مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32406 ترقیم الشثری: -- 33909
٣٣٩٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن ابي حازم قال: اتوا سهل بن سعد (فقالوا) (١) : من اي (شيء) (٢) منبر رسول الله ﷺ؟ قال: ما بقي احد من الناس اعلم به مني، قال: هو من اثل الغابة، وعمله فلان مولى فلانة لرسول الله ﷺ، وكان رسول الله ﷺ يستند إلى جذع في المسجد يصلي إليه إذا خطب، فلما اتخذ المنبر فقعد عليه حن الجذع، قال: فاتاه رسول الله ﷺ فوطده، -وليس في حديث ابي حازم (فوطده) (٣) - حتى سكن (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) زيادة (فوطده) من: [جـ، م].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٧)، ومسلم (٥٤٤)، وانظر: سنن الدارمي (١٥٦٥)، ومعجم الطبراني (٥٩٧٧).
ابو حازم فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت سہل بن سعد کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز کا تھا؟ فرمانے لگے کہ مجھ سے زیادہ اس کو جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا، فرمایا کہ وہ جنگل کے جھاؤ کے درخت کا تھا، اور اس کو فلاں عورت کے آزاد کردہ غلام فلاں شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک شہتیر سے ٹیک لگاتے اور جب خطبہ دیتے تو اس کے بعد اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے، جب منبر تیار ہوا اور آپ اس پر بیٹھ گئے تو وہ شہتیر رونے لگا، چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کو زمین میں ٹھہرایا یہاں تک کہ اس کو سکون ہوگیا، اور ابو حازم کی روایت میں ”فوطدہ“ کے الفاظ نہیں ہیں۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33909]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33909، ترقيم محمد عوامة 32406)
ترقیم عوامۃ: 32407 ترقیم الشثری: -- 33910
٣٣٩١٠ - حدثنا وكيع عن عبد الواحد عن ابيه عن جابر قال: كان رسول الله ﷺ يخطب إلى جذع نخلة، فقالت له امراة من الانصار: يا رسول الله، إن لي غلاما نجارا، افلا آمره يصنع لك منبرا؟ قال:"بلى"، فاتخذ منبرا فلما كان يوم الجمعة ⦗٤٥٩⦘ خطب على المنبر، قال: فان الجذع الذي كان يقوم عليه (كما يئن) (١) الصبي، فقال النبي ﷺ (٢) :"إن هذا بكى لما فقد من الذكر" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (كأنين).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٩)، وأحمد (١٤٢٠٦).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک انصاری عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک بڑھئی غلام ہے کیا میں اس کو حکم نہ دوں کہ آپ کے لئے منبر بنائے؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، چناچہ اس نے منبر بنایا، جب جمعے کا دن ہوا تو آپ نے منبر پر خطبہ دیا، چناچہ وہ شہتیر رونے لگا جس سے آپ ٹیک لگاتے تھے جیسے بچہ روتا ہے، نبی 5 نے فرمایا کہ اس کو اس لئے رونا آگیا کہ اس کے پاس سے ذکر ختم ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33910]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33910، ترقيم محمد عوامة 32407)
ترقیم عوامۃ: 32408 ترقیم الشثری: -- 33911
٣٣٩١١ - حدثنا ابو اسامة عن مجالد عن ابي الوداك عن ابي سعيد قال: كان رسول الله ﷺ يخطب إلى جذع، فاتاه رجل رومي فقال: اصنع لك منبرا تخطب عليه، فصنع له منبره هذا الذي ترون، فلما قام عليه (فخطب) (١) حن الجذع حنين الناقة على ولدها، فنزل إليه رسول الله ﷺ فضمه إليه فسكت، فامر به ان (يدفن ويحفر له) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يخطب).
(٢) في [هـ]: (يحفر له يدفن).
(٣) ضعيف؛ أخرجه الدارمي ١/ ١٨ (٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٠٨)، وأبو يعلى (١٠٦٧)، وعبد بن حميد كما في المطالب (٧٠٨)، واللالكائي (١٤٧٦).
