کے لئے مناسب نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32722، ترقيم محمد عوامة 31334)
ترقیم عوامۃ: 31335 ترقیم الشثری: -- 32723
٣٢٧٢٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن مالك بن الحارث عن ابي خالد قال: وفدت إلى عمر ففضل اهل الشام علينا في الجائزة فقلنا له، فقال: ⦗١٦٢⦘ يا اهل الكوفة اجزعتم اني فضلت عليكم اهل الشام في الجائزة لبعد (شقتهم) (١) ، فقد آثرتكم بابن ام عبد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (سبقهم).
(٢) صحيح؛ أبو خالد صحابي كما في الكنى للدولابي ١/ ٢٧، والإصابة ٧/ ١٠٣، والخبر أخرجه ابن سعد ٦/ ٩، وابن عساكر ٣٣/ ١٤٨.
ابو خالد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس ایک وفد کے ساتھ گیا، انہوں نے اہل شام کو ہم پر انعام اور عطیہ میں فوقیت دی، ہم نے ان سے یہ بات عرض کی، تو آپ نے فرمایا اے کوفہ والو! تم دور ہونے کی وجہ سے اس بات پر پریشان ہو رہے ہو کہ میں نے شام والوں کو تم پر فوقیت دی ہے، لیکن میں نے تمہیں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی صورت میں فوقیت اور ترجیح بھی تو دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32723، ترقيم محمد عوامة 31335)
ترقیم عوامۃ: 31336 ترقیم الشثری: -- 32724
٣٢٧٢٤ - حدثنا ابن فضيل عن سالم بن ابي حفصة عن منذر قال: كنت عند ابن الحنفية فرايته (يتقلب) (١) على فراشه وينفخ، فقالت له امراته: ما يكربك من امر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: والله ما بي عدو الله هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه غدا، قال: ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم انت تعلم اني كنت اعلم مما علمتني انه يخرج منها قتيلا يطاف براسه في الامصار او في الاسواق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، م]: (ينقلب).
منذر فرماتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا کہ میں نے ان کو دیکھا کہ بستر پر بےچینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں اور لمبے لمبے سانس لے رہے ہیں، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ آپ کو آپ کے اس دشمن عبد اللہ بن زبیر کی کون سی بات نے بےچین کر رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ! مجھے یہ پریشانی نہیں کہ ابن زبیر اللہ کا دشمن ہے، لیکن مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کے حرم میں کیا ہوگا! کہتے ہیں کہ پھر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور یہ کہا: اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ میں جانتا تھا اس علم سے جو آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے کہ وہ اس حرم سے قتل ہو کر نکلیں گے اور ان کے سر کو شہروں یا بازاروں میں پھرایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32724، ترقيم محمد عوامة 31336)
ترقیم عوامۃ: 31337 ترقیم الشثری: -- 32725
٣٢٧٢٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا شعبة بن الحجاج قال: حدثنا عمارة ابن ابي حفصة عن ابي مجلز عن قيس بن عباد قال: خرجت إلى المدينة اطلب الشرف والعلم، فاقبل رجل عليه حلة (جميلة) (١) ، فوضع يديه على منكبي عمر فقلت: من هذا؟ قالوا: علي بن ابي طالب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (جميل).
(٢) صحيح.
قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف بزرگی اور علم کی تلاش میں نکلا، میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے خوبصورت جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا پس اس نے اپنے ہاتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ دیے، میں نے لوگوں سے پوچھا یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32725، ترقيم محمد عوامة 31337)
ترقیم عوامۃ: 31338 ترقیم الشثری: -- 32726
٣٢٧٢٦ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم ابن جابر قال: لما (حصر) (١) عثمان اتى علي طلحة وهو مسند ظهره إلى وسائد في بيته فقال: انشدك الله لم رددت الناس عن علي امير المؤمنين، فقال طلحة: حتى ⦗١٦٣⦘ يعطوا الحق من انفسهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (حضر).
(٢) صحيح.
حکیم بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرلیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ کے پاس تشریف لے گئے جبکہ انہوں نے اپنے گھر میں تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ لوگوں کو امیر المؤمنین سے باز رکھیں، حضرت طلحہ نے فرمایا: یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ان کو ان کی جانوں کا بدلہ نہ دے دیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32726، ترقيم محمد عوامة 31338)