مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32416 ترقیم الشثری: -- 33919
٣٣٩١٩ - حدثنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن قتادة ان يهوديا حلب للنبي ﷺ ناقة فقال:"اللهم جمله"، فاسود شعره (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٩٤٦٢)، وأبو داود في المراسيل (٤٩٢)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٢١٠.
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی 5 کے لیے اونٹنی کو دوہا، تو آپ نے فرمایا اے اللہ! اس کو خوبصورت فرما، چناچہ اس کے بال سیاہ ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33919]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33919، ترقيم محمد عوامة 32416)
ترقیم عوامۃ: 32417 ترقیم الشثری: -- 33920
٣٣٩٢٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثني (حسين) (٢) بن واقد قال: حدثني (ابو نهيك) (٣) قال: سمعت عمرو بن اخطب ابا زيد الانصاري يقول: استسقى رسول الله ﷺ فجئته بقدح فكانت فيه شعرة (فنزعها) (٤) قال:"اللهم ⦗٤٦٧⦘ جمله"، فلقد رايته وهو ابن اربع وتسعين وما في راسه طاقة بيضاء (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (الحباب).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (حسن).
(٣) في [أ، ب، جـ، م]: (أبو نهيد)، وانظر: مسند ابن أبي شيبة ٢/ ٣٥١ (٨٥٦).
(٤) في [م]: (فنزعتها).
(٥) حسن؛ أبو نهيك صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٨٨١) و (٢٠٧٣٣)، وابن حبان (٧١٧٢)، والحاكم ٤/ ١٣٩، والطبراني ١٧/ (٤٧)، وابن قانع ٢/ ٢٠٦، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣٨٤)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢١١، وابن سعد ٧/ ٢٨، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ١٩٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٨١)، والدولابي في الكنى (١٩٦)، والخطيب في الموضح ٦/ ٢٦٢.
حضرت ابن نھیک فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن اخطب ابو زید انصاری کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا، تو میں آپ کے پاس ایک پیالہ لایا، اس میں ایک بال تھا میں نے اس کو نکال دیا تو آپ نے فرمایا اے اللہ! اس کو خوبصورت فرما، کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چورانوے سال کی عمر میں دیکھا کہ اس وقت بھی ان کے سر میں سفید بال نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33920]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33920، ترقيم محمد عوامة 32417)
ترقیم عوامۃ: 32418 ترقیم الشثری: -- 33921
٣٣٩٢١ - حدثنا معلى بن منصور عن يحيى بن حمزة عن (١) إسحاق بن ابي فروة عن يوسف بن سليمان عن (جدته) (٢) عن عمرو بن الحمق انه سقى النبي ﷺ (٣) لبنا فقال:"اللهم امتعه بشبابه"، فلقد اتت عليه ثمانون سنة لا يرى شعرة بيضاء (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (جده).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) ضعيف جدًا، إسحاق بن أبي فروة متروك، أخرج ابن عساكر ٤٥/ ٤٩٧، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٢٣١، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٢١٧)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٤٧٥)، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٩/ ٤٠٦.
حضرت عمر و بن الحمق فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی 5 کو دودھ پلایا، آپ نے فرمایا کہ اے اللہ! اس کو اس جوانی سے فائدہ پہنچا، چناچہ ان کی عمر اسّی سال ہوگئی اور ان کے سر میں ایک سفید بال بھی نہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33921]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33921، ترقيم محمد عوامة 32418)
ترقیم عوامۃ: 32419 ترقیم الشثری: -- 33922
٣٣٩٢٢ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن يحيى بن (جعدة) (١) عن رجل حدثه عن ام مالك الانصارية، قال: جاءت ام مالك (الانصارية) (٢) بعكة سمن إلى رسول الله ﷺ، فامر رسول الله ﷺ بلالا فعصرها، ثم (دفعها) (٣) ⦗٤٦٨⦘ (إليها) (٤) ، فرجعت فإذا هي مملوءة، فاتت النبي ﷺ (٥) فقالت: انزل في شيء يا رسول الله؟ قال:"وما ذاك يا ام مالك"، قالت: رددت علي هديتي، قال: فدعا بلالا فساله عن ذلك، فقال: والذي بعثك بالحق لقد عصرتها حتى استحييت، فقال رسول الله ﷺ:"هنيئا لك -يا ام مالك- هذه بركة عجل الله (لك) (٦) ثوابها"، ثم علمها ان (تقول) (٧) في دبر كل صلاة: سبحان الله عشرا والحمد لله عشرا والله اكبر عشرا (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (جعفر)، وفي [م]: (جعله).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (رفعها).
(٤) في [أ، ب]: (إليه).
(٥) في [م]: ﵇.
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٨) مجهول؛ لإبهام الرجل، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٣٤٠٥)، والطبراني ٢٥/ (٣٥١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٤٢٧، وأبو نعيم في الدلائل (١٥)، وورد نحوه من حديث جابر عند مسلم (٢٢٨٥).
یحییٰ بن جعدہ ایک آدمی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام مالک انصاریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی کی ایک مشک لائیں، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو اس کے نچوڑنے کا حکم دیا اور پھر ان کو مشک واپس کردی، وہ لوٹیں تو دیکھا کہ وہ مشک بھری ہوئی ہے، چناچہ وہ نبی 5 کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا اے ام مالک! کیا ہوا؟ کہنے لگیں کہ آپ نے میرا ہدیہ واپس کردیا، آپ نے حضرت بلال کو بلایا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے اس کو اتنا نچوڑا کہ مجھے شرم آنے لگی، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے امّ مالک! تمہیں مبارک ہو یہ برکت ہے جس کا ثواب اللہ نے تمہیں جلد عطا کیا ہے، پھر آپ نے ان کو ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی تعلیم فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33922]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33922، ترقيم محمد عوامة 32419)
ترقیم عوامۃ: 32420 ترقیم الشثری: -- 33923
٣٣٩٢٣ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن ابي إسحاق عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) (الفائشي) (٢) عن (ابنة) (٣) لخباب (قالت) (٤) : خرج ابي في (غزاة) (٥) في عهد رسول الله ﷺ (٦) فكان رسول الله ﷺ يتعاهدنا فيحلب عنزا لنا، فكان يحلبها ⦗٤٦٩⦘ في (جفنة) (٧) لنا فتمتلئ، فلما قدم خباب (كان يحلبها) (٨) فعاد حلابها (٩) (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (مزيد).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (العابسي)، وفي [هـ]: (الفاسي)، وفي [م]: (الفايشي).
(٣) في [أ، ب]: (أبيه).
(٤) في [أ، ب]: (قال).
(٥) في [م]: (عزاة).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [أ، ب]: (حقبة).
(٨) في [هـ]: (حلبها).
(٩) في [هـ]: زيادة (كما كان).
(١٠) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن يزيد الفائشي، أخرجه أحمد (٢٧٠٩٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٠٧)، وابن سعد ٨/ ٢٩٠، والطيالسي (١٦٦٣)، والطبراني ٢٥/ (٤٦٠)، وابن الأثير ٧/ ٤١٦.
عبد الرحمن بن یزید فائشی حضرت خباب کی بیٹی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک لڑائی میں نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر گیری کرتے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہتے، اور آپ اس کو ایک بڑے پیالے میں دوہتے اور وہ بھر جاتا، جب خباب آئے اور وہ اس کا دودھ دوہتے تو اس کا دودھ کا پرانا برتن استعمال ہونے لگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33923]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33923، ترقيم محمد عوامة 32420)
ترقیم عوامۃ: 32421 ترقیم الشثری: -- 33924
٣٣٩٢٤ - حدثنا ابو اسامة عن سعيد عن قتادة قال: كان النبي ﷺ إذا قرا: ﴿وإذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح﴾ [الاحزاب: ٧] ، يقول: بدئ بي في (الخير) (١) وكنت آخرهم في البعث (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (الخبر).
(٢) مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه ابن سعد ١/ ١٤٩، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٢٥، وورد بإسناد معلول من حديث قتادة عن الحسن عن أبي هريرة، أخرجه أبو نعيم في الدلائل (٣)، والطبراني في مسند الشاميين (٢٦٦٢)، والبغوي في التفسير ٣/ ٥٠٨، والثعلبي ٨/ ١٠، وابن عدي ٣/ ٣٧٣.
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی 5 جب { وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَہُمْ وَمِنْک وَمِنْ نُوحٍ } پڑھتے تو فرماتے کہ خیر کی ابتداء مجھ سے کی گئی اور بعثت میں میں ان سب سے آخری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33924]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33924، ترقيم محمد عوامة 32421)
ترقیم عوامۃ: 32422 ترقیم الشثری: -- 33925
٣٣٩٢٥ - حدثنا محمد بن ابي عبيدة بن معن عن ابيه عن الاعمش عن ابي سفيان عن انس بن مالك قال: خرج إلينا رسول الله ﷺ ذات يوم وهو غضبان ونحن نرى ان معه جبريل، قال: فما رايت يوما (كان) (١) اكثر باكيا متقنعا منه، (فقال) (٢) :"سلوني، فوالله لا تسالوني عن شيء إلا انباتكم به"، قال: فقام إليه رجل فقال: يا رسول الله افي الجنة انا ام في النار؟ قال:"لا، بل في النار"، قال: ⦗٤٧٠⦘ فقام إليه آخر فقال: يا رسول الله من ابي؟ قال:"ابوك حذافة"، قال: فقام إليه آخر فقالا: (يا رسول الله) (٣) : اعلينا الحج في كل عام؟ قال:"لو قلتها لوجبت ولو وجبت ما قمتم بها، ولو لم تقوموا بها (لعذبتم) (٤) "، قال: فقام عمر بن الخطاب فقال: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد ﷺ (٥) رسولا، يا رسول الله كنا حديثي عهد بجاهلية، فلا تبد سوآتنا ولا تفضحنا لسرائرنا واعف عنا عفا الله عنك، قال: فسري عنه ثم التفت نحو الحائط فقال:"لم ار كاليوم في الخير والشر رايت الجنة والنار دون هذا الحائط" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ، م]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (لهلكتم).
