صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب كِرَاءِ الأَرْضِ:
باب: زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3935
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حدثنا، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ، فَزَعَمَ رَافِعٌ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ".
حماد بن زید نے ہمیں عمرو (بن دینار) سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ وہ پہلا سال آیا جس میں (یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3935]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم مخابرہ میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت کا پہلا سال آ گیا، تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3935]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3936
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ.
سفیان (بن عیینہ)، ایوب اور سفیان (ثوری) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: تو ہم نے ان (رافع رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے (احتیاطاً) اسے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3936]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی سندوں سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ان کے شاگرد ابن عیینہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”ہم نے ان کے خیال کا لحاظ کر کے مخابرہ کو ترک کر دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3936]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3937
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا ".
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3937]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رافع نے ہمیں ہماری زمین کے نفع سے محروم کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3937]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3938
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ "، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ، وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا.
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتیٰ کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3938]
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بٹائی پر دیا کرتے تھے، حتیٰ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت نقل کرتے ہیں، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا اور ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھیتوں کے کرایہ سے منع کرتے تھے۔“ بعد میں جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا تو جواب دیتے: ”رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3939
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا.
حماد بن زید اور اسماعیل (ابن علیہ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، کہا: اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے (اپنی زمین کو) کرائے پر نہیں دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3939]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، ابن علیہ (اسماعیل) کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس معاملے کو چھوڑ دیا، اور وہ زمین بٹائی پر نہیں دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3940
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ، فَأَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ".
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک کہ وہ ان کے پاس بلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں (ابن عمر رضی اللہ عنہما کو) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3940]
نافع بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ انہیں مسجد نبوی کے پاس فرش (بلاط) پر ملے، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3940]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3941
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔۔ پھر (ان کے حوالے سے) یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3941]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو انہوں نے انہیں مذکورہ بالا حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3941]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3942
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَأْجُرُ الْأَرْضَ، قَالَ: فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ عَنْ بَعْضُ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ: فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَلَمْ يَأْجُرْهُ.
حسین بن حسن بن یسار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عون نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین کو اجرت پر دیتے تھے، کہا: انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بتائی گئی، کہا: وہ میرے ساتھ ان کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنے بعض چچاؤں سے بیان کیا، انہوں نے اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ کہا: تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے چھوڑ دیا اور زمین اجرت پر نہ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3942]
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما زمین بٹائی پر دیتے تھے، تو انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سنائی گئی۔ وہ مجھے لے کر ان کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنے کسی چچا سے حدیث سنائی، جس میں یہ بیان تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کے کرایہ سے منع فرمایا“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3942]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3943
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ابن عون نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: انہوں نے اپنے بعض چچاؤں کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3943]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے معمولی لفظی فرق کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3943]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1547 ترقیم شاملہ: -- 3944
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يُكْرِي أَرَضِيهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ، مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ.
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینیں کرائے پر دیتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا: ابن خدیج! آپ زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا اور وہ دونوں بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بخوبی جانتا تھا کہ زمین کرائے پر دی جاتی تھی۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما کو خوف ہوا کہ (ممکن ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہوا ہو، لہذا انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3944]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے والد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے، حتیٰ کہ انہیں پتہ چلا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین بٹائی پر دینے سے منع کرتے ہیں۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہما ان سے ملے اور پوچھا، اے ابن خدیج! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کی بٹائی کے بارے میں کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہما کو جواب دیا، میں نے جنگ بدر میں شرکت کرنے والے اپنے دو چچوں سے سنا، وہ محلہ والوں کو بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اچھی طرح علم تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی ہے، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہو سکا ہو، اس لیے انہوں نے زمین بٹائی پر دینی چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3944]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1547
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة