مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
31. ما ذكر في خالد بن الوليد ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہیں
ترقیم عوامۃ: 32928 ترقیم الشثری: -- 34437
٣٤٤٣٧ - حدثنا ابن فضيل عن (كان) (١) عن قيس قال: كان بين خالد بن الوليد وبين رجل من اصحاب النبي ﷺ محاورة، فقال رسول الله ﷺ:"ما لكم ولسيف من سيوف الله سله الله على الكفار" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (نيار).
(٢) مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي، أخرجه أبو يعلى (٧١٨٨)، وابن سعد ٧/ ٣٩٥، وأحمد في فضائل الصحابة (١٤٧٩)، وابن عساكر ١٦/ ٢٤٣.
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں کسی ایک کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہوا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کے بارے میں جس کو اللہ نے کفار پر سونتا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34437]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34437، ترقيم محمد عوامة 32928)
ترقیم عوامۃ: 32929 ترقیم الشثری: -- 34438
٣٤٤٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابو معشر عن سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريرة قال: هبطت مع رسول الله ﷺ من (ثنية) (١) هوشاء فانقطع شسعه فناولته نعلي فابى ان يقبلها وجلس في ظل شجرة (ليصلح) (٢) نعله فقال لي:"انظر (٣) من ترى؟"، قلت: هذا فلان بن فلان، قال:"بئس عبد الله فلان"، ثم قال (لي) (٤) :"انظر إلى من ترى؟" قلت: هذا فلان، قال:"نعم عبد الله فلان"، والذي قال (٥) : نعم عبد الله فلان خالد بن الوليد (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بيته).
(٢) في [أ، ب]: (يصلح).
(٣) في [هـ]: زيادة (إلى).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: زيادة (له).
(٦) ضعيف؛ لضعف أبي معشر، وأخرج بعضه أحمد (٨٧٢٠)، والترمذي (٣٨٤٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٩٣).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سخت گھاٹی میں اتر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتا کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ میں نے اپنا جوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور درخت کے سائے میں بیٹھ گئے تاکہ اپنا جوتا صحیح کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: تم کس کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: فلاں بن فلاں کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اللہ کا بندہ بُرا ہے۔ پھر مجھ سے فرمایا: تم کس کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: یہ فلاں شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اللہ کا بندہ بہت اچھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: کہ فلاں اللہ کا بندہ بہت اچھا ہے۔ یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34438]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34438، ترقيم محمد عوامة 32929)
ترقیم عوامۃ: 32930 ترقیم الشثری: -- 34439
٣٤٤٣٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير قال: بعث عمر ابا عبيدة على الشام وعزل خالد بن الوليد فقال خالد بن الوليد: بعث عليكم ⦗١٢١⦘ امين هذه الامة، قال ابو عبيدة: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"خالد (١) سيف من سيوف الله ونعم فتى العشيرة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بن الوليد).
(٢) منقطع؛ عبد الملك بن عمير لم يدرك أبا عبيدة، أخرجه أحمد (١٦٨٢٣).
حضرت عبد الملک بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام والوں پر امیر بنا کر بھیجا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کردیا۔ اس پر حضرت خالد بن ولید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں پر اس امت کے امین شخص کو امیر بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۔ اور قبیلہ کے سب سے اچھے جوان ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34439]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34439، ترقيم محمد عوامة 32930)