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شہتیر سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، چناچہ ایک رومی شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا کیا میں آپ کے لیے ایک منبر بناؤں جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیں؟ چناچہ اس نے آپ کے لئے یہ منبر بنایا جو آپ دیکھ رہے ہو، جب آپ اس پر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تو وہ اس طرح رونے لگا جس طرح اونٹنی اپنے بچے پر روتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اس کے پاس آئے اور اس کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگیا، پھر آپ نے اس کو ایک جگہ کھود کر دفن کرنے کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33911]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33911، ترقيم محمد عوامة 32408)
ترقیم عوامۃ: 32409 ترقیم الشثری: -- 33912
٣٣٩١٢ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن انس عن النبي ﷺ (١) مثل حديث ابن عباس الماضي (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٣٤)، وابن ماجه (١٤١٥)، وعبد بن حميد (١٣٣٦)، والدارمي (١٥٦٤)، وأبو يعلى (٣٣٨٤).
حضرت انس نبی 5 سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گذشتہ روایت کی طرح روایت کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33912]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33912، ترقيم محمد عوامة 32409)
ترقیم عوامۃ: 32410 ترقیم الشثری: -- 33913
٣٣٩١٣ - حدثنا سويد بن عمرو الكلبي ومالك (بن) (١) إسماعيل عن ابي عوانة عن قتادة عن ابي المليح عن عوف بن مالك الاشجعي قال: عرس بنا رسول الله ﷺ ذات ليلة، فافترش كل واحد منا ذراع راحلته، فانتبهت بعض الليل فإذا ناقة ⦗٤٦٠⦘ رسول الله ﷺ (٢) ليس قدامها احد، فانطلقت اطلب رسول الله ﷺ فإذا معاذ بن جبل وعبد الله بن قيس قائمان، قال: قلت: اين رسول الله ﷺ؟ قالا: لا ندري غير انا سمعنا صوتا في اعلى الوادي (فإذا) (٣) مثل هزيز الرحى، فلم نلبث (إلا) (٤) يسيرا حتى اتى رسول الله ﷺ فقال:"إنه اتاني الليلة آت من ربي فخيرني (بين) (٥) ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة، واني اخترت الشفاعة"، قال: (فقلنا) (٦) : يا رسول الله ننشدك الله والصحبة لما جعلتنا من اهل شفاعتك، قال:"فانتم من اهل شفاعتي"، قال: فاقبلنا معانيق إلى الناس، قال: فإذا هم قد فزعوا وفقدوا نبيهم ﷺ فقال:"إنه اتاني الليلة آت من ربي فخيرني بين ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة، وإني اخترت الشفاعة"، فقالوا: يا رسول الله ننشدك الله والصحبة لما جعلتنا من اهل شفاعتك، فلما (اضبوا) (٧) عليه قال:"فإني اشهد من حضر ان شفاعتي لمن مات (من امتي) (٨) لا يشرك بالله شيئا" (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عن أبي).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [أ، ب]: سقطت (إلا).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٦) في [أ، ب]: (فقالوا).
(٧) أي: أكروا عليه الكلام وفي [أ، ب]: (أصبوا).
(٨) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٩) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٠٠٢)، والترمذي (٢٤٤١)، وابن ماجه (٤٣١٧)، وابن حبان (٢١١)، والبخاري في التاريخ ١/ ١٨٥، وابن خزيمة في التوحيد ٢/ ٦٤١، والحاكم ١/ ٦٧، وعبد الرزاق (٢٠٨٦٥)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٨)، والطبراني ١٨/ (١٣٤) والطيالسي (٩٩٨)، وهناد في الزهد (١٨١)، والآجري في الشريعة ص ٣٤٢، وابن هنده في الإيمان (٩٢٥)، وابن الأثير ٤/ ٣١٢.
