مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31339 ترقیم الشثری: -- 32727
٣٢٧٢٧ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق عن سعيد بن وهب (او) (١) عن ابن اخيه عبد الرحمن انه سمع المختار وهو يقول: ما (بقي) (٢) من عمامة علي إلا ذراعان حتى يجيء، (قال) (٣) : قلت: لم تضل الناس: قال: دعني اتالفهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [هـ]، وفي [أ، ب، ط]: (و).
(٢) في [ب]: (تبقى).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
ابو اسحاق سعید بن وہب یا ان کے بھتیجے عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے مختار کو یہ کہتے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عمامے کے صرف دو گز رہ گئے ہیں پھر وہ ظاہر ہوجائیں گے، کہتے ہیں میں نے کہا تم لوگوں کو گمراہ کیوں کرتے ہو؟ کہنے لگا: مجھے لوگوں کو مانوس کرنے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32727، ترقيم محمد عوامة 31339)
ترقیم عوامۃ: 31340 ترقیم الشثری: -- 32728
٣٢٧٢٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثني) (١) ابن عيينة عن إسماعيل بن ابي خالد عن حكيم (بن) (٢) جابر قال: سمعت طلحة بن عبيد الله يقول يوم الجمل: إنا كنا قد داهنا في امر عثمان، فلا نجد بدا من المبالغة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (حدثنا).
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) صحيح.
حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو یہ کہتے سنا کہ ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی امارت کے معاملے میں مداہنت سے کام لیا تھا اب ہمارے لئے ان کی طرف داری میں حد سے گزر جانے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32728، ترقيم محمد عوامة 31340)
ترقیم عوامۃ: 31341 ترقیم الشثری: -- 32729
٣٢٧٢٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن مجالد بن سعيد عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي وبين معاوية بن ابي سفيان اراد الحسن الخروج -يعني إلى المدينة، فقال له معاوية: ما انت بالذي تذهب حتى تخطب الناس، قال الشعبي: فسمعته على المنبر حمد الله واثنى عليه ثم قال: اما بعد، فإن اكيس الكيس التقى، وإن اعجز العجز الفجور، وإن هذا الامر الذي اختلفت فيه انا ومعاوية (حق) (١) كان لي فتركته لمعاوية، او حق كان لامرئ احق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن ادري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (حتى).
(٢) ضعيف؛ لضعف مجالد.
شعبی کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان صلح ہوگئی تو حضرت حسن نے مدینہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا، حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ آپ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک لوگوں کو خطبہ نہ دے دیں، شعبی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے حضرت حسن کو منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا: اما بعد! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ اختیار کرنا ہے اور سب سے بڑی عاجزی گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے، اور بیشک یہ امارت جس میں میرا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہوا تھا میرا حق تھا جس کو میں نے حضرت معاویہ کے لئے چھوڑ دیا یا پھر یہ کسی ایسے آدمی کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہو، اور میں نے یہ کام تمہاری جانوں کے تحفظ کے لئے کیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ ممکن ہے یہ کام تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کا سامان ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32729، ترقيم محمد عوامة 31341)
ترقیم عوامۃ: 31342 ترقیم الشثری: -- 32730
٣٢٧٣٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن ابي الضحى عن ابي جعفر قال: اللهم إني ابرا إليك من مغيرة و (بيان) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (يمان)، وهو بيان بن سمعان، والمغيرة هو بن سعيد البجلي وقد وصفا بالزندقه.
ابو الضحیٰ روایت کرتے ہیں کہ ابو جعفر نے فرمایا کہ اے اللہ! میں آپ کے سامنے براءت کا اعلان کرتا ہوں مغیرہ اور بیان سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32730، ترقيم محمد عوامة 31342)
ترقیم عوامۃ: 31343 ترقیم الشثری: -- 32731
٣٢٧٣١ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن (السميط) (١) عن كعب قال: لكل زمان ملوك، فإذا اراد الله بقوم خيرا بعث فيهم مصلحيهم، وإذا اراد (الله) (٢) (بقوم) (٣) شرا بعث فيهم مترفيهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (السمط).
(٢) سقط في [جـ]: (لفظ الجلالة).
(٣) في [م]: (بهم).
سمیط حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر زمانے کے علیحدہ بادشاہ ہوا کرتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر نیک لوگوں کو بادشاہ بناتے ہیں اور جب کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر بدمعاش لوگوں کو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32731، ترقيم محمد عوامة 31343)
ترقیم عوامۃ: 31344 ترقیم الشثری: -- 32732
٣٢٧٣٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن ميسرة قال: كان يمر عليه الغلام او الجارية ممن يخرجه الحجاج إلى السواد فيقول: من ربك؟ فيقول: الله، فيقول: من نبيك؟ فيقول: محمد ﷺ، قال: فيقول: والله الذي لا إله إلا هو لا اجد احدا يقاتل الحجاج إلا قاتلت معه الحجاج.
میسرہ فرماتے ہیں کہ میرے قریب سے لڑکا یا لڑکی گزرا کرتے تھے جن کا تعلق ان لوگوں سے تھا جن کو حجاج نے دیہاتوں کی طرف نکال دیا تھا، وہ لوگوں سے کہتے: تمہارا رب کون ہے؟ لوگ کہتے ”اللہ“ وہ کہتے:ـ تمہارا نبی کون ہے؟ لوگ کہتے: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر وہ کہتے: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں جس شخص کو بھی حجاج کے ساتھ قتال کرتا ہوا دیکھ لوں گا اس کے ساتھ مل کر حجاج سے قتال کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32732]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32732، ترقيم محمد عوامة 31344)
ترقیم عوامۃ: 31345 ترقیم الشثری: -- 32733
٣٢٧٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) يزيد عن ابي (البختري) (٢) انه راى رجلا (انحاز) (٣) فقال: حر النار اشد من حر السيف.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (بن).
(٢) في [أ، ط]: (البحتري).
(٣) في [جـ]: (النجاز).
یزید فرماتے ہیں کہ ابو البختری نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جنگ میں پشت دے کر بھاگ رہا تھا، انہوں نے فرمایا: دوزخ کی آگ کی گرمی تلوار کی گرمی سے زیادہ سخت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32733]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32733، ترقيم محمد عوامة 31345)
ترقیم عوامۃ: 31346 ترقیم الشثری: -- 32734
٣٢٧٣٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن حصين قال: سمعت عبد الرحمن بن ابي ليلى (يحضض) (١) الناس ايام (الجماجم) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (يخصص).
(٢) في [أ، ب، ط]: (الحماحم).
حصین فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کو دیکھا کہ جماجم کے دنوں میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دے رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32734]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32734، ترقيم محمد عوامة 31346)
ترقیم عوامۃ: 31347 ترقیم الشثری: -- 32735
٣٢٧٣٥ - حدثنا عبد الاعلى عن (الجريري) (١) عن (ابي) (٢) العلاء قال: قالوا لمطرف: هذا عبد الرحمن بن الاشعث قد اقبل، فقال مطرف: والله لقد (نزى بين) (٣) (امرين) (٤) : لئن ظهر لا يقوم لله دين، ولئن ظهر عليه لا (يزالون) (٥) اذلة إلى يوم القيامة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (الحريري).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (رابني)، وفي [س]: (بدا).
(٤) في [هـ]: (أمران).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (يزالوا)، وفي [م]: (تزالوا).
ابو العلاء فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مطرف سے کہا کہ یہ عبد الرحمن بن اشعث آ رہا ہے، مطرف نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ دو باتوں کے بیچ میں حملہ آور ہوا ہے، اگر یہ غالب آیا تو اللہ تعالیٰ کے لئے دین قائم نہیں ہوگا، اور اگر مغلوب ہوگیا تو تم قیامت تک ذلیل رہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32735]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32735، ترقيم محمد عوامة 31347)
ترقیم عوامۃ: 31348 ترقیم الشثری: -- 32736
٣٢٧٣٦ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: اخبرني غير واحد ان قاضيا من قضاة اهل الشام اتى عمر فقال: يا امير المؤمنين رايت رؤيا افظعتني، قال: وما رايت؟ قال: رايت الشمس والقمر يقتتلان، والنجوم معهما نصفين، قال: فمع ايهما كنت؟ (قال) (١) : كنت مع القمر على الشمس، فقال عمر: ﴿وجعلنا الليل والنهار آيتين فمحونا آية الليل وجعلنا آية النهار مبصرة﴾ [الإسراء: ١٢] ، فانطلق فوالله لا تعمل لي (عملا) (٢) ابدا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في [ط]: (قال).
(٢) سقط في [ط]: (عملا).
(٣) مجهول؛ لإبهام شيخ عطاء.
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھے ایک سے زیادہ آدمیوں نے خبر دی ہے کہ شام کے قاضیوں میں سے ایک قاضی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے امیر المؤمنین! میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے، آپ نے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سورج اور چاند کو لڑتے ہوئے دیکھا جن کی ماتحتی میں ستارے بھی دو فریق بنے ہوئے ہیں، آپ نے فرمایا تم کس فریق کے ساتھ تھے؟ انہوں نے کہا میں چاند کے ساتھ تھا جو سورج پر حملہ آور ہو رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } (اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پس رات کی نشانی کو مٹا دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا) پھر فرمایا: چلے جاؤ، خدا کی قسم! آئندہ تم میرے لئے کوئی کام نہیں کرو گے: عطاء فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ مقتول ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32736]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32736، ترقيم محمد عوامة 31348)