مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ما أعطه الله سليمان بن داود ﵇
وہ فضیلتیں جو اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں
ترقیم عوامۃ: 32511 ترقیم الشثری: -- 34014
٣٤٠١٤ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا عوف عن الحسن قال: لما سخرت الريح لسليمان بن داود ﵇ (١) (كان) (٢) يغدو من بيت المقدس فيقيل (بقريرا) (٣) ثم يروح فيبيت في (كابل) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [م]: (قال).
(٣) في [م]: (بفزيرا)، وانظر: الدر المنثور ٦/ ٦٧٧، وتفسير ابن أبي حاتم (١٧٨٧٧).
(٤) في [أ، ب]: (كامل).
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخّر کیا گیا تو وہ صبح بیت المقدس سے نکلتے اور دوپہر کو فزیرا میں قیلولہ فرماتے تھے، اور پھر شام کو چلتے تو کابل میں رات گزارتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34014]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34014، ترقيم محمد عوامة 32511)
ترقیم عوامۃ: 32512 ترقیم الشثری: -- 34015
٣٤٠١٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ضرار بن مرة عن سعيد بن جبير قال: كان سليمان يوضع له ستمائة الف كرسي.
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34015]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34015، ترقيم محمد عوامة 32512)
ترقیم عوامۃ: 32513 ترقیم الشثری: -- 34016
٣٤٠١٦ - حدثنا ابو معاوية قال: ثنا الاعمش عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان (سليمان بن) (١) داود ﵇ (٢) يوضع له ستمائة الف كرسي، ثم (يجيء) (٣) اشراف الإنس حتى يجلسوا مما يلي الايمن، ثم ⦗٥٠٨⦘ (يجيء) (٤) اشراف الجن حتى يجلسوا مما يلي الايسر، ثم يدعو الطير فتظلهم، ثم يدعو الريح فتحملهم، فيسير في الغداة الواحدة مسيرة شهر، فبينما هو ذات يوم يسير في فلاة من الارض فاحتاج إلى الماء، فدعا الهدهد فجاء فنقر الارض فاصاب موضع الماء، ثم تجيء الشياطين ذلك الماء فتسلخه كما يسلخ الإهاب فيستخرجوا الماء منه. قال: فقال له نافع بن الازرق: قف (يا وقاف) (٥) ارايت قولك: الهدهد يجيء فينقر الارض فيصيب موضع الماء، كيف يبصر هذا ولا يبصر الفخ يجيء إليه حتى يقع في عنقه، فقال له ابن عباس: ويحك إن القدر حال دون البصر (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) سقط من: [م].
(٣) في [أ، ب]: (تجيء).
(٤) في [أ، ب]: (تجيء).
(٥) في [أ]: (بأوقاف).
(٦) صحيح؛ المنهال ثقة، أخرجه الحاكم ٢/ ٥٨٩، والضياء ١٠/ ٤٠٩.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لیے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں، پھر انسانوں میں سے شرفاء آتے اور دائیں جانب بیٹھ جاتے، اور پھر جنوں کے شرفاء آتے اور بائیں جانب بیٹھ جاتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے اور وہ ان پر سایہ کرتے، پھر ہوا کو بلاتے اور وہ ان کو اٹھاتی، اور آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت قطع کرتے، ایک دن آپ اسی طرح ایک میدان میں جارہے تھے کہ آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی، آپ نے ہد ہد کو بلایا، وہ آیا اور اس نے زمین میں چونچ ماری اور پانی کی جگہ بتلائی، پھر اس جگہ شیاطین آئے اور انہوں نے اس جگہ کو اس طرح کھودا جس طرح بکری کی کھال اتاری جاتی ہے اور انہوں نے اس جگہ سے پانی نکالا۔ کہتے ہیں کہ اس پر نافع بن ازرق نے کہا اے ٹھہرنے والے ٹھہر جائیے، آپ کہتے ہیں کہ ہدہد نے آ کر زمین میں پانی کی جگہ چونچ ماری، اس کو یہ کیسے نظر آتا ہے جبکہ اس کو جال بھی نظر نہیں آتا جو آ کر اس کی گردن میں پڑجاتا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارا ناس ہو، تقدیر آنکھوں کے سامنے حائل ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34016]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34016، ترقيم محمد عوامة 32513)
ترقیم عوامۃ: 32514 ترقیم الشثری: -- 34017
٣٤٠١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن عبد الله بن شداد قال: كان كرسي سليمان يوضع على الريح وكراسي من اراد من الجن والإنس، فاحتاج إلى الماء فلم يعلموا بمكانه، وتفقد الطير عند ذلك فلم يجد الهدهد فتوعده، وكان عذابه نتفه وتشميسه، قال: فلما جاء استقبله الطير فقالوا: (قد توعدك) (١) سليمان، فقال الهدهد: (٢) استثنى، قالوا: نعم، الا ان (يجيء) (٣) بعذر، وكان عذره ان جاء بخبر صاحبة سبا قال: فكتب إليهم (٤) سليمان: ﴿ (٥) بسم الله الرحمن الرحيم (٣٠) الا تعلوا ⦗٥٠٩⦘ علي واتوني مسلمين﴾، قال: فاقبلت بلقيس، فلما كانت على قدر فرسخ قال سليمان: ﴿ايكم ياتيني بعرشها قبل ان ياتوني مسلمين﴾ قال عفريت من الجن: ﴿انا آتيك به قبل ان تقوم من مقامك وإني عليه لقوي امين﴾ قال: فقال: (سليمان) (٦) اريد اعجل من ذلك، (قال) (٧) الذي عنده علم من الكتاب: ﴿انا آتيك به قبل ان يرتد إليك طرفك﴾ [النمل: ٣٠ - ٣١، ٣٨، ٣٩، ٤٠] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قد ترعدك).
(٢) في [هـ]: زيادة (هل).
(٣) في [م]: (تجيء).
(٤) في [أ، هـ]: زيادة (أنه من).
(٥) في [أ، ب]: (وإنه).
(٦) سقط من: [أ، هـ].
(٧) في [هـ]: (فقال).
حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی ہوا پر رکھی جاتی اور اس کے ساتھ جن جنات اور انسانوں کو آپ چاہتے ان کی کرسیاں رکھی جاتیں، آپ کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن لوگوں کو اس کا علم نہ تھا، چناچہ آپ نے اس وقت پرندوں کو تلاش کیا تو ہد ہد کو نہ پایا، آپ نے اس کو دھمکی دی، اور ا س کی سزا یہ تھی کہ اس کے پر اکھیڑ کر اس کو دھوپ میں رکھا جائے، جب وہ آیا تو پرندوں نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمہارے لیے سزا کا اعلان کیا ہے، ہدہد نے کہا کیا انہوں نے کوئی استثناء کیا ہے؟ وہ کہنے لگے جی ہاں! یہ کہ آپ کوئی عذر بیان کریں، اور اس کا عذر یہ تھا کہ وہ ملکۂ سبا کا قصہ دیکھ کر آیا تھا، چناچہ سلیمان علیہ السلام نے ان کو لکھا {إِنَّہُ مِن سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، أَلاَّ تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِی مُسْلِمِینَ } کہتے ہیں کہ بلقیس چلی، جب وہ ایک فرسخ کی مسافت پر تھی تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا { أَیُّکُمْ یَأْتِینِی بِعَرْشِہَا قَبْلَ أَن یَأْتُونِی مُسْلِمِینَ، قَالَ عِفْریتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّی عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ أَمِینٌ} حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، { قَالَ الَّذِی عِندَہُ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ }، کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ زمین کے نیچے ایک سرنگ میں داخل ہوئے اور اس کو لے آئے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس کو تبدیل کردو۔ { قِیلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّۃً وَکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا } چناچہ دیکھا وہ بہت بال والی عورت تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو کیا چیز ختم کرے گی؟ لوگوں نے کہا چونا چناچہ اس وقت چونے کا استعمال ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34017، ترقيم محمد عوامة 32514)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34018
٣٤٠١٨ - قال: فاخبرني منصور عن مجاهد انه دخل في نفق تحت الارض (فجاءه) (١) به، قال سليمان: غيروه، فلما جاءت قيل (٢) : (اهكذا) (٣) عرشك؟ قال: فجعلت تعرف وتنكر، وعجبت من سرعته، وقالت: كانه (هو) (٤) ، قيل لها: ادخلي الصرح، فلما راته حسبته لجة، وكشفت عن ساقيها فإذا امراة شعراء، قال: فقال سليمان: ما يذهب هذا؟ قالوا: النورة، قال: فجعلت النورة يومئذ.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (فجاء).
(٢) في [هـ]: زيادة (لها).
(٣) في [هـ]: (هكذا).
(٤) في [جـ]: (هي).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34018، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 32515 ترقیم الشثری: -- 34019
٣٤٠١٩ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم قال سمعت مجاهدا يقول لما قال: ﴿انا آتيك به قبل ان تقوم من مقامك﴾ هذا، قال: انا اريد اعجل من هذا؟ قال الذي عنده علم من الكتاب: ﴿انا آتيك به قبل ان يرتد إليك طرفك﴾، قال: فخرج العرش في نفق من الارض.
مجاہد فرماتے ہیں کہ جب جن نے کہا { أَنَا آتِیک بِہِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِک } تو انہوں نے کہا کہ میں ا س سے زیادہ جلدی چاہتا ہوں، چناچہ { قَالَ الَّذِی عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِیک بِہِ قَبْلَ أَنْ یَرْتَدَّ إلَیْک طَرْفُک } کہتے ہیں کہ اس کا تخت زمین کی سرنگ سے نکل آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34019، ترقيم محمد عوامة 32515)
ترقیم عوامۃ: 32516 ترقیم الشثری: -- 34020
٣٤٠٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء عن (مجاهد) (١) عن ابن عباس: ﴿قبل ان تقوم من مقامك﴾، قال: مجلس الرجل الذي يجلس فيه حتى يخرج من عنده (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (سعيد بن جبير).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٦٣٦٩).
مجاہد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان { قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِک } کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی کی وہ مجلس جس میں وہ بیٹھے یہاں تک کہ حاضرین اٹھ جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34020]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34020، ترقيم محمد عوامة 32516)
ترقیم عوامۃ: 32517 ترقیم الشثری: -- 34021
٣٤٠٢١ - حدثنا وكيع عن ثابت (بن) (١) عمارة عن عبد الله بن (معبد) (٢) (الزماني) (٣) قال لم تنزل: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ في شيء من القرآن إلا في سورة النمل: ﴿إنه من سليمان وإنه بسم الله الرحمن الرحيم﴾.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عن).
(٢) في [ط]: (سعيد).
(٣) سقط من: [س].
عبد اللہ بن معبد زِمّانی فرماتے ہیں کہ { بسم اللہ الرَّحْمَن الرحیم } سور ۃ النمل کے علاوہ قرآن پاک میں کسی جگہ نازل نہیں ہوئی، ارشاد فرمایا {إِنَّہُ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہُ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34021]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34021، ترقيم محمد عوامة 32517)
ترقیم عوامۃ: 32518 ترقیم الشثری: -- 34022
٣٤٠٢٢ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل بن ابي خالد عن سعيد بن جبير: ﴿قبل ان يرتد إليك طرفك﴾، قال رفع طرفه فلم يرجع إليه (طرفه) (١) حتى نظر إلى العرش بين يديه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، م]: (طرقة).
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ { قَبْلَ أَنْ یَرْتَدَّ إلَیْک طَرْفُک } کی تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نظر اوپر اٹھائی، ابھی نیچے ان کی نظر نہیں پہنچی تھی کہ انہوں نے تخت کو اپنے سامنے دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34022]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34022، ترقيم محمد عوامة 32518)
ترقیم عوامۃ: 32519 ترقیم الشثری: -- 34023
٣٤٠٢٣ - حدثنا ابو اسامة عن إسماعيل عن ابي صالح ﴿وإني مرسلة إليهم بهدية﴾ [النمل: ٣٥] ، قال: كانت هديتها لبنة من ذهب.
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ { وَإِنِّی مُرْسِلَۃٌ إلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ } کی تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے سونے کی اینٹیں ہدیہ کی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34023، ترقيم محمد عوامة 32519)