🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32426 ترقیم الشثری: -- 33929
٣٣٩٢٩ - [حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة عن عكرمة قال: هو النبوة والخير الذي اعطاه الله] (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، هـ]
عمارہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عکرمہ فرماتے یں کہ اس سے مراد نبوت اور خیر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33929]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33929، ترقيم محمد عوامة 32426)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32427 ترقیم الشثری: -- 33930
٣٣٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن (فليت) (١) العامري عن جسرة عن ابي ذر قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يصلي ذات ليلة وهو يردد آية [حتى اصبح (يركع بها ويسجد بها) (٢) ﴿إن تعذبهم فإنهم عبادك﴾ [المائدة: ١١٨] ، قال: قلت: يا رسول الله ما زلت تردد هذه الآية] (٣) حتى (اصبحت) (٤) ، قال:"إني سالت ربي الشفاعة لامتي، وهي نائلة (لمن) (٥) (لا) (٦) يشرك بالله شيئا" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م]: (قليت)، وفي [هـ]: (قدامة).
(٢) في [جـ، م]: (بها يركع وبها يسجد).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) في [جـ، م]: (أصبح).
(٥) في [هـ]: (ممن).
(٦) في [م]: (لم).
(٧) حسن؛ جسرة صدوقة، أخرجه أحمد (٢١٣٢٨)، والنسائي ٢/ ١٧٧، وابن ماجه (١٣٥٠)، والحاكم ١/ ٢٤١، والبزار (٤٠٦١)، والخطيب في الموضح ١/ ٤٥٤، والبغوي (٩١٥)، والطحاوي ١/ ٣٤٧، والبيهقي ٣/ ١٤، والمزي ٢٣/ ٥٤٨.

حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز میں بار بار رکوع اور سجدے میں یہ آیت دہراتے ہوئے سنا {إنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُک } میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صبح تک اس آیت کو دہراتے رہے؟ فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا سوال کیا ہے، اور وہ ہر اس آدمی کو حاصل ہونے والی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33930، ترقيم محمد عوامة 32427)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32428 ترقیم الشثری: -- 33931
٣٣٩٣١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير قال: لما انزل الله (١) : ﴿تبت يدا ابي لهب وتب﴾ [المسد: ١] ، جاءت إمراة ابي لهب إلى النبي ﷺ (٢) ومعه ابو بكر فقال ابو بكر: يا نبي الله، إنها (ستؤذيك) (٣) فقال:"إنه سيحال بيني وبينها"، قال: فلم تره، فقالت لابي بكر: هجانا صاحبك، فقال: والله ما ينطق (بالشعر) (٤) ولا يقوله، فقالت: إنك لمصدق، قال: فاندفعت راجعة، فقال ابو بكر: يا رسول الله، ما راتك؟ قال: فقال:"لم يزل ملك بيني وبينها يسترني، حتى ذهبت" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [أ، ب]: (تعالى).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) في [هـ]: (امرأة بذيئة اللسان).
(٤) في [جـ، م]: (الشعر).
(٥) مرسل ضعيف؛ سعيد بن جبير، ورواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، وقد ورد من حديث سعيد بن جبير عن ابن عباس، أخرجه ابن حبان (٦٥١١)، والضياء ١٠/ (٢٩٢)، وأبو يعلى (٢٥)، والبزار (١٥)، والحميدي كما في المطالب العالية (٣٧٨٩)، وابن بشكوال في الأسماء المبهمة ١/ ١٩٠.

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } نازل فرمائی تو ابو لہب کی بیوی نبی 5 کے پاس آئی جبکہ آپ کے ساتھ ابوبکر تھے، حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ آپ کو تکلیف دے گی، آپ نے فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا، چناچہ آپ اس کو نظر نہ آئے، اس نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ آپ کے ساتھی نے ہمیں غصے میں مبتلا کردیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ بخدا وہ نہ تو شعر بنا سکتے ہیں نہ شعر کہتے ہیں، اس نے کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں، اس کے بعد وہ چلی گئی، حضرت ا بو بکر نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا؟ آپ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان رہا اور مجھے چھپاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ چلی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33931، ترقيم محمد عوامة 32428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32429 ترقیم الشثری: -- 33932
٣٣٩٣٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش (عن ابي صالح) (١) عن ابي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما مثلي ومثل النبيين كمثل رجل بنى دارا فاتمها إلا لبنة واحدة فجئت انا فاتممت تلك اللبنة" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت من: [م].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٨٦)، وأحمد (١١٠٦٧).

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور انبیاء کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے گھر بنایا ہو اور اس کو مکمل کردیا ہو اور ایک اینٹ چھوڑ دی ہو، میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33932، ترقيم محمد عوامة 32429)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32430 ترقیم الشثری: -- 33933
٣٣٩٣٣ - حدثنا عفان قال: ثنا (سليم) (١) بن حيان قال: ثنا سعيد بن ميناء عن جابر بن عبد الله عن النبي ﷺ قال:"مثلي ومثل الانبياء كمثل رجل بنى دارا فاتمها ⦗٤٧٣⦘ واكملها إلا موضع لبنة، فجعل الناس يدخلونها ويتعجبون منها ويقولون لولا موضع اللبنة"، قال رسول الله ﷺ (٢) :"فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبياء" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (سليمان).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٣٤)، ومسلم (٢٢٨٧).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میری اور انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے گھر بنایا ہو اور اس کو مکمل کردیا ہو سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے، چناچہ لوگ اس میں داخل ہوں اور اس پر تعجب کریں اور کہیں کہ اگر یہ اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی تو اچھا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اس اینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا اور میں نے انبیاء کو ختم کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33933، ترقيم محمد عوامة 32430)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32431 ترقیم الشثری: -- 33934
٣٣٩٣٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (حصين) (١) عن حبيب بن ابي ثابت قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ (٢) فقال: يا رسول الله، جئت من عند حي ما (يتروح) (٣) لهم راع، ولا يخطر لهم فحل، فادع الله لنا، فقال:"اللهم اسق (بلادك وبهائمك) (٤) وانشر رحمتك"، قال: ثم دعا فقال:"اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا مريعا طيبا غدقا عاجلا غير رائث، نافعا غير ضار"، قال": فما نزل حتى ما جاء احد من وجه من الوجوه إلا قال: مطرنا واحيينا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (حسين).
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) في [أ، ب]: (يتزوج)، وفي [هـ]: (يتزود).
(٤) في [هـ]: (بهائمك وبلادك).
(٥) مرسل؛ حبيب تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٤٩٠٧)، وقد ورد من طريق حبيب عن ابن عباس أخرجه أبو داود (١٢٧٠)، والضياء (٥١٠)، وأبو عوانة (٢٥١٦)، والطبراني (١٢٦٧٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ٤٣٣.

حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی 5 کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسے قبیلے سے آیا ہوں جن کا چرواہا آرام نہیں پاتا اور ان کے نر جانور اپنی دم نہیں ہلاتے، آپ ہمارے لیے دعا کریں، آپ نے فرمایا اے اللہ! اپنے شہروں اور جانوروں کو پانی سے سیراب کیجیے اور اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے، پھر آپ نے دعا کی ”اے اللہ! ہمیں خوب برسنے والی، سبزے والی، پاکیزگی والی اور موٹے قطروں والی جلدی آنے والی، نفع پہنچانے والی نہ کہ نقصان پہنچانے والی بارش عطا فرما۔“ چناچہ اتنی بارش برسی کہ جس طرف سے بھی کوئی آدمی آتا وہ کہتا کہ ہمارے علاقے میں بارش ہوئی اور زمین زندہ ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33934، ترقيم محمد عوامة 32431)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32432 ترقیم الشثری: -- 33935
٣٣٩٣٥ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن ايوب بن موسى يرفعه إلى النبي ﷺ (١) :"إني بعثت خاتما وفاتحا، (واختصر) (٢) لي الحديث اختصارا، فلا ⦗٤٧٤⦘ (يهلكنكم) (٣) (المشركون) (٤) " (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [أ، ب، هـ]: (فاختصر).
(٣) بياض في: [أ، ب، جـ، م].
(٤) في [هـ]: (المتهوكون).
(٥) مرسل، أيوب من تابعي التابعين، وورد نحوه من طريق أيوب عن أبي قلابة عن عمر أخرجه عبد الرزاق (١٠١٦٣) و (٢٠٠٦٢)، وأبو داود في المراسيل (٤٥٥).

حضرت ایوب بن موسیٰ نبی 5 سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ مجھے ختم کرنے والا اور شروع کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، اور میرے لیے بات کو مختصر کردیا گیا ہے، اس لئے تمہیں مشرکین ہلاک نہ کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33935، ترقيم محمد عوامة 32432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32433 ترقیم الشثری: -- 33936
٣٣٩٣٦ - حدثنا معاوية بن هشام عن هشام بن سعد عن زيد بن اسلم قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما بعثت لاتمم (صلاح) (١) الاخلاق" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صالح).
(٢) مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، وورد بنحوه مرفوعًا من حديث أبي هريرة عند أحمد (٨٩٥٢)، والحاكم ٢/ ٦١٣، والبخاري في الأدب المفرد (٢٧٣)، كما ورد من حديث جابر عند الطبراني (٦٨٩١)، والبيهقي في الشعب (٧٩٧٩).

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33936]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33936، ترقيم محمد عوامة 32433)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32434 ترقیم الشثری: -- 33937
٣٣٩٣٧ - حدثنا معاوية بن عمرو قال ثنا زائدة بن قدامة عن منصور عن مسلم (١) قال: قال اصحاب رسول الله ﷺ او من شاء الله منهم: يا رسول الله، ما (نولنا) (٢) ان نفارقك في الدنيا، فإنك لو مت رفعت فوقنا، فلم نرك فانزل الله: ﴿ومن يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا﴾ (٣) [النساء: ٦٩] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن مسروق).
(٢) في [هـ]: (ينبغي لنا).
(٣) مرسل، أبو الضحى مسلم من تابعي التابعين، وأخرجه ابن أبي حاتم (٥٥٧٧)، وابن جرير ٥/ ١٦٣، والواحدي في أسباب النزول ص ١٩٦، من حديث مسلم عن مسروق.

حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یا ان میں سے بعض نے کہا یا رسول اللہ! ہمارا آپ سے دنیا میں جدا ہونے کے بعد کیا ہوگا، کہ اگر آپ فوت ہوئے تو آپ بلند درجات پر پہنچ جائیں گے اور ہم آپ کو دیکھ نہ سکیں گے، چناچہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی { وَمَنْ یُطِعَ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33937]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33937، ترقيم محمد عوامة 32434)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32435 ترقیم الشثری: -- 33938
٣٣٩٣٨ - حدثنا معاوية بن عمرو قال: ثنا زائدة، عن بيان، عن حكيم بن جابر قال لما انزلت هذه الآية: ﴿آمن الرسول بما انزل إليه من ربه﴾ [البقرة: ٢٨٥] ، ⦗٤٧٥⦘ قال جبريل للنبي ﷺ (١) إن الله قد احسن الثناء عليك وعلى امتك سل تعطه، قال: فقرا النبي ﷺ (٢) هذه الآية حتى ختمها: ﴿لا يكلف الله نفسا إلا وسعها﴾ إلى آخر الآية (٣) [البقرة: ٢٨٦] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [م]: ﵇.
(٣) مرسل؛ حكيم بن جابر ليس من الصحابة، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (٣٠٧٠)، وابن جرير ٥/ ١٦٣، وسعيد بن منصور ٢/ (٤٧٨).

حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ } تو جبرئیل نے نبی 5 سے فرمایا کہ بیشک اللہ نے آپ کی اور آپ کی امت کی بہترین تعریف فرمائی ہے، آپ مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا، چناچہ نبی 5 نے یہ آیت آخر تک پڑھی، { لاَ یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفْسًا إلاَّ وُسْعَہَا } … الخ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33938]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33938، ترقيم محمد عوامة 32435)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں