🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. في أم وأخت لأب وأم وجد
شوہر، ماں، بہن اور دادا کے مسئلے کے بیان میں، اس مسئلے کو ”اکدریّہ‘‘ کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31894 ترقیم الشثری: -- 33350
٣٣٣٥٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الواحد عن إسماعيل بن رجاء عن إبراهيم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك هؤلاء الصحابة.
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ماں، حقیقی بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ ان کا مسئلہ نو حصّوں سے نکلے گا، تین حصّے ماں کے لئے، چار حصّے دادا کے لئے، اور دو حصّے بہن کے لئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نصف مال بہن کے لئے یعنی کل مال کے تین حصّے، اور ماں کے لئے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال، اور باقی مال یعنی ایک حصّہ دادا کے لئے ہوگا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بہن کے لئے نصف مال یعنی تین حصّے، اور ماں کے لئے چھٹا حصّہ یعنی ایک حصّہ، اور باقی مال داد ا کے لئے یعنی دو حصّے ہوں گے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک تہائی ماں کے لئے، ایک تہائی بہن کے لئے اور ایک تہائی دادا کے لئے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک تہائی مال ماں کے لئے اور باقی مال دادا کے لئے ہوگا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ شعبی نے فرمایا کہ حجّاج بن یوسف نے مجھ سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے اس کو ان حضرات کے اقوال بتلا دیے، اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بہت اچھا لگا، پوچھنے لگا کہ یہ کس کا قول ہے؟ میں نے کہا: حضرت ابو تراب رضی اللہ عنہ کا، اس پر حجّاج سنبھلا اور کہنے لگا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر عیب نہیں لگاتے، ہم تو ان کی فلاں فلاں بات کو معیوب سمجھتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33350، ترقيم محمد عوامة 31894)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33351
٣٣٣٥١ - وعن سفيان عمن سمع الشعبي قال في ام واخت لاب وام وجد: ان زيد بن ثابت قال: من تسعة اسهم: للام ثلاثة، وللجد اربعة، وللاخت سهمان، وان عليا قال: للاخت النصف ثلاثة، وللام الثلث سهمان، وما بقي فللجد وهو سهم، وقال ابن مسعود: للاخت النصف ثلاثة، وللام السدس سهم، وما بقي فللجد وهو سهمان، وقال عثمان: اثلاثا: ثلث للام، وثلث للاخت، وثلث للجد، وقال ابن عباس: للام الثلث، وما بقي فللجد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الراوي عن الشعبي.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33351، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33352
٣٣٣٥٢ - قال وكيع: وقال الشعبي: سالني الحجاج بن يوسف عنها فاخبرته باقاويلهم فاعجبه قول علي، فقال: قول من هذا؟ (فقلت) (١) : قول ابي تراب، (ففطن) (٢) الحجاج فقال: إنا لم نعب على (علي) (٣) قضاءه، إنما عبنا كذا وكذا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (فقال).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فنظر).
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عليًا.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33352، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31895 ترقیم الشثری: -- 33353
٣٣٣٥٣ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امراة تركت اختها لابيها وامها وجدها وامها، فلاختها لابيها وامها النصف، ولامها ⦗٣٠٥⦘ الثلث، وللجد السدس في قول علي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) منقطع.

حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں جو اپنی حقیقی بہن، اور دادا اور ماں کو چھوڑ جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق اس کی حقیقی بہن کے لیے آدھا مال اور اس کی ماں کے لئے ایک تہائی مال اور اس کے دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے۔ اور حضرت عبد اللہ فرماتے تھے کہ ماں کے لئے چھٹا حصّہ، دادا کے لئے ایک تہائی مال اور بہن کے لئے آدھا مال ہوگا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس حال میں نہیں دیکھیں گے کہ میں ماں کو اس مسئلے میں یا اس کے علاوہ کسی مسئلے میں دادا پر ترجیح دوں۔ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ ماں کو ایک تہائی مال دیتے تھے اور بہن کو بقیہ مال کا ایک تہائی دیتے تھے، اس مسئلے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ مال کو نو حصّوں پر تقسیم کرتے تھے، ماں کے لئے ایک تہائی مال یعنی تین حصّے، بہن کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی یعنی دو حصے، اور دادا کے لئے چار حصّے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مال کو ورثاء کے درمیان تین حصّوں میں تقسیم کرتے، ماں کے لئے ایک تہائی مال، بہن کے لیے ایک تہائی اور دادا کے لئے بھی ایک تہائی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ دادا باپ کے درجے میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33353، ترقيم محمد عوامة 31895)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33354
٣٣٣٥٤ - وكان عبد الله يقول: للام السدس وللجد الثلث وللاخت النصف، وكان عبد الله يقول: لم يكن الله (ليراني) (١) (افضل) (٢) اما على جد في هذه الفريضة ولا في غيرها من الحدود (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (كبراي).
(٢) في [أ، ب]: (فضل).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عبد اللَّه.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33354، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33355
٣٣٣٥٥ - وكان زيد يعطي الام الثلث والاخت ثلث ما بقي قسمها زيد على تسعة اسهم: للام الثلث ثلاثة اسهم، وللاخت ثلث ما بقي سهمان، وللجد اربعة اسهم، وكان عثمان يجعلها بينهم اثلاثا: للام الثلث، وللاخت الثلث، وللجد الثلث (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33355، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33356
٣٣٣٥٦ - وكان ابن عباس يقول: الجد بمنزلة الاب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33356، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31896 ترقیم الشثری: -- 33357
٣٣٣٥٧ - حدثنا ابن إدريس عن ابيه عن عمرو بن مرة قال: كان عبد الله (يقول) (١) في اخت وام وجد: للاخت النصف، والنصف الباقي بين الجد والام (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع؛ عمرو بن مرة لم يسمع من عبد اللَّه.

عمرو بن مرّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بہن، ماں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرماتے تھے کہ بہن کے لئے آدھا مال ہے اور بقیہ آدھا مال دادا اور ماں کے درمیان تقسیم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33357، ترقيم محمد عوامة 31896)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31897 ترقیم الشثری: -- 33358
٣٣٣٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عمر في اخت وام وجد قال: للاخت النصف، وللام السدس، وما بقي فللجد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہن، ماں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرماتے تھے کہ بہن کو آدھا مال، ماں کو چھٹا حصّہ اور دادا کو بقیہ مال دیا جائے گا، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قو ل میں چھ حصّوں سے اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول میں نو حصّوں سے نکلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33358، ترقيم محمد عوامة 31897)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33359
٣٣٣٥٩ - قال ابو بكر: فهذه في قول علي وعبد الله من ستة اسهم، وفي قول زيد بن ثابت من تسعة اسهم.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33359، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں