مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32386 ترقیم الشثری: -- 33889
٣٣٨٨٩ - حدثنا محمد بن مصعب عن الاوزاعي عن الزهري عن ابي سلمة عن ابي هريرة ان النبي ﷺ قال:"انا سيد ولدم دم، وانا اول من تنشق عنه الارض، (وانا) (١) اول شافع واول مشفع" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، م].
(٢) مضطرب، اختلف فيه على محمد بن مصعب وعلى الأوزاعي، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (٧٩٢) من طريق المؤلف، وأخرجه أحمد (١٠٩٧٢)، والطبراني في الأوائل (٦) عن محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة، وورد الخبر بطرق عن الأوزاعي: (حدثني أبو عمار حدثني عبد اللَّه بن فروخ حدثني أبو هريرة)، أخرجه مسلم (٢٢٧٨)، وأبو داود (٤٦٧٣)، وورد عن الأوزاعي عن أبي عمار عن واثلة، أخرجه ابن حبان (٦٢٤٢).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھ سے زمین سب سے پہلے ہٹے گی، اور میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33889، ترقيم محمد عوامة 32386)
ترقیم عوامۃ: 32387 ترقیم الشثری: -- 33890
٣٣٨٩٠ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إن منبري هذا لعلى ترعة من ترع الجنة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، جـ، م].
(٢) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨١١)، والنسائي (٤٢٨٨)، وابن سعد ١/ ٢٥٣، والبيهقي ٥/ ٢٤٧، والطبراني في الأوسط (٩١١٧)، والصغير (١١١٠)، والبخاري في التاريخ ٨/ ٣٢٦، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٣٠٧، والدارقطني في العلل ١٠/ ٢٧٥.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ منبر امید ہے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33890، ترقيم محمد عوامة 32387)
ترقیم عوامۃ: 32388 ترقیم الشثری: -- 33891
٣٣٨٩١ - حدثنا ابو اسامة قال: سمعت هشاما قال: ثنا الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"انا سابق العرب" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٤٣٢)، وابن سعد ١/ ٢١، وأحمد في فضائل الصحابة (١٧٣٧).
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں عرب میں سب سے سبقت کرنے والا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33891، ترقيم محمد عوامة 32388)
ترقیم عوامۃ: 32389 ترقیم الشثری: -- 33892
٣٣٨٩٢ - حدثنا محمد بن مصعب عن الاوزاعي عن ابي عمار عن واثلة بن الاسقع قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله اصطفى من ولد إبراهيم ⦗٤٥١⦘ (إسماعيل) (١) ، واصطفى من بني إسماعيل بني كنانة، واصطفى من بني كنانة قريشا، واصطفى من قريش بني هاشم، واصطفاني من بني هاشم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه مسلم (٢٢٧٦)، وأحمد (١٦٩٨٧).
حضرت واثلہ بن اسقع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کو اور قریش سے بنی ہاشم کو اور مجھے بنو ہاشم سے چن لیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33892، ترقيم محمد عوامة 32389)
ترقیم عوامۃ: 32390 ترقیم الشثری: -- 33893
٣٣٨٩٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن انس قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ وهو جالس حزين قد ضربه بعض اهل مكة، قال: فقال: مالك؟ قال:"فعل بي هولاء وهولاء"، قال: اتحب ان اريك آية، قال:"نعم"، فنظر إلى شجرة من وراء الوادي فقال: ادع تلك الشجرة، فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه ثم قال لها:"ارجعي"، فرجعت حتى عادت إلى مكانها فقال النبي ﷺ (١) :"حسبي، حسبي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٢١٣٣)، وابن ماجه (٤٠٢٨)، وأبو يعلى (٣٦٨٥)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٠٧، والضياء في المختارة ٦/ ٢١٥ (٢٢٢٧)، وابن عساكر ٤/ ٣٦٥، والبيهقي في الدلائل ٢/ ١٥٤.
ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرئیل نبی 5 کے پاس آئے جبکہ آپ غمگین بیٹھے تھے، آپ کو بعض اہل مکہ نے مارا تھا، انہوں نے کہا آپ کو کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ ان ان لوگوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے، انہوں نے عرض کیا کیا آپ یہ بات پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ پس انہوں نے وادی کے پیچھے دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیں، آپ نے اس کو بلایا تو وہ چلتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ واپس چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا، نبی 5 نے فرمایا کہ مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33893، ترقيم محمد عوامة 32390)
ترقیم عوامۃ: 32391 ترقیم الشثری: -- 33894
٣٣٨٩٤ - حدثنا قراد (ابو) (١) نوح قال: ثنا يونس بن ابي إسحاق عن ابي (بكر) (٢) (بن) (٣) ابي موسى عن ابيه قال: خرج ابو طالب إلى الشام وخرج معه رسول الله ﷺ واشياخ من قريش، فلما اشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، فخرج إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون (٤) فلا يخرج إليهم ولا يلتفت ⦗٤٥٢⦘ (إليهم) (٥) ، (فهم) (٦) يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فاخذ بيد رسول الله ﷺ فقال: هذا سيد العالمين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) الله رحمة للعالمين، فقال (له) (٨) اشياخ من قريش: ما علمك؟ فقال: إنكم حين اشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا ولا (يسجدون) (٩) إلا لنبي (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عن).
(٢) في [جـ، م]: (زكريا).
(٣) في [جـ، ط]: (عن).
(٤) في [هـ]: زيادة (به).
(٥) سقط من: [م]، وفي [هـ]: زيادة (قال).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٧) في [أ، ب]: (بعثه).
(٨) سقط من: [أ، ب، م].
(٩) في [س، هـ]: (يسجد).
(١٠) معلول، فيه أوهام، أخرجه الترمذي (٣٦٢٠)، والحاكم ٢/ ٦١٥، والبزار (٣٠٩٦)، وابن حبان في الثقات ١/ ٤٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٤، وأبو نعيم في دلائل النبوة (١٩)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٢٥٢، وابن عساكر ٣/ ٤، وانظر: تاريخ الإسلام للذهبي ١/ ٥٥ والإصابة ١/ ٣٥٢.
ابوبکر بن ابی موسیٰ راوی ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے اور قریش کے کچھ بزرگ بھی، جب وہ راہب کے قریب پہنچے، تو اپنے کجاوے کھولے، راہب ان کے پاس گیا اور اس سے پہلے وہ اس کے پاس سے گزرتے تو نہ وہ نکل کر ان کے پاس آتا نہ ان کی طرف متوجہ ہوتا، چناچہ وہ اپنے کجاوے کھول رہے تھے اور وہ ان کے درمیان سے ہوتا ہوا آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا کہ یہ جہانوں کا سردار ہے، یہ رب العالمین کا رسول ہے، اس کو اللہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجیں گے، قریش کے بزرگوں نے اس سے کہا کہ آپ کو کیسے علم ہے؟ اس نے کہا کہ تم گھاٹی سے جب چڑھے ہو تو کوئی پتھر اور درخت ایسا نہیں تھا جو سجدے میں نہ گرگیا ہو، اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33894، ترقيم محمد عوامة 32391)
ترقیم عوامۃ: 32392 ترقیم الشثری: -- 33895
٣٣٨٩٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عمار عن ابي سلمة (عن ام سلمة) (١) عن النبي ﷺ قال:"إن قوائم منبري (رواتب) (٢) في الجنة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (رأيته)، وفي [جـ]: (ثابتة).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٦٤٧٦)، والنسائي ٢/ ٣٥، والطحاوي في شرح المشكل (٢٨٧٢)، والحميدي (٢٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٤٨، والطبراني ٢٣/ (٥٢٠)، والإسماعيلي ٢/ ٦٦٥.
حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33895]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33895، ترقيم محمد عوامة 32392)
ترقیم عوامۃ: 32393 ترقیم الشثری: -- 33896
٣٣٨٩٦ - حدثنا هشيم قال: اخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"اوتيت جوامع الكلم وفواتحه ⦗٤٥٣⦘ (و) (١) خواتمه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، أخرجه أبو يعلى (٧٢٣٨)، وأصله في صحيح مسلم (١٧٣٣).
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جامع کلمات اور ابتداء کرنے والے اور انتہاء کرنے والے کلمات عطا کیے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33896]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33896، ترقيم محمد عوامة 32393)
ترقیم عوامۃ: 32394 ترقیم الشثری: -- 33897
٣٣٨٩٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (شمر) (١) قال صلى رسول الله ﷺ ذات يوم فجاءت الذئاب فعوت خلفه، فلما انصرف رسول الله ﷺ قال: هذه الذئاب اتت (تخبركم) (٢) ان تقسموا لها من اموالكم ما يصلحها او تخلوها فتغير عليكم قالوا: دعها (فلتغر) (٣) علينا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سمرة).
(٢) في [ب]: (يخبركم).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (فلتغير).
(٤) مرسل؛ شمر تابعي، وورد من حديث شمر عن رجل من مزينة أو جهينة أخرجه الدارمي (٢٢)، وأحمد بن منيع كما في المطالب (٣٨٢٠)، وأبو نعيم كما في البداية والنهاية ٦/ ١٤٦.
شمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی تو بھیڑیے آپ کے پیچھے آ کر بھونکنے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ یہ بھیڑیے تمہارے پاس یہ بتانے آئیں ہیں کہ تم اپنے مالوں میں سے ان کے لئے کچھ تیار کر کے دے دیا کرو، ورنہ تم اس بات کے لئے تیار رہو کہ یہ تم پر حملہ آور ہوجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33897]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33897، ترقيم محمد عوامة 32394)
ترقیم عوامۃ: 32395 ترقیم الشثری: -- 33898
٣٣٨٩٨ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن انس قال: سئل: هل كان رسول الله ﷺ يرفع يديه؟ قال: نعم، شكا الناس (١) ذات جمعة فقالوا: يا رسول الله قحط المطر، واجدبت الارض، وهلك المال، قال: فرفع يديه حتى رايت (٢) إبطيه، وما في السماء قزعة سحاب، فما صلينا حتى ان الشاب القوي القريب المنزل ليهمه الرجوع إلى منزله، (قال) (٣) : فدامت (٤) جمعة، قال: فقالوا: يا رسول الله، ⦗٤٥٤⦘ تهدمت الدور واحتبست الركبان، قال: فتبسم رسول الله ﷺ (٥) من سرعة ملالة ابن آدم فقال:"اللهم حوالينا (٦) لا علينا"، قال: فاصحت السماء (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (إليه).
(٢) في [هـ]: زيادة (بياض).
(٣) في [م]: (فقال).
(٤) في [هـ]: زيادة (علينا).
(٥) في [م]: ﵇.
(٦) في [أ، ب، م]: زيادة (و).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠١٣)، ومسلم (٨٩٧).
حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس سے سوال پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! ایک جمعہ لوگوں نے شکایت کی اور کہا یا رسول اللہ! بارش کا قحط ہوگیا ہے اور زمین خشک ہوگئی اور مال ہلاک ہوگیا ہے، آپ نے اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغل دیکھے، اور اس وقت آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں تھا، ہم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی کہ جوان مضبوط جسم کے آدمی کو بھی گھر پہنچنے کی فکر لگی ہوئی تھی، کہتے ہیں کہ ایک جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، پھر لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! گھر گرگئے اور سوار محبوس ہوگئے، راوی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کے اتنی جلدی اکتا جانے پر مسکرائے، اور فرمایا اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسائیے اور ہم پر نہ برسائیے، کہتے ہیں کہ اس پر آسمان صاف ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33898]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33898، ترقيم محمد عوامة 32395)