🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. في رجل مات وترك ابنته وأخته
اس آدمی کا بیان جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31715 ترقیم الشثری: -- 33128
٣٣١٢٨ - (١) حدثنا وكيع عن سفيان عن اشعث بن ابي الشعثاء عن الاسود بن يزيد قال: قضى معاذ باليمن في ابنة واخت لاب وام: للاخت النصف، وللابنة النصف (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) صحيح.

اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور حقیقی بہن کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بہن کے لئے نصف مال ہوگا اور نصف مال بیٹی کے لئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33128، ترقيم محمد عوامة 31715)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31716 ترقیم الشثری: -- 33129
٣٣١٢٩ - (١) حدثنا وكيع (٢) عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن معاذ مثل ذلك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [م]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (قال حدثنا).
(٣) صحيح.

ایک دوسری سند سے بھی حضرت اسود سے یہی ارشاد منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33129، ترقيم محمد عوامة 31716)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31717 ترقیم الشثری: -- 33130
٣٣١٣٠ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن إبراهيم عن وبرة بن عبد الرحمن عن الاسود بن يزيد قال: قال ابن الزبير لا يعطي الاخت مع الابنة شيئا حتى حدثته ان معاذا قضى باليمن في ابنة واخت لاب وام، للابنة النصف، وللاخت النصف، فقال: انت رسولي إلى ابن (عتبة) (١) فمره بذلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عيينة).
(٢) صحيح.

اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹی کی موجودگی میں بہن کو کچھ نہ دیے جانے کے قائل تھے۔ یہاں تک کہ میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں بیٹی اور حقیقی بہن کے بارے میں یہ حکم ارشاد فرمایا کہ نصف مال بیٹی کے لئے ہوگا اور نصف بہن کے لئے، اس پر انہوں نے فرمایا کہ تم ابن عتبہ کی طرف میرے قاصد بن کر جاؤ اور اس کو اس بات کا حکم دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33130، ترقيم محمد عوامة 31717)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31718 ترقیم الشثری: -- 33131
٣٣١٣١ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود قال: حدثت ابن الزبير يقول معاذ فقال: انت رسولي إلى ابن (عتبة) (١) فمره بذلك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عيينة)، وفي [ط، هـ]: (عقبة).
(٢) صحيح.

اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا فرمان بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم ابن عتبہ کی طرف میرے قاصد ہو اس کو اس کا حکم دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33131، ترقيم محمد عوامة 31718)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31719 ترقیم الشثری: -- 33132
٣٣١٣٢ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني يحيى بن ايوب المصري قال: ثنا يزيد بن ابي حبيب عن ابي سلمة ان عمر جعل المال بين الابنة والاخت نصفين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو سلمة لا يروي عن عمر، وأخرجه الطحاوي ٤/ ٣٩٣.
ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹی اور بہن کے درمیان مال کو آدھا آدھا تقسیم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33132، ترقيم محمد عوامة 31719)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31720 ترقیم الشثری: -- 33133
٣٣١٣٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ابي حصين عن عبد الله ابن عتبة في ابنة واخت قال: النصف والنصف.
ابو حصین سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عتبہ نے بیٹی اور بہن کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان کو آدھا آدھا ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33133، ترقيم محمد عوامة 31720)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31721 ترقیم الشثری: -- 33134
٣٣١٣٤ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابن سيرين عن الاسود قال: كان ابن الزبير قد هم ان يمنع الاخوات مع البنات الميراث، فحدثته ان معاذا قضى به (فينا) (١) ، ورث ابنة واختا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: سقط (فينا).
(٢) صحيح.

اسود فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ بیٹیوں کی موجودگی میں بہنوں کو میراث سے محروم رکھیں، جب میں نے ان کو یہ حدیث سنائی کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان اس بارے میں فیصلہ فرمایا ہے تو انہوں نے بہن اور بیٹی کو وارث قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33134]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33134، ترقيم محمد عوامة 31721)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31722 ترقیم الشثری: -- 33135
٣٣١٣٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كان علي وابن مسعود ومعاذ يقولون في ابنة واخت: النصف والنصف، وهو قول اصحاب محمد ﷺ إلا ابن الزبير وابن عباس (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي.
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، ابن مسعود اور معاذ رضی اللہ عنہ م بیٹی اور بہن کے حصّوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ آدھا آدھا ہے، اور یہی محمد 5 کے صحابہ کی رائے ہے سوائے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33135، ترقيم محمد عوامة 31722)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31723 ترقیم الشثری: -- 33136
٣٣١٣٦ - حدثنا علي بن مسهر (عن الشيباني) (١) عن المسيب بن رافع قال: كنت جالسا عند عبد الله بن عتبة، وقد امرني ان اصلح بين الابنة والاخت في الميراث، وقد كان ابن الزبير امره ان لا يورث الاخت مع الابنة شيئا، فإني لاصلح ⦗٢٥٣⦘ بينهما عنده إذ جاء الاسود بن يزيد فقال: إني شهدت معاذا باليمن قسم المال بين الابنة والاخت، وإني اتيت ابن الزبير فاعلمته ذلك، فامرني ان آتيك فاعلمك ذلك لتقضي به وتكتب به إليه، فقال: يا اسود، إنك عندنا لمصدق، فاته فاعلمه ذلك فليقض به (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) صحيح.

مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ انہوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ بیٹی اور بہن کے درمیان صلح کروا دوں، اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ بہن کو بیٹی کی موجودگی میں وارث نہ بنائیں، میں ان دونوں کے درمیان صلح کروانے کو ہی تھا کہ اسود بن یزید تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن میں دیکھا کہ انہوں نے بیٹی اور بہن کے درمیان مال تقسیم فرمایا تھا، میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو بھی بتادوں تاکہ آپ اس کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور یہ بات خط میں لکھ کر ان کی طرف بھیج دیں، اور انہوں نے کہا اے اسود! آپ ہمارے خیال میں سچے آدمی ہیں ان کے پاس جائیں اور ان کو یہ بات بتائیں تاکہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے ایک حصّہ بیٹی کا ہوگا اور ایک بہن کا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33136، ترقيم محمد عوامة 31723)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33137
٣٣١٣٧ - قال ابو بكر: وهذه من سهمين للابنة سهم، وللاخت سهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33137، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں