🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

146. سهم ذوي القربى لمن هو؟
ذوی القربی کا حصہ کس کیلئے ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34133 ترقیم الشثری: -- 35692
٣٥٦٩٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن جبير بن مطعم قال: قسم رسول الله ﷺ سهم ذوي القربى على بني هاشم وبني المطلب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ صرح ابن إسحاق بالسماع، وابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد ٤/ ٨١ (١٦٧٨٧)، وأبو داود (٢٩٨٠)، والنسائي (٤٤٣٩)، وابن جرير في التفسير ١٠/ ٦، والشافعي في الأم ٤/ ١٤٦، والبزار (٣٤٠٣)، وأبو يعلى (٧٣٩٩)، والبيهقي ٦/ ٣٤١، والطبراني (١٥٩١)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٦٥، وابن شبه (١٠٥٤)، والطحاوي ٣/ ٢٣٥، والمروزي في السنة (١٥٨)، وأصله عند البخاري (٤٢٢٩).
حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربیٰ کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35692، ترقيم محمد عوامة 34133)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34134 ترقیم الشثری: -- 35693
٣٥٦٩٣ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: ثنا هاشم بن (بريد) (١) قال: حدثني حسين بن ميمون عن عبد الله بن عبد الله عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: سمعت عليا يقول: قلت: يا رسول الله إن رايت ان (توليني) (٢) حقنا من الخمس في كتاب الله، فاقسمه حياتك كي لا ينازعنيه احد بعدك، قال: (نفعل) (٣) ذلك، قال: فولانيه رسول الله ﷺ فقسمته حياة رسول الله ﷺ، ثم ولانيه ابو بكر، فقسمته حياة ابي بكر، ثم ولانيه عمر، فقسمته حياة عمر، حتى كانت آخر سنة من (٤) سني عمر، فاتاه مال كثير فعزل حقنا، ثم ارسل إلي فقال: هذا حقكم فخذه فاقسمه حيث كنت تقسمه، فقلت: يا امير المؤمنين، بنا عنه العام غنى وبالمسلمين إليه حاجة، فرده (عليه) (٥) تلك السنة، ثم لم يدعنا إليه احد بعد عمر، حتى قمت مقامي هذا، فلقيت العباس بعد ما خرجت من عند عمر فقال: يا علي، لقد حرمتنا الغداة شيئا لا يرد علينا ابدا إلى يوم القيامة، وكان رجلا (داهيا) (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يزيد).
(٢) في [أ، ب، جـ، هـ]: (تولينا).
(٣) في [هـ]: (ففعل).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (آخر).
(٥) في [هـ]: (عليهم).
(٦) في [أ، ب]: (داهنًا).
(٧) مجهول؛ لجهالة حسين بن ميمون، أخرجه أحمد (٦٤٦)، وأبو داود (٢٩٨٤)، والحاكم ٢/ ١٢٨، والبيهقي ٦/ ٣٤٣، وأبو يعلى (٣٦٤)، والبزار (٦٢٦)، وابن زنجويه (١٢٤٥)، والعقيلي ١/ ٢٥٣، والمزي ٦/ ٤٩٠، وابن شبه (١٠٥٧).

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اللہ کے خمس میں سے جو ہمارا حصہ ہے اس کا مجھے ولی بنادیں تاکہ میں آپ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کر دوں، تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا ولی بنادیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اس کو تقسیم کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا آخری سال آگیا، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا انہوں نے ہمارا حق الگ کر کے میری طرف ارسال کردیا اور فرمایا یہ تمہارا حق ہے یہ لے لو اور جہاں تقسیم کرنا چاہو تقسیم کرلو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ہم اس سے مستغنی ہیں جب کہ مسلمانوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے، پس اس سال ان کو وہ واپس کردیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی نے ہمیں اس کی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ میں اس مقام پر کھڑا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلنے کے بعد میری حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: اے علی رضی اللہ عنہ آپ نے صبح ہمیں ایک چیز سے (حق سے) محروم کردیا اب قیامت تک ہمیں نہیں دیا جائے گا۔ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ عمدہ رائے والے شخص تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35693، ترقيم محمد عوامة 34134)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34135 ترقیم الشثری: -- 35694
٣٥٦٩٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد ابن علي عن يزيد بن هرمز: ان نجدة كتب إلى ابن عباس يساله عن سهم ⦗٤٧٠⦘ ذوي القربى لمن هو؟ فكتب: كتبت تسالني عن سهم ذوي القربى لمن هو؟ فهو لنا، قال: إن عمر ابن الخطاب دعانا إلى ان تنكح منه (ايمنا) (١) ، (ونخدم) (٢) منه عائلنا، ونقضي منه عن غارمنا، فابينا ذلك إلا ان يسلمه لنا جميعا فابى ان يفعل فتركناه عليه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (منا).
(٢) في [أ، ب]: (ونحرم).
(٣) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بالسماع عند ابن شبه (١٠٦٠)، وأخرجه النسائي (٤٤٣٦)، وأبو يعلى (٢٥٥٠)، والطحاوي ٣/ ٢٣٥، وأبو عوانة (٦٨٩٧)، وابن شبه (١٠٥٩)، وأصل الحديث عند مسلم (١٨١٢)، وأبي داود (٢٩٨٢).

حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تحریر فرمایا آپ نے مجھے لکھ کر دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے؟ وہ حصہ ہمارے لیے ہے، پھر فرمایا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس بات کی دعوت دی کہ ہم اس کے ساتھ اپنی بےنکاحی عورتوں کا نکاح کریں اور اس سے ہمارے خاندان کی خدمت کی جائے اور ہمارے قرض خواہوں کو ادائیگی کی جائے ہم نے اس سے انکار کردیا مگر یہ کہ وہ سب کا سب ہمیں ہی دیا جائے انہوں نے اس طرح کرنے سے انکار کردیا پس ہم نے ان کیلئے اس کو چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35694، ترقيم محمد عوامة 34135)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34136 ترقیم الشثری: -- 35695
٣٥٦٩٥ - حدثنا وكيع (قال: ثنا) (١) سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد ابن الحنفية قال: اختلف الناس بعد وفاة النبي ﷺ في هذين السهمين سهم لرسول الله ﷺ وسهم لذوي القربى، فقالت طائفة: سهم رسول الله ﷺ للخليفة من بعده، وقالت طائفة: سهم (ذوي) (٢) القربى لقرابة الخليفة، فاجمعوا على ان يجعلوا هذين السهمين في الكراع وفي العدة في سبيل الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [ط، هـ]: (لذوي).
(٣) منقطع؛ محمد بن الحنفية لم يدرك عهد أبي بكر.

حضرت حسن بن محمد ابن الحنفیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دو حصوں سے متعلق لوگوں میں اختلاف ہوگیا، ایک اللہ کے رسول 5 کا حصہ اور ایک ذوی القربیٰ کے حصہ کے بارے میں ایک جماعت نے کہا: اللہ کے رسول 5 کا حصہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ کیلئے ہے اور دوسری جماعت نے کہا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کیلئے ہے، پھر سب حضرات نے اس پر اتفاق کرلیا کہ وہ ان دونوں حصوں کو گھوڑوں میں اور جہاد کی تیاری کیلئے خرچ کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35695، ترقيم محمد عوامة 34136)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34137 ترقیم الشثری: -- 35696
٣٥٦٩٦ - حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن عطاء بن السائب ان عمر بن عبد العزيز لما قام بعث بهذين السهمين سهم رسول الله ﷺ، وسهم ذوي القربى -يعني لبني هاشم.
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ بنے تو ان دونوں حصوں کو (اللہ کے رسول کا حصہ اور ذوی القربیٰ کا حصہ) بنو ہاشم کیلئے بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35696، ترقيم محمد عوامة 34137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34138 ترقیم الشثری: -- 35697
٣٥٦٩٧ - حدثنا وكيع عن (الحسن) (١) عن السدي، ﴿ولذي القربى﴾، قال: هم بنو عبد المطلب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (للحسن).
حضرت السدی فرماتے ہیں کہ ارشاد خدا وندی { وَلِذِی الْقُرْبَی } سے مراد بنو عبدالمطلب ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35697، ترقيم محمد عوامة 34138)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34139 ترقیم الشثری: -- 35698
٣٥٦٩٨ - حدثنا وكيع عن ابي معشر عن سعيد المقبري قال: كتب نجدة إلى ابن عباس يساله عن سهم ذوي القربى فكتب إليه ابن عباس: إنا (كنا) (١) نزعم انا (نحن) (٢) هم، فابى ذلك علينا قومنا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (كا).
(٢) في [جـ]: (حن).
(٣) ضعيف؛ لضعف أبي معشر، أخرجه ابن جرير في التفسير ١٠/ ٦، وابن شبه (١٠٦٣).

حضرت سعید المقبری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھ کر ذوی القربیٰ کے حصہ کے متعلق دریافت کیا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب تحریر فرمایا: ہم لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ہی وہ ہیں لیکن ہماری قوم نے ہم پر انکار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35698، ترقيم محمد عوامة 34139)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34140 ترقیم الشثری: -- 35699
٣٥٦٩٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن الحسن في هذه الآية: ﴿فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل﴾ [الحشر: ٧] ، قال: لم يعط اهل البيت بعد رسول الله ﷺ الخمس: (ابو بكر) (١) ولا عمر ولا غيرهما، فكانوا يرون ان ذلك إلى الإمام (يضعه) (٢) في سبيل الله وفي الفقراء حيث (اراه) (٣) الله (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (بعضه)، وفي [س]: (يقبضه).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (أراده).
(٤) منقطع ضعيف؛ أشعث ضعيف، والحسن لم يدرك أبا بكر وعمر.

حضرت حسن رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بیت کو حصہ نہیں دیا ان حضرات کا خیال تھا کہ یہ حصہ امام کے لیے ہے جس کو وہ اللہ کے راستہ میں خرچ کرے گا، اور فقراء میں خرچ کرے گا جہاں اللہ ان کی رہنمائی کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35699، ترقيم محمد عوامة 34140)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں