🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. من كان يوصي ويستحبها
ان حضرات کا بیان جو وصیت کیا کرتے تھے اور اس کو اچھا سمجھتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31584 ترقیم الشثری: -- 32988
٣٢٩٨٨ - (١) حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن طلحة قال: قلت لابن ابي اوفى: اوصى رسول الله ﷺ؟ قال: لا، قلت: فكيف امر الناس بالوصية؟ قال: اوصى بكتاب الله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٤٠)، ومسلم (١٦٣٤).

حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ فرمایا کہ نہیں! میں نے پوچھا کہ پھر لوگوں کو وصیت کا حکم کیسے دیا گیا؟ فرمانے لگے: آپ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32988، ترقيم محمد عوامة 31584)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31585 ترقیم الشثری: -- 32989
٣٢٩٨٩ - حدثنا ابو معاوية وابن نمير عن الاعمش عن سفيان عن مسروق عن عائشة قالت: ما ترك رسول الله ﷺ دينارا ولا درهما ولا اوصى بشيء (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ ولا يبعد رواية الأعمش له من أوجه وهو إمام، والحديث أخرجه مسلم (١٦٣٥)، وأحمد (٢٤١٧٦).
مسروق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی دینار چھوڑا نہ درہم، اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32989، ترقيم محمد عوامة 31585)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31586 ترقیم الشثری: -- 32990
٣٢٩٩٠ - حدثنا عبيد الله قال: انا إسرائيل عن ابي إسحاق عن ارقم بن شرحبيل عن ابن عباس قال: مات رسول الله ﷺ ولم يوص (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٣١٨٩)، وأبو يعلى (٢٥٦٠)، والضياء في المختارة (٤٨٣)، والبيهقي ٣/ ٨١، والطبراني (١٢٦٣٤)، وابن عساكر ٨/ ١٨، والطحاوي ١/ ٤٠٥.
أرقم بن شرحبیل سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں فوت ہوئے کہ آپ نے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32990]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32990، ترقيم محمد عوامة 31586)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31587 ترقیم الشثری: -- 32991
٣٢٩٩١ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم عن الاسود قال: ذكروا عند عائشة ان عليا كان وصيا، فقالت: متى اوصى إليه؟ فلقد كنت مستندته (إلى) (١) حجري (فانخنث) (٢) ، فمات فمتى اوصى إليه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (في).
(٢) في [أ، ب]: (فانحنيت).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٤١)، ومسلم (١٦٣٦).

أسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی تھے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کب وصیت کی تھی؟ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی گود میں ٹیک دے رکھی تھی کہ آپ کا جسم مبارک ڈھیلا پڑگیا اور آپ وفات پا گئے، تو پھر ان کو وصیت کب فرمائی؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الوصايا/حدیث: 32991]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32991، ترقيم محمد عوامة 31587)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں