مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35234 ترقیم الشثری: -- 36808
٣٦٨٠٨ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن ابي عبيدة عن عائشة قالت: الكوثر نهر بفناء الجنة، شاطئاه در مجوف، وفيه من الاباريق والآنية عدد النجوم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٦٥)، وأحمد (٢٦٤٠٣).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کوثر جنت کے کنارے میں ایک نہر ہے اس کے کناروں پر موتی ہیں اور اس میں برتن ہیں اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36808]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36808، ترقيم محمد عوامة 35234)
ترقیم عوامۃ: 35235 ترقیم الشثری: -- 36809
٣٦٨٠٩ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن حبيب بن ابي مرزوق عن عطاء ابن ابي رباح عن ابي مسلم الخولاني عن معاذ بن جبل وعبادة بن الصامت قالا: سمعنا رسول الله ﷺ يحكي عن ربه يقول:"حقت محبتي على المتحابين في، وحقت محبتي على المتباذلين في، وحقت محبتي على المتزاورين في، والمتحابون في الله على منابر من نور في ظل العرش يوم لا ظل إلا ظله" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٢٠٦٤)، والترمذي (٢٣٩٠)، والحاكم ٤/ ١٧٠، والطيالسي (٥٧١)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٨٩٥)، والشاشي (١٣٨٢)، والطبراني ٢٠/ (١٤٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٢٠٦، وابن قانع ٣/ ٢٥، والبزار (٢٦٧٢)، والمزي ٣٤/ ٢٩٢.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری محبت ان پر لازم ہیں جو میرے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں میری محبت لازم ہے ان کیلئے جو میرے لیے آپس میں خرچ کرتے ہیں اور میری محبت لازم ہے ان کیلئے جو میرے لیے آپس میں ملاقات کرتے ہیں اللہ کیلئے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے نور کے منبروں پر ہوں گے جس دن اس کے عرش کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36809]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36809، ترقيم محمد عوامة 35235)
ترقیم عوامۃ: 35236 ترقیم الشثری: -- 36810
٣٦٨١٠ - (حدثنا) (١) عبد الله بن نمير عن حميد بن عطاء عن عبد الله بن الحارث عن ابن مسعود عن النبي ﷺ قال:"المتحابون في الله على عمود من ياقوتة ⦗١٧٧⦘ حمراء، في راس العمود سبعون الف غرفة، مشرفون على اهل الجنة، (٢) إذا اطلع احدهم ملا حسنه بيوت اهل الجنة، كما تملا الشمس بضوئها بيوت اهل الدنيا، قال: فيقول اهل الجنة: اخرجوا بنا إلى المتحابين في الله، قال: فيخرجون فينظرون في وجوههم مثل القمر ليلة البدر عليهم ثياب خضر، مكتوب في (وجوههم) (٣) : هؤلاء المتحابون في الله" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في: [هـ] زيادة (و).
(٣) في [ك]: (جباهم).
(٤) ضعيف؛ لضعف حميد بن عطاء، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٤١٦)، وأبو يعلى كما في المطالب (٢/ ٢٧٥٨)، وابن عدي ٢/ ٢٧٣، وابن أبي الدنيا في الإخوان (١٠)، وابن قدامة في المتحابين في اللَّه (٢٧).
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: اللہ کیلئے محبت کرنے والے قیامت کے دن سرخ یا قوت کے ستونوں پر ہوں گے ستون کے اوپر ستر ہزار کمرے ہوں گے جنتیوں پر جھانکیں گے جب ان میں سے کوئی جھانکے گا تو اس کے حسن سے جنتیوں کے گھر بھر جائیں گے جیسے سورج کی روشنی دنیا والوں کے گھروں کو بھر دیتی ہے پھر ایک جنتی کہے گا اللہ کیلئے آپس میں محبت کرنے والوں کو ہمارے سامنے لاؤ پھر ان کو نکالا جائے گا وہ ان کے چہروں کو دیکھیں گے جیسے چودہویں رات کا چاند ہو ان پر سبز رنگ کا لباس ہوگا، ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کیلئے آپس میں محبت کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36810]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36810، ترقيم محمد عوامة 35236)
ترقیم عوامۃ: 35237 ترقیم الشثری: -- 36811
٣٦٨١١ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد (العمي) (١) عن ابي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن ابي ذر (قال) (٢) : قلت يا رسول الله ما آنية الحوض؟ قال:"والذي نفسي بيده لانيته اكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في الليلة المظلمة المصحية، من شرب منها لم يظما، عرضه (٣) ما بين عثمان إلى إيلة، ماؤه اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في: [هـ] زيادة (مثل طوله).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠٠)، وأحمد (٢١٣٢٧).
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم 5 سے دریافت کیا اے اللہ کے نبی 5! حوض کوثر کے برتن کیا ہوں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں اور اس کے ستارے سے اندھیری رات میں، جو اس میں سے پیے گا اس کو دوبارہ پیاس نہ لگے گی اس کی چوڑائی عمان سے ایلہ تک ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36811]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36811، ترقيم محمد عوامة 35237)
ترقیم عوامۃ: 35238 ترقیم الشثری: -- 36812
٣٦٨١٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن سالم بن ابي الجعد عن معدان بن ابي طلحة اليعمري عن ثوبان ان النبي ﷺ سئل عن سعة الحوض، فقال:" (هو) (١) ما بين مقامي هذا إلى عثمان ما بينهما شهر او نحو ذلك"، فسئل رسول الله ﷺ عن شرابه، فقال:"اشد بياضا من اللبن واحلى من ⦗١٧٨⦘ العسل، (يعب) (٢) فيه ميزابان مداده او مدادهما من الجنة، احدهما ورق والآخر ذهب" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في: [هـ] (يصب)، وفي [أ]: (بعث).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠١)، وأحمد (٢٢٤٤٧).
حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حوض کوثر کی چوڑائی کے متعلق دریافت کیا گیا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس کی چوڑائی یہاں سے لے کر عمان تک ہے اس کا درمیانی فاصلہ ایک مہینہ یا اس جتنا ہے آپ سے اس کے پانی کے متعلق دریافت کیا گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36812]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36812، ترقيم محمد عوامة 35238)
ترقیم عوامۃ: 35239 ترقیم الشثری: -- 36813
٣٦٨١٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن ابي زائدة عن عطية عن ابي سعيد ان النبي ﷺ قال:"إن لي حوضا طوله ما بين الكعبة إلى بيت المقدس، ابيض (مثل) (١) اللبن، آنيته عدد النجوم، وإني (لاكثر) (٢) الانبياء تبعا يوم القيامة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (من).
(٢) في: [هـ] (أكثر).
(٣) ضعيف؛ لحال عطية العوفي، أخرجه ابن ماجة (٤٣٠١)، وعبد بن حميد (٩٠٤)، وأبو يعلى (١٠٢٨)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٢٣)، وبقي بن مخلد في الحوض (٣)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ١٤٥، واللالكائي في اعتقاد أهل السنة (٢١١٨).
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: بیشک جنت میں میرے لیے ایک حوض ہے جس کی لمبائی کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک ہے، دودھ کی طرح سفید ہے اس کے برتن ستاروں کی بقدر ہیں اور بیشک قیامت کے دن میرے متبعین دیگر انبیاء سے زیادہ ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36813]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36813، ترقيم محمد عوامة 35239)
ترقیم عوامۃ: 35240 ترقیم الشثری: -- 36814
٣٦٨١٤ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حميد عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"دخلت الجنة فإذا انا بنهر يجري، حافتاه خيام اللؤلو، قال: فضربت بيدي (١) الطين فإذا مسك اذفر فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: الكوثر الذي اعطاك الله" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: [هـ] زيادة (إلى).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٠٠٨)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٦)، وابن حبان (٦٤٧٣)، والحاكم ١/ ٧٩، وأبو يعلى (٣٨٢٣)، والبغوي (٤٣٤٣)، وهناد في الزهد (١٣٤)، والآجري في الشريعة (ص ٣٩٦)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٦١٢)، وأبو نعيم في صفة الجنة (٣٢٧)، والخطيب ١١/ ٤٥.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں ایک بہتی ہوئی نہر پر آیا جس کے کنارے موتیوں کے تھے، میں نے اپنا ہاتھ مٹی پر مارا تو وہ تیز خوشبو والی مشک تھی، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ حوض کوثر ہے جو اللہ آپ کو عطا فرمائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36814]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36814، ترقيم محمد عوامة 35240)
ترقیم عوامۃ: 35241 ترقیم الشثری: -- 36815
٣٦٨١٥ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق، عن عبد الله قال: انهار الجنة تفجر من جبل من مسك (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ جنت کی نہریں مشک کے پہاڑ سے جاری ہوتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36815]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36815، ترقيم محمد عوامة 35241)
ترقیم عوامۃ: 35242 ترقیم الشثری: -- 36816
٣٦٨١٦ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد (عن) (١) سعد الطائي قال: اخبرت ان الله لما خلق الجنة قال لها: تزيني، فتزينت، ثم قال: تكلمي، فقالت: طوبى لمن رضيت عنه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (من).
حضرت سعد الطائی سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا: میرے لیے مزین ہوجا، وہ مزین ہوگئی پھر اس کو فرمایا میرے لیے مزین ہوجا وہ مزین ہوگی پھر اس سے فرمایا میرے سے کلام کر جنت نے کہا: خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جس سے آپ راضی ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36816]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36816، ترقيم محمد عوامة 35242)
ترقیم عوامۃ: 35243 ترقیم الشثری: -- 36817
٣٦٨١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الاعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد ابن جبير (و) (١) عن عبد الله بن الحارث عن ابن عباس قال: قال نبي من الانبياء: اللهم العبد من عبيدك يعبدك ويطيعك ويجتنب سخطك، تزوي عنه الدنيا وتعرض له البلاء، والعبد يعبد غيرك ويعمل بمعاصيك فتعرض له الدنيا وتزوي عنه البلاء، قال: فاوحى الله إليه إن العباد و (البلاد) (٢) لي، كل يسبح بحمدي، فاما عبدي المؤمن فتكون له سيئات فإنما اعرض له البلاء وازوي عنه الدنيا، (فتكون كفارة لسيئاته، واجزيه إذا لقيني، واما عبدي الكافر فتكون له الحسنات فازوي عنه البلاء واعرض له الدنيا فتكون) (٣) جزاء لحسناته واجزيه سيئاته حين يلقاني (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) في [هـ]: (البلاء).
(٣) ما بين القوسين سقط من: [ب].
(٤) صحيح؛ وورد مرفوعًا، أخرجه الطبراني (١٢٧٣٥)، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٢٣.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے اللہ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ تیری عبادت کرتا ہے تیری اطاعت کرتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے بچتا ہے، آپ دنیا کو اس سے دور کر کے مصائب اس کے قریب فرما دیتے ہیں اور وہ بندہ جو تیرے غیر کی پوجا کرتا ہے اور تیرے نافرمانی والے اعمال کرتا ہے آپ دنیا اس کے قریب اور مصائب کو اس سے دور کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ سب بندے اور شہر میرے ہیں سب میری تسبیح کرتے ہیں بہر حال مومن بندہ، اس کے کچھ گناہ بھی ہوتے ہیں میں مصائب کو اس کو قریب کر کے دنیا کو اس سے دور کردیتا ہوں وہ اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور جب وہ میرے پاس آئے گا میں اس کو بدلہ دوں گا اور میرا کافر بندہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہوتی ہیں میں بلاؤں کو اس سے دور اور دنیا کو قریب کردیتا ہوں وہ اس کی نیکیوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں اور میں اس کے گناہوں کی سزا اس کو تب دوں گا جب وہ میرے پاس آئے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36817]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36817، ترقيم محمد عوامة 35243)