حضرت عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرے، چناچہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی سواری کے اگلے پاؤں پر سرہانہ لگا لیا، میں رات کے کسی حصّے میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی نہیں، چناچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلا تو معاذ بن جبل اور عبد اللہ بن قیس کھڑے تھے، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ کہنے لگے کہ ہمیں اس کے علاوہ کوئی علم نہیں کہ ہم نے وادی کے اوپر کی جانب سے ایک آواز سنی تو سنا کہ پن چکّی جیسی آواز آرہی تھی، چناچہ ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں سے کر دیجئے، آپ نے فرمایا تم میری شفاعت کے حصّہ داروں میں ہو، کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے لوگوں کے پاس آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے اور نبی 5 کو تلاش کر رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے مجھے میری امت کے نصف لوگوں کے جنت میں داخل کیے جانے اور میری شفاعت کے درمیان اختیار دیا، اور میں نے شفاعت کو اختیار کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو اللہ کا اور آپ کی صحبت کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنے اہل شفاعت میں کر دیجئے، آپ نے فرمایا کہ میں تمام حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33913]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33913، ترقيم محمد عوامة 32410)
ترقیم عوامۃ: 32411 ترقیم الشثری: -- 33914
٣٣٩١٤ - حدثنا محمد بن عبيد عن الاعمش عن سالم بن (ابي الجعد عن جابر ابن) (١) عبد الله قال: مر بي رسول الله رصل وانا اسوق بعيرا لي وانا في آخر الناس وهو (يظلع) (٢) او قد اعتل، (قال) (٣) :"ما شانه؟" فقلت: يا رسول الله (يظلع) (٤) او قد اعتل فاخذ شيئا كان في يده فضربه، ثم قال:"اركب"، فلقد كنت احبسه حتى يلحقوني (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (تصلع).
(٣) في [أ، ب]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (تصلع).
(٥) صحيح؛ أخرجه عبد بن حميد (١١٠٩)، وأبو عوانة (٤٨٤٧)، وأصله عند البخاري (٤٤٣)، ومسلم (٧١٥).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے اونٹ کو ہانک رہا تھا اور سب لوگوں سے پیچھے تھا اور میرا اونٹ لنگڑا یا بیمار تھا، آپ نے فرمایا اس کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لنگڑا یا بیمار ہے، آپ نے ایک چیز لی جو آپ کے ہاتھ میں تھی، اور اس کو مارا، پھر فرمایا سوار ہو جاؤ، چناچہ میں اس کو روکتا تھا تاکہ لوگ مجھ تک پہنچ جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33914]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33914، ترقيم محمد عوامة 32411)
ترقیم عوامۃ: 32412 ترقیم الشثری: -- 33915
٣٣٩١٥ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة قال: لقد رايت من رسول الله ﷺ ثلاثا ما رآها احد قبلي، ولا يراها احد من بعدي: لقد خرجت معه في سفر حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامراة جالسة معها صبي، قالت: يا رسول الله ابني هذا (١) اصابه بلاء، واصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا ادري كم مرة، قال:"ناولينيه"، فرفعته إليه فجعله بينه وبين واسطة (الرحل) (٢) ، ثم (فغر) (٣) فاه فنفث فيه ثلاثا:"بسم الله، انا عبد الله، اخسا عدو الله"، قال: ثم ناولها إياه ثم قال:"القينا به في الرجعة في هذا المكان فاخبرينا بما فعل"، قال: فذهبنا ورجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه ثلاث، فقال:"ما فعل صبيك؟" قالت: والذي بعثك بالحق ما ⦗٤٦٢⦘ احسسنا منه شيئا حتى الساعة، (فاجتزر) (٤) (هذه) (٥) الغنم، قال:"انزل فخذ منها (واحدة) (٦) ورد البقية"، قال: وخرجت معه ذات يوم إلى الجبانة حتى إذا برزنا قال:"انظر ويحك: هل ترى من شيء يواريني؟"، (قلت) (٧) : يا رسول الله ما ارى شيئا يواريك إلا شجرة ما اراها تواريك، قال:"ما (بقربها) (٨) شيء؟"، قلت: شجرة خلفها وهي مثلها او قريب منها، قال:"اذهب إليهما (فقل لهما) (٩) إن رسول الله ﷺ يامركما ان تجتمعا بإذن الله (١٠) "، قال: فاجتمعتا فبرز لحاجته ثم رجع فقال:"اذهب إليهما فقل (لهما) (١١) إن رسول الله ﷺ (١٢) يامركما ان ترجع كل واحدة منكما إلى مكانها"، قال: وكنت جالسا معه ذات يوم إذ جاء جمل (يخب) (١٣) حتى (ضرب) (١٤) بجرانه بين يديه ثم ذرفت عيناه فقال:"انظر ويحك لمن هذا الجمل؟ إن له لشانا"، (قال) (١٥) : (فخرجت) (١٦) التمس صاحبه، فوجدته ⦗٤٦٣⦘ لرجل من الانصار فدعوته إليه، فقال:"ما شان جملك هذا؟"، قال: وما شانه؟ قال: لا ادري والله ما شانه، (قال) (١٧) : عملنا عليه ونضحنا عليه حتى عجز عن السقاية فائتمرنا بالبارحة ان ننحره ونقسم لحمه، قال"فلا تفعل هبه لي او بعنيه"، قال: (١٨) هو لك يا رسول الله، فوسمه (سمة) (١٩) الصدقة ثم بعث به (٢٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (قد).
(٢) في [ب]: (الرحيل).
(٣) في [أ، ب]: (ثغر).
(٤) في [أ، هـ]: (فاحترز).
(٥) في [جـ]: (عن).
(٦) في [م]: (واحدًا).
(٧) في [م]: (قال).
(٨) في [أ، ب، جـ، م]: (قربها).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) زيادة في [م]: (تعالى).
(١١) في [هـ]: (لها).
(١٢) سقط من: [م].
(١٣) في [أ، ب، جـ]: (نجيب)، وفي [م]: (يحبُّ)، وفي [هـ]: (يخبب).
(١٤) في [هـ]: (صوب).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [م]: (فجرجت).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [هـ]: زيادة (بل).
(١٩) في [هـ]: (بسمة).
(٢٠) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عبد العزيز، أخرجه أحمد (١٧٥٤٨)، وأخرج بعضه أبو نعيم في دلائل النبوة (٣٩٤)، والطبراني ٢٢/ (٦٩٤)، ووكيع في الزهد (٥٠٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٢١، وهناد في الزهد (١٣٣٨)، وابن ماجه (٣٣٩).
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین نشانیاں دیکھی ہیں جو نہ مجھ سے پہلے کسی نے دیکھیں نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا، میں آپ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا یہاں تک کہ ہم راستے میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ ایک بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے اس بیٹے کو ایک مصیبت آئی ہے، آپ نے فرمایا مجھے دو، اس نے بچہ آپ کو دیا، آپ نے اس کو اپنے اور کجاوے کے درمیانی حصّے کے درمیان رکھ لیا، پھر آپ نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ ”بِسْمِ اللہِ أَنَا عَبْدُ اللہِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللہِ“ کہہ کر پھونکا، پھر وہ بچہ اس کو دے دیا، اور فرمایا کہ واپسی میں ہمیں اسی جگہ ملنا، اور بتانا کہ کیا ہوا، کہتے ہیں کہ ہم گئے اور پھر لوٹے اور اس عورت کو اس جگہ دیکھا، اس کے پاس بہت سی بکریاں تھیں، آپ نے فرمایا تمہارے بچے کا کیا ہوا؟ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم کو اس کے بارے میں ابھی تک کچھ محسوس نہیں ہوا، آپ نے یہ بکریاں لے لیں آپ نے فرمایا اترو اور ایک بکری لے لو اور باقی واپس کردو۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ میدان کی طرف نکلا یہاں تک کہ جب ہم دور نکل گئے تو آپ نے فرمایا دیکھو کیا تم کوئی چیز دیکھتے ہو جو مجھے چھپالے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کو چھپانے والی کوئی چیز نظر نہیں آرہی سوائے ایک درخت کے جو آپ کو چھپا نہیں سکتا، آپ نے فرمایا اس کے قریب کوئی چیز نہیں؟ میں نے عرض کیا اس کے پیچھے ایک درخت ہے جو اتنا ہی ہے یا اس کے قریب ہے، آپ نے فرمایا ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بحکم خدا کٹھے ہو جاؤ، کہتے ہیں کہ وہ دونوں درخت اکٹھے ہوگئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے، پھر لوٹ آئے اور فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنی جگہ لوٹ جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک اونٹ روتا ہوا آیا، اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو یہ کس کا اونٹ ہے؟ اس کی بری حالت ہے، کہتے ہیں کہ میں اس کے مالک کو ڈھونڈنے نکلا تو وہ اونٹ انصار میں سے ایک آدمی کا پایا، میں نے اس کو آپ کے پاس بلایا، آپ نے فرمایا کہ تمہارے اس اونٹ کا کیا قصّہ ہے؟ اس نے بخدا میں نہیں جانتا کہ اس کی کیا حالت ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ ہم نے اس پر کام کیا اور پانی اٹھوایا، یہاں تک کہ یہ پانی اٹھانے سے عاجز ہوگیا پھر شام کو ہمارا مشورہ ہوا کہ اس کو ذبح کردیں اور اس کا گوشت تقسیم کردیں، آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو یہ مجھے ہبہ کردو یا بیچ دو، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہے، آپ نے اس پر صدقہ کا نشان لگایا اور پھر اس کو بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33915]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33915، ترقيم محمد عوامة 32412)
ترقیم عوامۃ: 32413 ترقیم الشثری: -- 33916
٣٣٩١٦ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسماعيل بن عبد الملك عن ابي الزبير عن جابر قال: خرجت مع رسول الله ﷺ في سفر، وكان رسول الله ﷺ (١) لا ياتي البراز حتى يتغيب، فلا يرى، فنزلنا (بفلاة) (٢) من الارض ليس فيها (شجر) (٣) ولا علم فقال:"يا جابر [اجعل في إداوتك ماء"، ثم انطلق بنا قال: فانطلقنا حتى لا نرى، فإذا هو بشجرتين بينهما اربع اذرع فقال:"يا جابر] (٤) انطلق إلى هذه الشجرة فقل لها: (يقول) (٥) لك رسول الله ﷺ (٦) : الحقي بصاحبتك حتى اجلس خلفكما، فرجعت (إليها) (٧) فجلس رسول الله ﷺ خلفهما، ثم رجعتا ⦗٤٦٤⦘ إلى مكانهما، فركبنا ورسول الله ﷺ بيننا كانما على رءوسنا الطير (تظلنا) (٨) ، فعرضت لنا امراة معها صبي لها فقالت: يا رسول الله إن ابني هذا ياخذه الشيطان كل يوم مرارا، فوقف بها ثم تناول الصبي فجعله بينه وبين مقدم الرحل ثم قال:"اخسا عدو الله، انا رسول الله" -ثلاثا، ثم (دفعه) (٩) إليها، فلما قضينا سفرنا مررنا بذلك الموضع فعرضت لنا المراة معها صبيها ومعها كبشان (تسوقهما) (١٠) ، فقالت: يا رسول الله اقبل مني هديتي، فوالذي بعثك بالحق، ما عاد إليه بعد، فقال:" (خذوا) (١١) منها احدهما، وردوا عليها الآخر"، قال: ثم سرنا ورسول الله ﷺ بيننا كانما على رءوسنا الطير تظلنا، فإذا جمل (ناد) (١٢) حتى إذا كان بين (السماطين) (١٣) خر (ساجدا) (١٤) فجلس رسول الله ﷺ ثم قال:"علي الناس من صاحب هذا الجمل؟" فإذا فتية من الانصار قالوا: هو لنا يا رسول الله، قال:"فما شانه؟" قالوا: (سنينا) (١٥) عليه منذ عشرين سنة، وكانت به شحيمة فاردنا ان ننحره فنقسمه بين غلماننا فانفلت منا، (قال) (١٦) :"تبيعونه"، قالوا: لا، (بل) (١٧) ⦗٤٦٥⦘ هو لك يا رسول الله، قال:" (اما) (١٨) لا، فاحسنوا إليه حتى ياتيه اجله" (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [جـ]: (بفلاه).
(٣) في [هـ]: (شجرة).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، هـ].
(٥) في [أ]: (يقل).
(٦) سقطت من: [م].
(٧) في [أ، ب، جـ، م]: (إليهما).
(٨) في [م]: (يظلنا).
(٩) في [أ، ب]: (دفعها).
(١٠) في [م]: (يسوقهما).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (خذ).
(١٢) في [أ، ب]: (باد)، وفي [م]: (ناة).
(١٣) في [ب]: (السماء طير).
(١٤) في [أ، ب، جـ، م]: (جالسًا).
(١٥) أي: سقينا عليه الزرع ورفعنا به الماء من البئر، وفي [ب]: (سما)، وفي [هـ]: (استنينا).
(١٦) في [أ، ب]: (فقال).
(١٧) سقطت من: [أ، ب].
(١٨) في [م]: (إما).
(١٩) ضعيف؛ لضعف إسماعيل بن عبد الملك، أخرجه الدارمي (١٧)، وابن عبد البر في التمهيد ١/ ٢٢٣، وعبد بن حميد (١٠٥٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٨، وابن عساكر ٤/ ٣٧٣، وبعضه مخرج عند الحاكم ١/ ٢٣٦ (٤٨٩)، وأبي داود (٢)، وابن ماجه (٣٣٥)، والبغوي (١٨٥)، وأبو نعيم في الدلائل (٢٥٤).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے نہ جاتے یہاں تک کہ اتنی دور چلے جائیں کہ نظر نہ آئیں، چناچہ ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی درخت یا ٹیلہ نہیں تھا، آپ نے فرمایا اے جابر! اپنے برتن میں پانی ڈالو، پھر ہمارے ساتھ چلو، کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم نظر نہیں آ رہے تھے، وہاں آپ کو دو درخت نظر آئے جن کے درمیان چار ہاتھ کا فاصلہ تھا، آپ نے فرمایا اے جابر! اس درخت کے پاس جاؤ اور اس کے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرما رہے ہیں کہ اپنے ساتھ والے درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھ سکوں، چناچہ وہ درخت دوسرے سے مل گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے بیٹھ گئے، پھر وہ اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ (٢) پھر ہم سوار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، چناچہ ہمارا ایک عورت سے سامنا ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اس بیٹے کو ہر روز کئی مرتبہ شیطان پکڑ لیتا ہے، آپ اس کے لئے ٹھہرے اور بچے کو لیا اور اس کو اپنے اور کجاوے کے اگلے حصّے کے درمیان رکھا، پھر فرمایا اے اللہ کے دشمن! دفع ہوجا، میں اللہ کا رسول ہوں، تین مرتبہ اس طرح فرمایا، پھر بچہ عورت کو دے دیا، جب ہم اس سفر سے واپس ہوئے تو ہم اس جگہ سے گزرے وہ عورت ہمارے سامنے آئی اور اس کے پاس دو مینڈھے تھے جن کو وہ ہانک رہی تھی، اس نے عرض کی یا رسول اللہ مجھ سے یہ قبول کر لیجیے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے وہ اس کے پاس دوبارہ نہیں آیا، آپ نے فرمایا اس سے ایک لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ (٣) فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے، اس طرح تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ فگن ہیں، اچانک ایک اونٹ دو قطاروں کے درمیان بھاگتا ہوا آیا اور سجدے میں گرگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اے لوگو! کون اس اونٹ کا مالک ہے؟ معلوم ہوا کہ انصار کے چند جوان ہیں، کہنے لگے یا رسول اللہ! یہ ہمارا ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کی کیا حالت ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ہم نے بیس سال اس سے پانی لگوایا ہے، اور اس میں کچھ چربی ہے اس لیے ہم اس کو ذبح کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلاموں میں اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ہم سے چھوٹ گیا، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس کو بیچتے ہو؟ وہ کہنے لگے نہیں، بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کو ہدیہ ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر بیچنا نہیں چاہتے تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں تک کہ اس کی موت آجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33916]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33916، ترقيم محمد عوامة 32413)
ترقیم عوامۃ: 32414 ترقیم الشثری: -- 33917
٣٣٩١٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن سليمان بن عمرو (ابن) (١) الاحوص عن امه ام جندب قالت: رايت رسول الله ﷺ (٢) رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر وهو على دابة، ثم انصرف وتبعته امراة من خثعم، ومعها صبي لها به بلاء، فقالت: يا رسول الله إن هذا ابني وبقية اهلي وإن به بلاء لا يتكلم، فقال رسول الله ﷺ:"ائتوني بشيء من ماء"، فاتي به فغسل يديه ومضمض فاه ثم اعطاها فقال:"اسقيه منه، وصبي عليه منه واستشفي الله له"، قالت: فلقيت المراة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا المبتلى، فلقيت المراة من الحول فسالتها عن الغلام فقالت: برا وعقل عقلا ليس كعقول الناس (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) مجهول؛ لجهالة سليمان بن عمرو بن الأحوص، أخرجه أحمد (١٦٠٨٨)، وأبو داود (١٩٦٦)، وابن ماجه (٣٠٢٨)، وابن سعد ٨/ ٣٠٦، وعبد بن حميد (١٥٦٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩١)، والطبراني ٢٥/ ٣٨٦، والبيهقي ٥/ ١٣٠.
حضرت امّ جندب فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو بطن الوادی سے جمرۃ العقبۃ کی رمی کی، جبکہ آپ سواری پر تھے، پھر آپ مڑے اور قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پیچھے ہوئی، اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا جس پر اثر تھا، کہنے لگی یا رسول اللہ! یہ میرا بیٹا اور میرا وارث ہے، اور اس کو ایک اثر ہے جس کی وجہ سے بولتا نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تھوڑا پانی لاؤ، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور اس کو پانی دے دیا، اور فرمایا کہ اس کو اس سے پلاؤ اور اس پر اس سے چھڑکو، اور اللہ سے اس کے لئے شفاء مانگو، کہتی ہیں کہ میں ایک عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تھوڑا سا پانی اس میں سے مجھے دے دیں تو کیسا ہے، وہ کہنے لگی کہ یہ تو اس آفت زدہ کے لئے ہے، پھر میں ایک سال کے بعد عورت سے ملی اور اس سے لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ صحت یاب ہوگیا اور ایسا عقل مند ہوگیا کہ عام لوگ اتنے عقل مند نہیں ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33917]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33917، ترقيم محمد عوامة 32414)
ترقیم عوامۃ: 32415 ترقیم الشثری: -- 33918
٣٣٩١٨ - حدثنا اسود بن عامر عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن الحسن بن سعد عن عبد الله بن جعفر قال: اردفني النبي ﷺ ذات ⦗٤٦٦⦘ يوم خلفه فاسر إلي حديثا لا احدثه احدا من الناس، وكان مما يعجبه - (يعني) (١) النبي ﷺ ان يستتر به لقضاء حاجته (هدف) (٢) او حائش نخل، فدخل يوما حائش نخل الانصار فراى فيه بعيرا، فلما رآه البعير خر وذرفت عيناه، قال: فمسح النبي ﷺ (٣) سراته وذفراه (٤) فسكن، فقال:"لمن هذا البعير؟"، او"من رب هذا البعير؟" قال: فقال الانصاري: انا يا رسول الله، فقال:"احسن إليه، فقد شكا إلي انك تجيعه وتدئبه" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، م]: (هدبٌ).
(٣) في [م]: ﵇.
(٤) سراة البعير: ظهره، وذفراه: مؤخر رأسه.
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٣٤٢)، وأحمد (١٧٤٥).
حضرت عبد اللہ بن جعفر فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی 5 نے مجھے اپنا ردیف بنایا اور مجھے رازداری سے ایک بات بتلائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا، اور آپ کو یہ پسند تھا کہ قضاء حاجت کے لئے آپ کو کوئی ٹیلہ یا کھجور کے درخت کا جھنڈ چھپالے، ایک مرتبہ آپ انصار کے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک اونٹ دیکھا، جب اونٹ نے آپ کو دیکھا تو گرگیا اور اس کی آنکھیں بہنے لگیں، چناچہ نبی 5 نے اس کی پیٹھ اور گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا، آپ نے فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے؟ یا فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ تو ایک انصاری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ یہ مجھے شکایت کر رہا ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور ہمیشہ کام میں لگا کر رکھتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33918]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33918، ترقيم محمد عوامة 32415)