مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
85. في الرجل يعتق الرجل سائبه لمن يكون ميراثه؟
اس آدمی کا بیان جو اپنے غلام کو آزاد چھوڑ دے، یہ کہہ کر کہ کسی کو تم پر ولایت نہیں، کہ اس کی میراث کس کو ملے گی؟
ترقیم عوامۃ: 32078 ترقیم الشثری: -- 33562
٣٣٥٦٢ - حدثنا هشيم عن ابي بشر عن عطاء ان رجلا اعتق غلاما له سائبة، فمات وترك مالا، فسئل ابن مسعود فقال: إن اهل الإسلام لا يسيبون، إنما (كانت تسيب) (١) اهل الجاهلية، انت مولاه وولي نعمته واولى الناس بميراثه، [وإن (تحرجت من شيء) (٢) (فها هنا) (٣) (ورثة) (٤) (كثير) (٥) يعني (بيت) (٦) المال] (٧) (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (كان يسيب).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (حها هنا).
(٤) في [ب، ط، هـ]: (ورثه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب، جـ]: (ثلث).
(٧) سقط من: [م].
(٨) منقطع؛ عطاء لا يروي عن ابن مسعود.
عطاء روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اس طرح آزاد کردیا کہ کسی کو اس پر ولایت نہ ہوگی، چناچہ وہ مرگیا اور اس نے مال چھوڑا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا بیشک اہل اسلام آزاد نہیں چھوڑتے، بیشک اہل جاہلیت ہی آزاد چھوڑتے تھے، آپ اس کے مولیٰ، اور دوسرے لوگوں سے اس کے زیادہ حق دار ہیں، ورنہ اس کا مال میرے پاس لے آؤ، یہاں بہت سے ورثاء ہیں، یعنی بیت المال۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33562]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33562، ترقيم محمد عوامة 32078)
ترقیم عوامۃ: 32079 ترقیم الشثری: -- 33563
٣٣٥٦٣ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن الشعبي قال: اتي ابن مسعود بمال (١) اناس اعتقوه سائبة، فقال لمواليه: هذا مال مولاكم، قالوا: لا حاجة لنا به، إنا كنا اعتقناه سائبة، فقال ابن مسعود: إن في اموال المسلمين له موضعا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) لعله سقط (مولى).
(٢) صحيح.
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آزاد شدہ غلام کا مال لایا گیا، جس کے آقاؤں نے اس کو اس طرح آزاد چھوڑا تھا کہ کوئی اس کا وارث نہ ہوگا، آپ نے اس کے آقاؤں کو کہا، یہ تمہارے آزاد شدہ غلام کا مال ہے، وہ کہنے لگے ہمیں اس مال کی کوئی حاجت نہیں ہم نے اس کو اس طرح آزاد کیا تھا کہ کسی کو اس پر ولایت نہ ہوگی، آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے مال کی جگہیں مقرر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33563، ترقيم محمد عوامة 32079)
ترقیم عوامۃ: 32080 ترقیم الشثری: -- 33564
٣٣٥٦٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن ابي عثمان (قال) (١) : قال عمر: السائبة والصدقة ليومهما (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح.
ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آزاد چھوڑا ہوا غلام اور صدقہ قیامت کے دن کے لئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33564، ترقيم محمد عوامة 32080)
ترقیم عوامۃ: 32081 ترقیم الشثری: -- 33565
٣٣٥٦٥ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن بكر بن عبد الله المزني ان ابن عمر اتي بثلاثين الفا، قال: احسبه، قال: (اعتقه) (١) سائبة (فامر ان يشترى) (٢) به (رقاب) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (اعتقته).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (فأتى ابن سيرين).
(٣) سقط من: [م].
(٤) صحيح.
بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تیس ہزار درہم لائے گئے، راوی کہتے ہیں کہ یہ میرا گمان ہے، کہ لانے والے نے کہا کہ اس کو اس طرح چھوڑ دیں، کہ ان کا کوئی ولی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا، کہ اس سے غلام خرید لیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33565]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33565، ترقيم محمد عوامة 32081)
ترقیم عوامۃ: 32082 ترقیم الشثری: -- 33566
٣٣٥٦٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا زكريا عن عامر في رجل اعتق غلاما له سائبة (١) ، قال: الميراث لمولاه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) السائبة: عتق العبد على أن ولاءه لجميع المسلمين، أو يقول السيد: لا ولاء لأحد عليك.
زکریا روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے غلام کو اس طرح آزاد کردیا کہ اس پر کسی کو ولایت نہ ہو، آپ نے فرمایا اس کی میراث اس کے مولیٰ کو ملے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33566]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33566، ترقيم محمد عوامة 32082)
ترقیم عوامۃ: 32083 ترقیم الشثری: -- 33567
٣٣٥٦٧ - حدثنا حاتم بن وردان عن يونس قال: سئل الحسن عن ميراث السائبة فقال: كل (عتق) (١) سائبة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عتيق)، وانظر: سنن الدارمي (٣١١٨).
یونس فرماتے ہیں، کہ حضرت حسن سے اس غلام کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا جس کو اس کے آقا نے کسی کی ولایت نہ ہونے کی شرط پر آزاد کیا ہو، آپ نے فرمایا، ہر آزاد شدہ کا یہی حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33567، ترقيم محمد عوامة 32083)
ترقیم عوامۃ: 32084 ترقیم الشثری: -- 33568
٣٣٥٦٨ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: لا اعلم ميراث السائبة إلا لمواليه إلا ان... (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) بياض في جميع النسخ؛ ولعلها: (يأبوا)، أو (يتحرجوا).
ابن عون محمد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا، کہ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا کہ ایسے غلاموں کی میراث اس کے آقاؤں کے لئے ہوگی، مگر یہ کہ … [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33568، ترقيم محمد عوامة 32084)
ترقیم عوامۃ: 32085 ترقیم الشثری: -- 33569
٣٣٥٦٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن ابي عمرو (الشيباني) (١) قال: قال عبد الله: السائبة يضع ماله حيث شاء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (السيباني).
(٢) صحيح.
ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا، ایسا غلام جہاں چاہے اپنا مال لگا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33569، ترقيم محمد عوامة 32085)
ترقیم عوامۃ: 32086 ترقیم الشثری: -- 33570
٣٣٥٧٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا بسطام بن مسلم عن عطاء بن ابي رباح ان طارق بن (المرقع) (١) اعتق غلاما له لله، فمات وترك مالا، فعرض على مولاه طارق فقال: شيء جعلته لله فلست بعائد فيه، فكتب في ذلك إلى عمر، فكتب عمر ان اعرضوا المال على طارق، فإن قبله (٢) ، وإلا فاشتروا به رقيقا فاعتقوهم، قال: فبلغ (٣) خمسة عشر راسا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (الربيع).
(٢) في [هـ]: زيادة (فذاك).
(٣) زيادة في [أ، ب]: (ذلك).
(٤) منقطع، عطاء بن أبي رباح لم يدرك عمر.
عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ، طارق بن مرقع نے اپنا غلام اللہ کے لئے آزاد کیا چناچہ وہ مرگیا اور اس نے اپنا مال چھوڑا، اس کو اس کے آقا طارق پر پیش کیا گیا تو وہ کہنے لگے یہ ایسی چیز ہے جو میں نے اللہ کے لئے چھوڑ دی ہے اس لئے میں اس کو دوبارہ لینے والا نہیں، چناچہ اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا۔ آپ نے فرمایا، کہ مال طارق کو دے دو، اگر وہ لے لے تو ٹھیک ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کردو، راوی فرماتے ہیں، کہ وہ مال پندرہ غلاموں کی قیمت تک جا پہنچا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33570، ترقيم محمد عوامة 32086)
ترقیم عوامۃ: 32087 ترقیم الشثری: -- 33571
٣٣٥٧١ - حدثنا عبد الاعلى عن هشام عن محمد ان امراة من الانصار اعتقت سالما سائبة، ثم قالت له: (وال) (١) من شئت، فوالى ابا حذيفة بن عتبة، فاصيب يوم اليمامة (فرفع) (٢) ماله إلى (التي) (٣) اعتقته (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (والي).
(٢) في [هـ]: (فدفع).
(٣) في [جـ]: (الذي).
(٤) منقطع؛ ابن سيرين لم يدرك ذلك.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک انصاریہ عورت نے حضرت سالم کو کسی کی ولایت نہ ہونے کی شرط پر آزاد کردیا، اور کہا جس کو چاہو اپنا ولی بنا لو، انہوں نے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بن عتبہ کو اپنا ولی بنایا، چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوگئے اور ان کا مال اس عورت کو دیا گیا جس نے ان کو آزاد کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33571، ترقيم محمد عوامة 32087)