مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
49. في زوج وأم وإخوة وجد (فهذه) التي تسمى الأكدرية
اس آدمی کا بیان جو اپنے دادا اور ماں شریک بھائی کو چھوڑ جائے
ترقیم عوامۃ: 31890 ترقیم الشثری: -- 33344
٣٣٣٤٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان عبد الله يجعل الاكدرية من ثمانية: للزوج ثلاثة، وثلاثة للاخت، وسهم للام، وسهم للجد، قال: وكان علي يجعلها من تسعة: ثلاثة للزوج، وثلاثة للاخت، وسهمان للام، وسهم للجد، وكان زيد يجعلها من تسعة: ثلاثة للزوج وثلاثة للاخت، وسهمان للام وسهم للجد، ثم يضربها في ثلاثة، فتصير سبعة وعشرين، فيعطي الزوج تسعة والام ستة، (ويبقى) (١) (اثنا) (٢) عشر فيعطي الجد ثمانية ويعطي الاخت اربعة (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (وتبقى).
(٢) في [أ، ب]: (اثنى).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ”اکدریّہ“ کے مسئلے کو آٹھ حصّوں سے نکالا کرتے تھے، تین حصّے شوہر کے لئے، اور تین حصّے بہن کے لئے، اور ایک حصّہ ماں کے لئے اور ایک حصّہ دادا کے لئے، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مسئلے کو نو حصّوں سے نکالتے تھے، تین حصّے شوہر کے لئے، اور تین حصّے بہن کے لئے، اور دو حصّے ماں کے لئے، اور ایک حصّہ دادا کے لئے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ بھی اس مسئلے کو نو حصّوں سے نکالتے تھے: تین حصّے شوہر کے لئے، تین حصّے بہن کے لئے، اور دو حصّے ماں کے لئے، اور ایک حصّہ دادا کے لئے، پھر وہ اس کو تین میں ضرب دیتے، اس طرح کل ٢٧ حصّے ہوجاتے ہیں، اس طرح شوہر کو نو حصّے، ماں کو چھ حصّے دیتے، باقی ١٢ حصّے بچتے ہیں، دادا کو آٹھ حصّے اور بہن کو چار حصّے دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33344]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33344، ترقيم محمد عوامة 31890)
ترقیم عوامۃ: 31891 ترقیم الشثری: -- 33345
٣٣٣٤٥ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم عن علي وعبد الله وزيد بمثل حديث ابي معاوية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عليًا وعبد اللَّه.
ابراہیم ایک دوسری سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ، عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں، اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ فرمایا ہے: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ دادا کو با پ کے قائم مقام قرار دیتے کہ بھائی کو اس کے ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے، اور شوہر کو آدھا مال دیتے، اور دادا کو ایک حصّہ یعنی مال کا چھٹا حصّہ دیتے، اور ماں کو ایک تہائی مال یعنی دو حصّے دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33345]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33345، ترقيم محمد عوامة 31891)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33346
٣٣٣٤٦ - وزاد فيه: وبلغني عن ابن عباس انه كان يجعل الجد والدا، لا يرث الإخوة معه شيئا، ويجعل للزوج النصف وللجد السدس: سهم وللام الثلث سهمان (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33346، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31892 ترقیم الشثری: -- 33347
٣٣٣٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الاعمش عن إبراهيم عن علي وعبد الله وزيد (بمثل) (١) حديث ابي معاوية (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (مثل).
(٢) منقطع، إبراهيم لم يدركهم.
حضرت ابراہیم سے ایک تیسری سند سے بھی گزشتہ سے پیوستہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33347]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33347، ترقيم محمد عوامة 31892)
ترقیم عوامۃ: 31893 ترقیم الشثری: -- 33348
٣٣٣٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: قلت للاعمش: لم سميت الاكدرية؟ قال: طرحها عبد الملك بن مروان على رجل يقال له الاكدر كان ينظر في الفرائض فاخطا فيها فسماها الاكدرية (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) قال ابن حجر في الإصابة ١/ ٢١٣: "لعل عبد الملك طرحها على الاكدر -بن همام اللخمي- قديمًا، وعبد الملك يطلب العلم بالمدينة، وإلا فالأكدر قتل قبل أن يلي عبد الملك الخلافة".
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اعمش سے عرض کیا کہ اس مسئلے کو ”اکدریّہ“ کیوں کہا جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عبد الملک بن مروان نے اس مسئلے کو ایک ”اکدر“ نامی آدمی سے پوچھا تھا، اس نے اس میں غلطی کی تو اس نے اس کو مسئلہ ”اکدریّہ“ کا نام دے دیا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سفیان کی اس تشریح سے پہلے یہ سمجھتے تھے کہ اس مسئلے کا نام اکدریّہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کا اس مسئلے کے بارے میں فرمان گرد آلود ہے، یعنی انہوں نے اپنی بات کی وضاحت نہیں فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33348]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33348، ترقيم محمد عوامة 31893)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33349
٣٣٣٤٩ - قال وكيع: (وكنا) (١) نسمع قبل ان يفسر سفيان إنما سميت الاكدرية لان قول زيد تكدر فيها لم (يقس) (٢) قوله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (كنا).
(٢) في [أ، ب]: (يفسر)، وفي [هـ]: (يفش).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33349، ترقيم محمد عوامة ---)