مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35244 ترقیم الشثری: -- 36818
٣٦٨١٨ - [حدثنا الفضل بن دكين عن ابي قدامة عن ابي عمران الجوني عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إن للعبد المؤمن في الجنة لخيمة من لؤلوة طولها ثلاثون ميلا، للعبد المؤمن فيها اهلون لا يرى بعضهم بعضا] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٢) حسن؛ أبو قدامة الحارث بن عبيد صدوق، والخبر أخرجه مسلم (٨٣٨).
حضرت ابوبکر بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں مومن کیلئے ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی تیس میل ہوگی، مومن کیلئے اس میں اس کے گھر والے ہوں گے، ان میں سے بعض بعض کو نہ دیکھیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36818، ترقيم محمد عوامة 35244)
ترقیم عوامۃ: 35245 ترقیم الشثری: -- 36819
٣٦٨١٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن ابي قدامة عن ابي عمران الجوني عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس قال: قال رسول الله ﷺ:"جنات الفردوس اربع اثنتان من ذهب حليتهما وآنيتهما وما فيهما وثنتان من فضة حليتهما وآنيتهما وما فيهما وليس بين القوم وبين ان ينظروا إلى ريهم إلا رداء الكبرياء على وجهه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل حسن؛ لحال ابن قدامة، وورد من حديث أبي بكر عن أبيه، أخرجه أحمد (١٩٧٣١)، والطيالسي (٥٢٩)، وعبد بن حميد (٥٤٥)، والدارمي (٢٨٢٢)، وأبو عوانة ١/ ١٥٧، وابن منده في الإيمان (٧٨١)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٣١٦، والبيهقي في البعث (٢٣٩)، وابن جرير ١٦/ ٣٧، وأصله عند البخاري (٤٨٧٨)، ومسلم (١٨٠).
حضرت ابوبکر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت الفردوس چار ہیں دو سونے کی ہیں اس کے زیور، اس کے برتن اور جو کچھ بھی اس میں ہے وہ سونے کا ہے اور دو چاندی کے ہیں اس کے زیور، اس کے برتن اور جو کچھ بھی ہے وہ چاندی کا ہے اور نہیں ہوگا لوگوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان مگر کبریائی کی چادر اس کے چہرہ پر ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36819]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36819، ترقيم محمد عوامة 35245)
ترقیم عوامۃ: 35246 ترقیم الشثری: -- 36820
٣٦٨٢٠ - حدثنا وكيع عن ابن فضالة عن لقمان بن عامر عن ابي امامة قال: سمعته يقول: ﴿جنات الفردوس نزلا﴾ [الكهف: ١٠٧] قال: سرة الجنة قال: وسط الجنة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال فرج بن فضالة.
حضرت ابو امامہ قرآن کریم کی آیت { جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جنت کے درمیان میں مہمان نوازی ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36820]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36820، ترقيم محمد عوامة 35246)
ترقیم عوامۃ: 35247 ترقیم الشثری: -- 36821
٣٦٨٢١ - حدثنا محمد بن عبيد عن الاعمش عن يزيد عن عبد الله بن الحارث عن كعب: ﴿جنات الفردوس نزلا﴾ قال: جنات الاعناب.
حضرت کعب قرآن کریم کی آیت { جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً } کے متعلق فرماتے ہیں جنت الاعناب مراد ہے۔ (انگوروں کے باغات) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36821]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36821، ترقيم محمد عوامة 35247)
ترقیم عوامۃ: 35248 ترقیم الشثری: -- 36822
٣٦٨٢٢ - [حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: يدخل اهل الجنة الجنة على صورة آدم في مثل طوله: ستون ذراعا، جرد مرد مكحلون، ابناء ثلاثة وثلاثين، نساؤهم ابكار، ورجالهم مرد] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب، جـ، ط، ع، هـ].
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جنتی جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت میں داخل ہوں گے، ساٹھ گز لمبا قد ہوگا، جسم پر بال نہ ہوں گے اور سرمہ لگا ہوگا ان کی عمریں تینتیس برس ہوں گی ان کی بیویاں باکرہ ہوں گی اور ان کے خاوندوں کے جسموں پر بال نہ ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36822، ترقيم محمد عوامة 35248)
ترقیم عوامۃ: 35249 ترقیم الشثری: -- 36823
٣٦٨٢٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: نخل الجنة جذوعها ذهب، و (كربها) (١) زمرد وياقوت، وسعفها حلل، يخرج الرطب امثالى القلال احلى من العسل وابيض من اللبن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (كرمها).
حضرت حسن سے مروی ہے کہ جنت کے کھجور کے درختوں کے تنے سونے کے اور اس کی جڑ زمرد اور یاقوت اور اس کے پتے زیور ہوں گے، کھجور ان درختوں سے گنبد کے برابر کھجور حاصل ہوگی جو شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36823، ترقيم محمد عوامة 35249)
ترقیم عوامۃ: 35250 ترقیم الشثری: -- 36824
٣٦٨٢٤ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن محمد بن زياد قال: سمعت ابا هريرة يحدث عن النبي ﷺ قال:"عجب الله من قوم جيء بهم في السلاسل حتى يدخلهم الجنة" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠١٠)، وأحمد ٢/ ٤٥٧ (٩٨٩٥)، وأبو داود (٢٦٧٠)، وابن حبان (١٣٤).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس قوم پر تعجب فرمائے گا جن کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا جائے گا یہاں تک کہ ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36824، ترقيم محمد عوامة 35250)
ترقیم عوامۃ: 35251 ترقیم الشثری: -- 36825
٣٦٨٢٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن مغيرة قال: قال حميد بن هلال: ذكر لنا ان الرجل إذا (ادخل) (١) الجنة (فصور) (٢) صورة اهل الجنة، والبس لباسهم، وحلي حليتهم، وراى ازواجه وخدمه ومساكنه في الجنة، فاخذه سوار فرح (٣) لو كان ينبغي (٤) ان يموت لمات، قال: فيقول: (ارايت) (٥) سوار فرحتك هذه فإنها قائمة لك ابدا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (دخل).
(٢) في [هـ]: (صور).
(٣) أي: دب فيه الفرح.
(٤) في [هـ]: زيادة (له).
(٥) سقط من: [أ، ب].
حضرت حمید بن ہلال سے مروی ہے کہ جنتی شخص جب جنت میں داخل ہوگا اس کو جنتیوں کی صورت دی جائے گی، اور ان کا لباس اس کو پہنایا جائے گا، اور جنتیوں والا زیور پہنایا جائے گا وہ اپنی بیویوں کو، خدمت گاروں کو اور رہائش گاہ کو جنت میں دیکھے گا، اس پر خوشی کا خمار سوار ہوجائے گا اگر اس کیلئے مرنا ممکن ہو، تو وہ اس خوشی کی وجہ سے مرجاتا، اس کو کہا جائے گا، کیا تو نے اپنی خوشی کی انتہا دیکھ لی، یہ خوشی ہمیشہ تیرے لیے رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36825، ترقيم محمد عوامة 35251)
ترقیم عوامۃ: 35252 ترقیم الشثری: -- 36826
٣٦٨٢٦ - حدثنا عفان (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ قال:"إن لاهل الجنة سوقا ياتونها كل جمعة فيها كثبان المسك، فإذا خرجوا إليها هبت ريح -قال: حماد احسبه قال-: شمال فتملا وجوههم (وثيابهم) (٢) وبيوتهم مسكا فيزدادون حسنا وجمالا، (قال: فياتون اهليهم فيقولون لهن: لقد ازددتم بعدنا حسنا وجمالا ويقلن لهم: وانتم قد زددتم بعدنا حسنا وجمالا) (٣) " (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال: حدثنا عفان).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٣٣)، وأحمد (١٤٠٣٥).
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جنت میں جنتیوں کا ایک بازار ہوگا وہ جمعہ کے دن وہاں آئیں گے، وہاں پر مشک کے ٹیلے ہوں گے جب وہ اس کی طرف آئیں گے تو ہوا چلے گی، حضرت حماد فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ شمال ہوگی، ان کے چہرے ان کے کپڑے اور گھر مشک سے بھر جائیں گے، ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہوجائے گا، پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئیں گے، اور گھر والوں سے کہیں گے کہ ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوگیا ہے، ان کے گھر والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے حسن و جمال میں بھی ہمارے بعد اضافہ ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36826، ترقيم محمد عوامة 35252)
ترقیم عوامۃ: 35253 ترقیم الشثری: -- 36827
٣٦٨٢٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة الاشجعي عن عكرمة عن ابن عباس قال: سالت كعبا ما سدرة المنتهى؟ فقال: سدرة ينتهي إليها علم الملائكة، وعندها يجدون امر الله لا يجاوزها (علم) (١) ، وسالته عن جنة الماوى فقال: جنة فيها طير خضر ترتقي فيها ارواح الشهداء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (علمهم).
(٢) صحيح؛ إلى ابن عباس ﵁.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب سے دریافت کیا سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟ حضرت کعب نے فرمایا: وہ ایک درخت ہے یہاں پر ملائکہ کا علم ختم ہوجاتا ہے وہاں وہ ا ﷲکا حکم پاتے ہیں وہاں سے ان کا علم تجاوز نہیں کرتا، میں نے ان سے جنت الماوی کے متعلق دریافت کیا؟ حضرت کعب فرمایا: وہ جنت ہے جس میں سبز پرندے ہیں جس میں شہداء کی روحیں جاتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36827، ترقيم محمد عوامة 35253)