(٥) في [أ]: زيادة (نبيًا).
(٦) حسن؛ أبو سفيان صدوق، وأخرجه البخاري (٩٣)، ومسلم (٢٣٥٩).
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ہمارے پاس آئے، اور ہم سمجھتے تھے کہ آپ کے ساتھ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں پایا، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے سوال کرو، بخدا تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا، کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں جنت میں ہوں یا دوزخ میں، آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ دوزخ میں، دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! میرا والد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہارا والد حذافہ ہے، ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! کیا ہم پر ہر سال حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا اگر میں یہ کہہ دوں تو واجب ہوجائے گا۔ اگر واجب ہوا تو تم اس کو ادا نہیں کرسکو گے، اور اگر تم اس کو ادا نہ کرو گے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور عرض کیا ”رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُولا“ یا رسول اللہ! ہمارا جاہلیت کا زمانہ قریب ہے، آپ ہماری برائیاں ظاہر نہ فرمائیں، اور ہمیں ہمارے پوشیدہ کاموں کی وجہ سے رسوا نہ فرمائیے، اور ہمیں معاف فرمائیے، اللہ نے آپ کو معاف فرما دیا ہے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کی یہ حالت ختم ہوگئی، پھر آپ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا کہ میں نے آج کی طرح خیر و شر میں کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے پاس پایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33925]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33925، ترقيم محمد عوامة 32422)
ترقیم عوامۃ: 32423 ترقیم الشثری: -- 33926
٣٣٩٢٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن ابيه قال: ابطا جبريل على النبي ﷺ (١) فجزع جزعا شديدا، فقالت له خديجة: إني ارى ربك قد قلاك (مما نرى) (٢) من (جزعك) (٣) قال: فنزلت: ﴿والضحى (١) والليل إذا سجى (٢) ما ودعك ربك وما قلى﴾ (٤) [الضحى: ١ - ٣] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [م]: (فما ترى).
(٣) في [هـ]: (جزعتك).
(٤) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن جرير ٣٠/ ٢٣٢، وابن بشكوال في غوامض الأسماء ١/ ٣٢٠، وورد من حديث عروة عن خديجة، أخرجه الحاكم ٢/ ٦٦٧ (٤٢١٤)، وابن إسحاق (١٦٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٦٠، والدولابي في الذرية الطاهرة (٢٩).
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے نبی 5 کے پاس آنے میں تاخیر کی تو آپ بہت گھبرائے، حضرت خدیجہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس نے آپ کی گھبراہٹ کو دیکھا ہے، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں { وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إذَا سَجَی مَا وَدَّعَک رَبُّک، وَمَا قَلَی }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33926]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33926، ترقيم محمد عوامة 32423)
ترقیم عوامۃ: 32424 ترقیم الشثری: -- 33927
٣٣٩٢٧ - حدثنا عمرو بن طلحة عن اسباط بن نصر الهمداني عن سماك عن جابر بن سمرة قال: صليت مع رسول الله ﷺ صلاة الاولى ثم خرج إلى اهله، ⦗٤٧١⦘ وخرجت معه، فاستقبله ولدان، فجعل يمسح (خد) (١) احدهم واحدا واحدا، قال: واما انا فمسح خدي فوجدت ليده بردا وريحا كانما اخرجها من جؤنة عطار (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (خدي).
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (٢٣٢٩)، والطبراني (١٩٤٤)، والمزي ٢١/ ٥٩٤، والخطيب ٤/ ٢٠٤، وابن معين في التاريخ ٣/ ٩١، والذهبي في تاريخ الإسلام ١٦/ ٣٠٠.
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ الأولٰی پڑھی، پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور میں بھی چلا، چناچہ آپ کے پاس بچے آئے تو آپ ایک ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرنے لگے، کہتے ہیں آپ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گو یا کہ ابھی عطر فروش کے تھیلے سے نکالا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33927، ترقيم محمد عوامة 32424)
ترقیم عوامۃ: 32425 ترقیم الشثری: -- 33928
٣٣٩٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن ابي بشر قال: سالت سعيد بن جبير عن الكوثر فقال: هو الخير الكثير الذي اعطاه الله إياه.
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کوثر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا وہ خیر کثیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33928]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33928، ترقيم محمد عوامة 32425)