مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
52. (في) امرأة تركت زوجها وأمها وأخاها لأبيها وجدها
اس عورت کا بیان جس نے اپنے شوہر، ماں، باپ شریک بہن اور دادا کو چھوڑا
ترقیم عوامۃ: 31905 ترقیم الشثری: -- 33369
٣٣٣٦٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: في امراة تركت زوجها وامها واخاها لابيها وجدها، للزوج النصف ثلاثة اسهم، وللام الثلث سهمان، وللجد سهم في قول علي وزيد، وفي قول عبد الله للزوج النصف، وللام ثلث ما بقي سهم، وللجد سهم، وللاخ سهم، (فإن) (١) كانا (اخوين) (٢) او اكثر من ذلك فللزوج النصف، وللام سهم، وللجد سهم، وبقي سهم فهو لإخوته في قول علي وزيد وعبد الله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (وإن).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (أخوان).
(٣) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے شوہر، ماں، باپ شریک بھائی اور دادا کو چھوڑ جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق شوہر کو آدھا مال یعنی تین حصّے، ماں کو ایک تہائی مال یعنی دو حصّے اور دادا کو ایک حصّہ دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان میں شوہر کے لئے آدھا مال، ماں کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی، دادا کے لئے ایک حصّہ اور ایک حصّہ بھائی کے لئے ہے، اور اگر بھائی دو یا دو سے زیادہ ہوں تو شوہر کے لئے آدھا مال اور ماں اور دادا کے لئے ایک ایک حصّہ ہے، اور ایک حصّہ جو باقی بچے گا بھائیوں میں تقسیم کردیا جائے گا، یہ حضرت علی، زید اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ م کا قول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33369]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33369، ترقيم محمد عوامة 31905)
ترقیم عوامۃ: 31906 ترقیم الشثری: -- 33370
٣٣٣٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ابي إسحاق قال: اتينا شريحا فسالناه عن زوج وام واخ وجد فقال: للبعل الشطر، وللام الثلث، ثم سكت ثم قال الذي على راسه: إنه لا يقول في الجد شيئا.
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ہم حضرت شریح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے شوہر، ماں، بھائی اور دادا کے مسئلے کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا شوہر کے لئے نصف مال ہے اور ماں کے لئے ایک تہائی مال، پھر آپ خاموش ہوگئے تو اس شخص نے جو آپ کے سرہانے کھڑا تھا کہا کہ حضرت دادا کے لئے کسی چیز کے قائل نہیں ہیں، فرماتے ہیں کہ پھر ہم حضرت عَبِیدہ کے پاس آئے تو انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق مال کو چھ حصّوں میں تقسیم فرمایا، تین حصّے شوہر کو دیے اور ایک ایک حصّہ ماں، دادا اور بھائی کو دیا۔ اس طرح یہ مسئلہ تمام حضرات کی رائے کے مطابق چھ حصّوں سے ہی نکلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33370، ترقيم محمد عوامة 31906)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33371
٣٣٣٧١ - قال: فاتينا عبيدة فقسمها من ستة في قول عبد الله، فاعطى الزوج ثلاثة، والام سهما، والجد سهما، والاخ سهما (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33371، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33372
٣٣٣٧٢ - (قال ابو بكر) (١) : فهذه في قولهم جميعا من ستة اسهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، د، س، ط، ك].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33372، ترقيم محمد عوامة ---)